وقت آ گیا قطر دہشت گردی کی معاونت روک دے : ٹرمپ‘ دوحہ سے فٹبال ورلڈکپ 2020 ءکی میزبانی واپس لی جائے : خلیجی ممالک

17 جولائی 2017

واشنگٹن(آن لائن+بی بی سی )واشنگٹن (آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر قطر کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی امریکہ کی مجبوری نہیں،خطے کے کئی دوسرے ممالک اپنے ہاں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کیلئے تیار ہیں۔امریکی ٹیلی ویژن سی بی این کو انٹرویو میںاب وقت آگیا ہے قطر دہشت گردی کی معاونت فوری طور پر روک دے۔ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے قطر کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہیں۔ اگر امریکہ مجبور ہوا تو دوحہ میں فوجی اڈا ختم کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردوں کا پیٹ بھرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے والے ممالک کو اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔ وحشی کو بھوکا رکھ کر اسے ختم کرنا ہوگا۔ دہشت گردی وحشت ہے اور اسکی مالی معاونت کا کوئی جواز نہیں۔ دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کرکے قطر سے تعلقات منقطع کرنے والے6خلیجی ممالک نے فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ 2022ءکی میزبانی قطر سے واپس لے۔ سعودی عرب، یمن، موریطانیہ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے مشترکہ طور پر فیفا کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس سے مطالبہ کیا کہ وہ فیفا کوڈ کے آرٹیکل 85کے تحت قطر سے میزبانی چھپنے جس کے تحت ہنگامی صورتحال میں اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے فیفا کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ فیفا قطر 2022ءکی مقامی آرگنائز کمیٹی اور سپریم کمیٹی سے مسلسل رابطے میں ہے جس کا مقصد 2022ءمیں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بہترین انعقاد ممکن بنانا ہے۔سعودی عرب نے قطر کو 13 شرائط ماننے کیلئے کہا تھا جن میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اتحاد ختم کرنے سے لیکر الجزیرہ ٹی وی کی بندش شامل تھی۔ ادھر قطر نے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور وہ اپنی ضروریات کا سامان ایران اور ترکی سے درآمد کر رہا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ جس مقصد کے ساتھ عرب ممالک نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کیے تھے وہ الٹا اثر کرنے لگے ہیں۔سعودی عرب کے قطر سے رشتے ختم کرنے کے بعد ترکی اور ایران اس کی مدد کیلئے سامنے آگئے۔ اسکی وجہ سے ایک طرف تو ایران کے کاروبار کو فائدہ ہوا وہیں دوحہ اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات بھی اچھے ہونے لگے۔جارج ٹاو¿ن یونیورسٹی کے پروفیسر رورے ملر کے مطابق قطر پر پابندی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای نے جس اتحاد کے تحت ساحلی علاقے میں اپنی اجارہ داری جمانے کی کوشش کی تھی، اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے برعکس ترکی نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر لیے ہیں۔ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے بعد قطر کیخلاف اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔لندن میں رائل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں جزیرہ نما عرب کے ماہر پیٹر سیلسبری کے خیال میں حالات کو بہت بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے۔ان کے مطابق سعودی عرب کو اپنی منصوبہ بندی میں زیادہ کامیابی نہیں ملی لیکن یہ کہنا کہ قطر اور ایران انتہائی قریب آ گئے ہیں، یہ بھی مکمل حقیقت نہیں ہے۔