محکمہ جنگلات کے سیری کلچر میں غیرقانونی ڈی ایف اوز کی تعیناتیاں‘ شعبہ کو بھاری نقصان

17 جولائی 2017

لاہور (چودھری اشرف) محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے سیری کلچر کے شعبہ میں گزشتہ چار سال سے غیر قانونی ڈی ایف اوز کی تعیناتیوں سے شعبہ کو بھاری نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اس کے ساتھ سیری کلچر میں تعینات افسران کی ترقی کا عمل رک گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چار سال سے سیری کلچر میں اس شعبہ کی بجائے دیگر شعبوں کے افسران کی ملی بھگت سے تعیناتی کی جا رہی تھی۔ سیکرٹری جنگلات نے محکمہ جنگلات کے سیری کلچر شعبہ میں تین ماہ قبل غیر قانونی طور پر ڈی ایف او لاہور قاضی خالد محمود کو ڈپٹی ڈائریکٹر سیری کلچر کا اضافی چارج دیدیا تھا جس کے خلاف سیری کلچر کے ملازمین نے لاہور ہائیکورٹ میں سیکرٹری جنگلات کے احکامات کو چیلنج کر دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری جنگلات نے تمام معاملہ پر پردہ ڈالنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں شعبہ سیری کلچر کے سینئر افسر چودھری محمد سرور کے بطور ڈپٹی ڈائریکٹر سیری کلچر تعیناتی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جنہیں تاحال شعبہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا چارج نہیں دیا گیا ہے۔ قاضی خالد محمود جن کے پاس ڈی ایف او لاہور کے علاوہ سیری کلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا اضافی چارج ہے ان سے قبل چار سالوں میں اس عہدہ پر کامران بابر اور محمود احمد رانا کی بھی غیر قانونی تعیناتی کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سیری کلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر غلام صابر 31 دسمبر 2013ء کو ریٹائر ہو گئے تھے جس کے بعد محکمہ جنگلات کے چند افسران نے ملی بھگت کر کے سیری کلچر کے شعبہ پر بھی اپنے افسران کو تعینات کروانا شروع کر دیا تھا۔ سیکرٹری جنگلات سے اس سلسلہ میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی‘ تاہم ان کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔