”بڑھتے عوامی مسائل “

17 جولائی 2017

53" ہزار" کے قریب اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے والی پاکستان سٹاک مارکیٹ ”17 فیصد“ نیچے گرنے سے ایشیا کی سستی ترین مارکیٹ میں شامل ہوگئی وجہ سیاسی ہلچل گراوٹ۔
”معزز قارئین“۔ یہ صرف پاکستان نہیں پوری ”دنیا“ کا تجارتی چلن ہے۔ معمول ہے ہلکا سا ”ٹویٹ“ پورے اقتصادی نظام کو ہلا دیتا ہے مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ”سیاسی اشرافیہ“ کے اثاثے ہمیشہ عروج کی طرف جاتے ہیں۔ "زوال "جیسے لفظ سے ابدی نا آشنا بڑھتے رہتے ہیں۔ کبھی کِسی نے سُنا کہ سیاسی انتشار سے فلاں "جاگیردار" کی زمین کی قیمت گر گئی۔ فلاں "سیاسی شخصیت" کی فلور مل کا آٹا فروخت نہ ہوسکا۔ فلاں سیاستدان کی شوگر ملز گنا نہ ملنے پر بند ہوگئی۔ نہیں کبھی نہیں سُنا۔ اقتصادی اُتار چڑھاﺅ پوری دنیا میں ایک مسلسل جاری عمل ہے مگر کہیں بھی ایسا نہیںدیکھا گیا کہ کرپشن پر گرفت ہونے یا نالائقی کی بنا پر نکلنے یا نکالے جانے پر آہ و بکا مچ جائے۔ دھمکیاں دی جائیں اپنے ہی ملک کے اداروں کو ربع صدی سے زائد حکومتی جُھولے میں جُھولنے کے باوجود۔ اب بھی مدت میں چند ماہ باقی ہیں۔ یہ حال کہ طبلِ جنگ بجا دیا۔ "میں" نہیں کچھ بھی نہیں والی کیفیت ہے جبکہ اِس ملک میں تو "اشرافیہ "کے علاوہ سبھی مٹنے کے قریب ہے بلوچستان میں 50 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں صحت و تعلیم کی صورتحال انتہائی مایوس کن جبکہ بر آمدات گھٹ رہی ہیں ؟ دیہی علاقوں میں غربت 36" فیصد "ہے۔
پاکستان میں "سیاست گردی" کے علاوہ کِسی کی عزت، مرتبہ ہی نہیں۔ 300" "کے قریب لوگ راکھ بن گئے" ادارے "شوکاز نوٹس" کا کھیل کھیلنے میں مست "چیف جسٹس ہائیکورٹ " نوٹس لیکر کہنے پر مجبور ہوئے کہ حکومت سوئی پڑی ہے۔ صرف ایک "حادثہ "ہی کیا۔ یہاں معاملات لٹکانے کا عمل اتنا گھمبیر ہو چکا ہے کہ زیادہ تر مقدمات میں ریاست" مجرم" کے طور پیش ہو رہی ہے اسلئیے کہ وہ شہریوں کی بابت اپنے فرائض ادا کرنے میں کلیتاً ناکام ہو چکی ہے۔ ایسا نہیں کہ کام پہنچ سے باہر ہیں بلکہ سارا کھیل "نیت "کا ہے۔
پورے پاکستان کا تو نہیں معلوم "پنجاب" میں 6" ماہ "کے دوران آتشزدگی کے"10867" واقعات ہونے کی رپورٹ سامنے دھری ہے۔ ظاہر ہے ہلاکتوں کی تعداد بھی زیادہ ہوگی۔ تشویش ناک پہلو کہ صرف" لاہور" میں"2400" واقعات رونما ہوئے کہیں کیمیکل، موم بتی، سلوشن، کہیں ایل پی جی سلنڈر، سوئی گیس لکیج حکومت اکیلی ذمہ دار نہیں۔ حکومت کا کام وسائل فراہم کرنا، قوانین بنانا، پالیسی لائینزترتیب دینا جبکہ اہلکار عمل درآمد کے پابند ہیں۔ اب اگر سب موجود ہے تو کوتاہی کیوں؟ لاپرواہی کے مرتکب عوام یا ادارے جو بھی ہیں ایک مرتبہ کیفر کردار کو پہنچ گئے تو دوبارہ قانون شکنی۔ نالائقی کی جرات کوئی نہیں کرے گا۔
ایسے مسائل جو نچلی سطح پر حل ہوتے ہیں اسلئیے معلق ہیں کہ" عدالتِ عظمیٰ "کے حکم پر بادل نخواستہ" بلدیاتی الیکشن" تو کروا دئیے مگر2سال گزر گئے۔ نمائندے مالیاتی، انتظامی اختیارات سے محروم ہیں۔ اب دوبارہ" بڑی عدالت" نوٹس لے تو شاید۔ ”عدالت عظمیٰ“اِس معاملہ کا بھی ضرور نوٹس لے کہ صوبہ پنجاب کے6" بڑے شہر" سیکورٹی ٹھیکہ کے نام پر امریکہ میں سزا یافتہ چینی کمپنی کی تحویل میں جا رہے ہیں۔ شفافیت اور ایمانداری کے دعوے بھک سے اُڑا دینے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا مطالبہ نہیں بلکہ عوام چاہتی ہے کہ اب" غریبوں" والا سلوک اشرافیہ، انتظامی اہلکاروں کے ساتھ بھی ہو۔
ہمیں یقین نہیں آیا یہ خبر پڑھ کر کہ" وزیراعلیٰ ہاو¾س" نے مہمانوں کی خاطر مدارت، تفریح، تحائف کے نام پر مختص بجٹ سے22" کروڑ روپے" زائد خرچ کر ڈالے، سادگی، عوام کے مسائل کے حل میں مٹی کے ساتھ مٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والے" خادمِ اعلیٰ پنجاب" اِس ظالمانہ ڈکیتی کا ضرور نوٹس لیں۔
"اعلیٰ ایوانوں سے لیکر سرکاری "دفاتر تک انتہائی حد تک غفلت شعاری کا شکار ہیں۔ اِس مربتہ سیلابی سیزن میں دریاو¾ں میں15"کروڑ ایکٹر فٹ" سے زائد پانی کی آمد متوقع تھی۔ اِس کی مالیت 30" ارب ڈالر" بنتی ہے جو آجکل گلی کوچوں میں ضائع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ چھتیں، دیواریں، عمارتیں گر رہی ہیں (ناقص تعمیراتی میٹریل باعث سہی ) لوگ مر رہے ہیں مگر اِن سیلابی ریلوں کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی طرف توجہ نہیں۔ ہر محکمہ، ہر ادارہ محدود صلاحیت، ناقص حکمت عملی کے موذی مرض کا شکار ہے۔ پچھلے 5 برسوں میں صرف ”سیلاب“سے معیشت کو45" ارب "ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے مگر ہم ذخیرہ آب بڑھانے کا سوچ ہی نہیں رہے۔ کیونکہ ہماری نیت نہیں۔ ارادہ نہیں ہم قومی بھلائی کے ہر منصوبے پر اپنے ذاتی مفاد کی تختی کے علاوہ کچھ پسند ہی نہیں کرتے۔ عوام کا تعلق ہے جہاں تک۔ وہ جائے بھاڑ میں جبکہ ہم تو اِسی دنیا میں" جہنم" جیسے حال سے گُزر رہے ہیں۔ ”دجال“ جیسے فتنوں کو بُھگت رہے ہیں۔ ”گینگ مافیا فیز“ میں جی رہے ہیں۔ عوامی بہبود کے مراکز سے اُونچے محلات تک اِن کے نرغہ میں ہیں۔ کوئی سٹرک پر دندناتے پھرتے ہیں۔ کچھ گھروں میں گُھس کر ڈکیتیاں کرتے ہیں۔ زیادہ تر گرفت سے ماوراءہیں کیونکہ پکڑنے والوں کے اپنے مفادات ہیں۔ کِسی کی روٹی۔ پانی لگی ہے کوئی سرپرست ہے جو بڑے" سر پرستوں "سے خائف، مرعوب، خوفزدہ ، اسلئیے ایکشن نہیں لیا جاتا۔ ظلم نہیں صرف چند گھنٹوں میں"چاول ، مرغی ، انڈے، اناج "کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، متعلقہ محکمے ہو ش میں آئیں۔
"D.H.A" لاہور سے ایک بزرگ محترم قاری کوثر خان صاحب چیئرمین ڈی ایچ اے کی توجہ ایک مسئلے کی طرف مبذول کرواتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "LUMS" فیز 5 سے فیز 4 کی طرف جانے والا ”گندہ نالا“ مکمل طور پر "un-covered" ہے جو رہائشیوں کے لیے نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کررہا ہے بلکہ ماحولیات کی آلودگی میں اضافہ کے علاوہ گھروں میںموجود بجلی کا سامان خراب ہو رہا ہے۔ اِس کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمت اور کرائے بھی بہت کم ہو چکے ہیں۔ اتھارٹی کی ذمہ داری ہے کہ اپنے رہائشیوں کا پورا خیال رکھے۔ ”کینٹ بورڈ اورسٹی کیپٹل اتھارٹی“ اِس بابت بہت فعال ہے۔ بطور”چیئرمین“ آپ گندے نالے کے متذکرہ بالا حصہ کو کور کرنے کا حکم جاری کریں۔ ہم مشکور ہونگے۔