ہمیں’’آزادی‘‘ کی قدر ہی نہیں

17 جولائی 2017

15جولائی کی رات ہمارے ملک کی بہت سی مساجد میں ترک قوم سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ بہت جگہوں پر درود و سلام کی پر کیف محفلیں منعقد کی گئیں۔ترکی ہمارا سب سے پرانا اور قابل اعتماد دوست ملک ہے۔ اس کے علا وہ ترکی ہی وہ واحد ملک ہے جو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آواز بلند کرتا رہتا ہے۔ ترکی کے بعد پاکستان ایک ایسا مسلم ملک ہے۔ جس کی طرف مظلوم مسلمان فریادی نظروں سے دیکھا کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی استعداد کے مطابق مسلم امہ کی مدد کرنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ مسلمان ملکوں میں طاقت کے لحاظ سے پاکستان یقینا سب سے مضبوط ترین ملک ہے۔ واحد اسلامی ایٹمی طاقت بھی پاکستان ہی ہے۔ زمانہ امن میں ہماری افواج اندرون ملک ہر طرح کے مصائب میں قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ سیلاب آجائے ,یا کہیں آگ لگ جائے۔ الیکشن ڈیوٹیاں ہوں, مردم شماری ہو,بھتہ خوری کا خاتمہ ہو یا ملک میں دوسرے جرائم ہماری پاک فوج ہر وقت ہر جگہ وطن کے لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہوتی ہے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس۔ مکمل تربیت یافتہ فوج جو ہماری طاقت ہے۔ جس کے بل بوتے ہم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن ملک کو تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔ ہمارا دشمن ہماری اسی طاقت کو ہمارے اپنے مسترد شدہ سیاست دانوں کے زریعے اقتدار کی راہ دکھانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ووٹ کی طاقت سے حاصل کیے گئے اس ملک میں جمہوریت کبھی مضبوط ہونے دی ہی نہیں گئی ہے۔ اقتدار پر شب خون مارنے کی عادت نے ہمیں کمزور کرنا شروع کردیا۔ جنرل ایوب خان کے طویل ترین مارشل لا نے ہی ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا عمل آسان بنایا۔ اگر جمہوری رویوں کو پروان چڑھایا جاتا۔ عوام کے منتخب لوگوں کو اقتدار منتقل کرنے کا مستقل عمل جاری رہتا۔ تو ہوسکتا ہے یہ ملک دو ٹکڑوں میں نہ تقسیم ہو تا۔ جب بھٹو مسلم دنیا کے ساتھ مل کے اسلامی اتحاد قائم کر رہے تھے۔ تو ہمارے دشمنوں نے زولفقار علی بھٹو کو خود ساختہ کیسوں میں الجھا کے پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ مسلم امہ کی ترقی کا سفر شروع ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ جنرل ضیا نے اپنے دور ِ اقتدار میں ملک کو اسلحے اور نشے کا گڑھ بنادیا۔ بینظیر بھٹو جب ایک لمبی جلاوطنی کے بعد ملک واپس آئی تھیں۔ عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ مگر وہ اپنی حکومت پوری کرنے کے لیے بہت سی بیساکھیوں کی محتاج رہیں۔ انہیں وطن دشمن تک کہا گیا۔ اقتدار نواز شریف کے پاس پہنچا تو انہیں بھی کام کرنے سے روکا جاتا رہا۔ ہم نے طویل عرصہ فوجی آمریت میں گزارا ہوا ہے۔ فوجی آمریت میں ملک ترقی کرنے نہ کرے چند مسترد شدہ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں ضرور پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سے ہی ہماری بدقسمتی کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ وطن ِ عزیز میں نواز شریف کو بھارت کا قریبی دوست کہا جاتا ہے۔ پڑوسی ملک سے دوستی بنا کے رکھنا ہر کسی کے لیے فائدے مند ہوتا ہے۔ مگر یہ دوستی ملکی مفاد کے عوض نہیں ہونی چاہیے۔ جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے۔تودنیا بھر کا پریشر پاکستان حکومت پر تھا۔ دنیا کے دوغلے ملک پاکستان کو لالی پاپ سے بھلا رہے تھے۔ مگر اللہ نے یہ عزت نواز شریف حکومت کے حصے میں لکھی تھی۔ پس نواز شریف نے جواباً ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف دشمن کا للکارا بلکہ دنیا کے سامنے پہلی اسلامی ایٹمی طاقت کی حثیت سے خود کو منوا لیا۔ نواز شریف کی اس وطن دوستی کا صلہ جنرل مشرف کے ہاتھوں ان کی حکومت کا تختہ الٹوا کے انہیں دے دیا گیا۔ بزورِ شمشیر ان سے جلاوطنی کے پروانوں پر دستخط بھی کروالیے گئے۔ مگر عوام کے دلوں سے ان کی محبت کم نہ کی جاسکی۔ جنرل مشرف کے دور میں بلوچستان کے لوگوں کا جینا مشکل بنا دیا گیا۔ جن کے ساتھ پیار سے بات کرنا تھی انہیں بندوق سے اڑا دیا گیا۔ نتیجہ بلوچستان کے بہت سے نوجوان دشمن طاقتوں کے آلہ کار بنتے چلے گئے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بلوچستان میں حکومت ِ پاکستان کے لیے صرف مشکلات ہی مشکلات پیدا ہوچکی تھیں۔یہ عز ت بھی اللہ پاک نے نواز شریف کے حصے میں ہی لکھی تھی کہ آج انہی کے دور میں بلوچستان دوبارہ قومی دھارے میں شامل ہوچکا ہے۔ ہتھیار بند نوجوان ہتھیار پاک فوج کے سامنے پھینک رہے ہیں۔ دوبارہ ملکی ترقی میں شامل ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں امن بحال ہونا شروع ہواتو سی پیک پر کام کی رفتار تیز سے تیز ہونے لگی۔ بھارت پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ کی دھمکیوں پر اتر آیا۔ اس کے جاسوس بلوچستان میں اپنے مکروہ عزائم لیے کام کر رہے تھے۔ مگر نواز شریف کی حکومت کو اللہ نے یہاں بھی عزت دی۔ نہ صرف بھارتی جاسوس بے نقاب ہونے لگے۔ بلکہ دنیا کو سی پیک کی اہمیت کا احساس کچھ اس طرح سے ہوا کہ روس سمیت دوسرے بہت سے ملکوں نے اس منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ پہلی مرتبہ روسی فوجیں پاک فوج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرنے ہمارے وطن پہنچ گئیں۔یہ سب نواز شریف کی حکومت میں ہی ممکن ہوا۔ امریکہ اور بھارت جس طرح سی پیک کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اگر نواز شریف کی ان سے دوستی ملک سے بڑھ کے ہوتی تو پھر یہ سب کیسے ممکن ہو پاتا ؟شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن ہو یا کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانا۔ الطاف حسین کی کراچی کی سیاست سے علیحدگی ہونا۔ یہ سب نواز شریف کی حکومت میں ہی ہوپایا۔ سیاست دانوں پر الزامات لگتے رہے ہیں۔ کیا ستم ہے کہ ہمارے ایک دوست چند روز پہلے فرما رہے تھے کہ اس وقت صرف آصف علی زرداری ہی وہ واحد سیاست دان ہیں جن پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں چل رہا ہے۔ ملک دشمن کو پتہ ہے کہ جس تیزی سے نواز شریف ترقیاتی منصوبے مکمل کروا رہا ہے۔ اگلے الیکشن میں یہ جماعت ایک بار پھر بھاری اکثریت سے جیت جائے گی۔ یہ ملک اندھیروں سے نکل کے روشنیوں کا مسافر بن جائے گا۔ اسی لیے ایک بار پھر نواز شریف حکومت کے خاتمے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔مخالف جماعتوں کو الیکشن میں اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے۔ اس لئے وہ ایمپائر سے امید لگائے ہوئے ہیں۔ مگر آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ایمپائر کے غلط فیصلوں کے امکانا ت کم سے کم ہو رہے ہیں۔آج کا ایمپائر درست فیصلے کر کے اپنی ساکھ بہتر بنا رہا ہے۔ بات ترکی کی ہوئی تھی۔ اصل میںترکی کے عوام نے کبھی غلامانہ زندگی گزاری ہی نہیں ہے۔ اس لیے وہ بیساکھیوں کے سہارے نہیں ڈھونڈتے۔ جبکہ ہم ازل سے غلام بنتے رہے ہیں۔ اس لیے آج بھی ہمیں اقتدار کے لیے کسی کی بھی غلامی قبول کرنی پڑے ہم تیار ہوجاتے ہیں۔ ایک منتخب حکومت جو کام کر سکتی ہے۔ وہ مستردشدہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ اللہ کرے عدالتوں سے جو بھی فیصلہ آئے جیت پاکستان کی۔ غلامانہ سوچ بدلنے میں ابھی وقت لگے گا۔ مگر امید ہے آہستہ آہستہ ہم بھی آزادی کو محسوس کرنے لگیں گے۔ کاش ہمارے لوگ ’’آزادی‘‘ کی حقیقت جان پائیں۔