گناہ اور فنانشل کرائمز کا معاملہ

17 جولائی 2017

میں نے ایک امیر کبیر تاجر سے پوچھا: کچھ لوگ اپنی بھوک کیلئے کماتے ہیں، بھوک مٹ جائے تو کچھ اور ضروریات بھی سر اٹھانے لگتی ہیں۔
علامہ اقبال نے اللہ میاں سے امت مسلماں کا شکوہ کیا تھا۔ یہ اجتماعی مسئلہ تھا۔ ”اللہ میاں تھلّے آ“ جیسی پنجابی نظم لکھنے والا سائیں اختر لاہوری اپنی بات کرتا ہے۔
میرے سوہنے اللہ میاں
اللہ کردا
تیرا وی کوئی اللہ ہوندا
جیہڑا تینوں ووہٹی دیندا
نالے دیندا پتر دھیاں
میرے سوہنے اللہ میاں
تو ایہناں نوں پالن کارن
ڈھڈ تندوری بالن کارن
آٹے دال دا بھا جے پچھدوں
ہٹی والا تینوں دسدا
سو وچ ہوون کنیاں ویہاں
میرے سوہنے اللہ میاں
میں ترجمہ سے اس خوبصورت پنجابی نظم کاحسن غارت نہیں کرونگا۔ البتہ نئی نسل کو یہ بتانا ضروری ہے۔ اک سادہ سے زمانے میں گنتی سو پر ختم ہو جایا کرتی تھی۔ سو میں پانچ ویہاں (20) ہوتی تھیں۔ تگڑے اس زمانے میں بھی سات ویہوں سے سو شمار کرتے تھے۔ کمزور تگڑوں کے مقابلہ میں اللہ میاں سے مدد مانگتے رہتے۔ لیکن اللہ میاں نے شاید ایسے تمام معاملات روز حشر کیلئے اٹھا رکھے ہیں۔ تبھی توغریبوں کا بے پایاں درد رکھنے والاشاعر ساحر لدھیانوی جھنجھلا کر کہتاہے کہ:
فطرت کی مشیت بھی بڑی چیز ہے لیکن
فطرت کسی بے بس کا سہارا نہیں ہوتی
میں نے ایک تاجر سے پوچھا: جب کسی غریب کی کمائی اس کی ضروریات سے قریب قریب بھی پہنچ جائے تو وہ خوشی سے نہا ل ہو جاتا ہے۔ آپ ضروریات کیلئے نہیں خواہشات کیلئے کماتے ہیں۔ آپ کب خوش ہوتے ہیں؟ جواب آیا۔ دیکھئے! ضروریات کی کوئی نہ کوئی حد ہوتی ہے۔ خواہشات کی کوئی حد نہیں۔کبھی کبھی تویہ خواہشات پوری کرنے میں یہ عمر بھی تھوڑی پڑ جاتی ہے۔ ”دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے“۔ میں ساٹھ پچپن برس کے اس تاجر کا چہرہ دیکھتے ہوئے جانتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ ”اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن“۔ اس بیچارے کواب یہ چار دن بھی جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ضروریات کی حد سمجھ لیجئے۔ ایک انگریز مہم جو نے ساٹھ روز کھلے سمندر میں گزارے۔ وہ سمندری مچھلی اور مچھلی کے پیٹ سے نکلے پانی پر زندہ رہنے کی کوشش میں رہا۔ وہ یہ تحقیق کر رہا تھا کہ ایک آدمی سمندر سے زندگی کا سامان حاصل کر کے کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس نے ان دنوں کی ایک روئداد لکھی۔ آخر وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسانی زندگی کیلئے صرف تھوڑا سا گوشت اورتھوڑا سا پانی درکار ہے۔ زندگی صرف ان دو چیزوں پر زندہ رہ سکتی ہے۔ ریشم، اطلس و دیبا اور حریرکچھ بھی نہیں۔ محلات بھی بے معنی ہیں۔ مغلئی، لکھنوی کھانوں کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ تھوڑا سا گوشت اور تھوڑا سا پانی بس اتنا ہی کافی کچھ ہے۔ ہیرے جواہرات، نوادرات جاگیروں اور محلات کی خواہش میں بندہ سب کچھ کر گزرتا ہے۔ وطن سے محبت بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ پھر دولت کی خواہش کی کوئی حد نہیںہوتی۔ دولت کا ارتکاز صرف ہمارا نہیںعالمی مسئلہ بھی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی بیس معشیتوں کے لیڈر ”جی ٹوئنٹی“ کی سالانہ کانفرنس جرمنی کے خوبصورت شہر ہیمبرگ میں پچھلے ہی دنوں ہوئی ہے۔ اس موقعہ پر انہیں دنیا کے باضمیر لوگوں کے احتجاج کا سامنا بھی رہا۔ ان لوگوں سے غیر محروم لوگوں کی بھوک دیکھی نہیں جارہی۔ اس کانفرنس سے باہر پانامہ اور دیگر جزیروں میں چھپائی گئی تین سو کھرب ڈالر کی دولت کو قانونی دھارے میں لانے کا مطالبہ بھی شدت سے رہا۔ جب خالق ارض و سماءسورہ رحمن میں اپنی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ نعمتیں صرف ان لوگوں کیلئے خاص ہیں، جن کے نام کاغذات مال کے خانہ ملکیت میںدرج ہیں۔ یا جن کی جیبیں نوٹوں سے پھولی ہوئی ہیں۔ یہ الگ بات کہ طاقتور لوگوں نے یہ نعمتیں اپنے لئے خاص کرلی ہیں۔ خواہشات کی کوئی حد نہیں۔ پھر دولت کی خواہش تو دولت کی خواہش ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا کی نصف دولت صرف آٹھ آدمیوں کے پاس ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ان آٹھ آدمیوں نے مزید دولت کمانے کی تگ و دو ابھی ختم نہیں کی۔ وہ پوری محنت اور یکسوئی سے ”سونے کی تلاش“ میں جتے ہوئے ہیں۔ رزق کی منصفانہ تقسیم نسل انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مذہب ایثار کی راہ میں اس کا حل ڈھونڈتا ہے۔ جب علامہ اقبال نے کارل مارکس کے بارے کہا تھا کہ اس کادل مومن سہی لیکن دماغ کافر ہے۔ یہاں علامہ اقبال کارل مارکس کی مالی امور میں اسی ایثار کے اختیار سے روگردانی کو کفر قرار دیتے ہیں۔ ایثار کے اختیار کی پوچھ گچھ کیلئے ہی روز قیامت ٹھہرا ہے۔ ایثار سے گریز ہی دولت کے ارتکاز باعث بنتا ہے۔ پاکستان کے سارے حالات اس ایک حقیقت سے ظاہر ہیں۔ یہاں مزدور کی تنخواہ 12 سے 15 ہزار روپے ماہوار ہے اور شہری علاقوں میں پانچ مرلہ رہائشی پلاٹ کی قیمت بیس لاکھ روپے سے کم نہیں۔ پوش علاقوں میں یہ قیمت ایک کروڑ کو چھو رہی ہے۔ ہماری حکومتوں نے یہ رہائشی مسئلہ اللہ میاں پر چھوڑ دیا ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کا نئی زمین بنانے کا سردست کوئی پروگرام نظر نہیں آرہا۔ اک زمانہ میں قبر کی جگہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ اب تدفین کیلئے جگہ کا حصول بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو ایک عرصہ سے قریب سے دیکھنے والے جناب مجیب الرحمان شامی نے کیا سچ لکھا ہے۔ ”یہ مانا کہ پاکستان ایک کم وسیلہ ملک ہے لیکن ہمارے اہل اختیار کے اللے تللے تو عرب کے شاہی خاندان کی طرح ہیں“۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک میں امیر غریب میں فاصلہ بہت بڑھ چکا ہے۔ عمران خان ہمارے سارے مسائل کا حل کرپشن کی روک تھام اور ٹیکس کلیکشن سے کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے اس سیاسی فارمولے سے مطلوبہ نتائج کا حصول تبھی ممکن ہے جب ہمارے منبر و محراب سے فنانشل کرائمزکے بارے گناہ ہونے کا فتویٰ آجائے۔ سید عبدالحمید عدم نے جب حاجیوں کے گناہوں کے بوجھ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ حاجیوں کے گناہوں کے بوجھ سے حاجیوں کا جہاز ہی ڈوب گیا۔ اس کے پیش نظر ان کے فنانشل کرائمز تھے۔ ورنہ وہ سارے حاجی اخلاقی لحاظ سے بہت پاکیزہ اور بلند مرتبہ تھے۔