ایم ایس ایف کے بزرگ سپاہی

17 جولائی 2017
ایم ایس ایف کے بزرگ سپاہی

کوئی تنظیم ہو یا تحریک بغاوت ہو یا انقلاب تب تک کامیاب ہونا ممکن نہیں جب تک اس میں نوجوان متحرک نہ ہو جائیں۔ تحریک پاکستان میں کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اسلامیہ کالج لاہور، اسلامیہ کالج پشاور مسلم لیگ کی چھاﺅنیاں اور مضبوط قلعے کہلاتے تھے۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نوجوان حضرت قائداعظم کا پیغام لے کر برصغیر کے ہر گلی کوچے، صحراﺅں، بلند و بالا پہاڑوں اور سنگلاخ گزار چٹانوں سے گزر کر ہر مسلمان تک پہنچایا۔ تب ہی بلا تمیز رنگ و نسل فرقہ و مسلک زبان و زماں مسلمانان برصغیر سبز ہلالی پرچم تلے اپنے قائد کی پشت پر سیسہ پلائی دیوا ربن کر کھڑے دکھائی دیئے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کا ریفرنڈم یا لاہو رمیں مولانا ظفر علی خان کے الیکشن کا معرکہ بلاشبہ ایم ایس ایف جوانوں کے بغیر سرہونا ناممکن تھا۔ حضرت قائداعظم بھی نوجوانوں خصوصا طلبہ سے بڑی انسیت رکھتے تھے۔ ہر موقع پر ان کی رہنمائی فرماتے تھے ۔ حضرت قائد نے نوجوانوں کو عید کاپیغام ان الفاظ سے دیا "نوجوان ہی مردان عمل ہیں جو آئندہ قوم کی تمناﺅں کا بوجھ اٹھائیں گے"کل پاکستان تعلیمی کانفرنس 27نومبر 1947ءمیں فرمایا" نوجوانوں کی کرداری سازی کے ستون ، وقار ، ہنر مندی، راست بازی ، بے لوث خدمت احساس ذمہ اری ہے " 24مارچ 1948ءجلسہ تقسیم اسناد ڈھاکہ میں آپ نے فرمایا "نئے میدان نئے راستے نئی منزلیں نوجوانوں کی نگاہ شوق کی منتظر ہیں" اس دوران ایم ایس ایف کے بانی ارکان حمید نظامی، مولانا عبدالستار نیازی، حکیم آفتاب قرشی، کرنل امجد حسین ، کرنل سلیم ملک اور ،م ،ش شامل تھے۔
حضرت قائد کی رحلت کے بعد مسلم لیگ کے ساتھ مسلم سٹوڈینٹس فیڈریشن بھی ماند پڑتی چلی گئی ۔ یہاں تک کہ کشور حسین دولخت ہوگئی۔ بھٹو فسطانیت کے خلاف منتشر مسلم لیگ حضرت پیر صاحب پگارو کی قیادت عظمیٰ میں متحد ہوئی تو ایم ایس ایف کی بھی نئے سرے سے داغ بیل ڈالی گئی۔ 1976ءمیں سید نعیم رضا ناز پہلے صدر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں نومبر 1977ءمحمد اسلم زار چیف آرگنائزر بنے جنہوں نے تنظیم کا آغاز مزار قائد پر حاضری دیتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ اقبال ڈار، غلام محمد سواگ، اکرم الحق غازی، رائے محمد عارف شامل تھے جبکہ میاں مطیع الرحمن پنجاب کے صدر اور چوہدری منیر احمد سینئر نائب صدر اسی طرح سندھ میں بچن لغاری، حیدر آباد سے شکیل احمد جبکہ جامشورہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کا انتخاب عبدالکریم شر نے ایم ایس ایف کا پرچم تھام کر جیتا۔ بعد ازاں آغا ناصر، جعفر مندوخیل، خان محمد مہر، خان محمد ہنجرو، کاشف نظامانی، سائیں بخش نظامانی، یاسین نظامانی اور بشیر احمد لغاری اسی طرح پنجاب میں خواجہ سعد رفیق، ریاض فتیانہ اور ارشد امین چوہدری نے ایم ایس ایف کے حوالے سے بڑا نام کماتے ہوئے پنجاب کے ہر ضلع اور کالج میں ایم ایس ایف کی تنظیمیں قائم کیں۔ ان میں سے چند لوگ اسلحہ بند گروپ میں تبدیل ہوگئے اور بڑی تعداد میں باہم جھگڑوں میں مبتلا ہوئے او رپھر ایک بار ایم ایس ایف زوال پذیر ہوئی ۔ مسلم لیگ کی حکومت نے ہی طلبہ سیاست پر پابندی لگا دی۔
ایم ایس ایف کے تعلیم سے فارغ التحصیل افراد نے نظریہ پاکستان کی فروغ و ترویج فکر اقبال و قائد کو ازبر رکھنے ملکی بقا اور استحکام کے لئے نظریاتی لام بندی کی خاطر ایک متحرک تنظیم اسمبلی آف مسلم یوتھ (PAMY) کے نام سے 80کی دہائی کے بعد قائم کی گئی۔ جس کے پہلے چیئر مین فرزند مجاہد اول جناب سردار عتیق الرحمن خان قرار پائے۔ بعد ازاں اسلم زار کو اس تنظیم کا چیئر مین بنایا گیا جو تادم کا ر خیر میں مصروف عمل ہیں۔ پامی کو مجاہد اول سردار عبدالقیوم، راجہ ظفر الحق او رغلام حیدر وائیں جیسے نظریاتی مشاہیر کی رفاقت و رہنمائی حاصل رہی ۔ اس لئے ملک کے گوشہ گوشہ قریہ قریہ میں اس تنظیم کے تربیت یافتہ افراد استحکام پاکستان کے لئے ایک نظریاتی سپاہی کی مانند کوشاں و بے کراں پائے جاتے ہیں۔ تنظیم کو فعال اور متحرک رکھنے کے لئے ملک کے شہر شہر میں اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں محمد آصف آصفی الخیری، جاوید اقبال گورائیہ، چودھری نعیم کریم، سردار محمد عثمان عتیق، راﺅ طارق اقبال، شاہ زمان غلزئی، کاشف نظامانی، بشیر لغاری اور دیگر ساتھیوں کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ انہی کاوشوں کے باعث ہالیڈے ان لاہور 2013، فلیٹیز ہوٹل لاہور 2015، رائل پام کلب لاہور 2016، کوئٹہ کلب اپریل 2017 (استحکام پاکستان کنونشن) آزاد کشمیر 2017 (کارواں یک جہتی کشمیر)، خالص فکری اجلاس منعقد کئے گئے۔ چند روز قبل یم ریسٹورنٹ بالب نہر لاہور میں پامی کے سینئر وائس چیئر مین چودھری نعیم کریم اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محمد آصف آصفی نے مرکزی اور صوبائی عہدیداران کے اجلاس کا اہتمام کیا جس کی صدارت جناب محمد اسلم زار ایڈو کیٹ مرکزی چیئر مین نے کی جس کے مہمان خصوصی سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان تھے۔ سیکرٹری جنرل محمد اقبال ڈار، سید فقیر حسین بخاری، صاحبزادہ نور محمد حسن زئی، شازمان غلزئی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ سردار عتیق احمد خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ تحریک آزاد کشمیر اور دیگر سرگرمیوں کو فعال اور منظم کرے گی۔
قارئین کرام۔ موجودہ کرپٹ، غیر نظریاتی اور تعفن زدہ منظر نامے کا تقاضا ہے کہ ایک مرتبہ پھر نظریاتی لوگ میدان عمل میں آئیں۔ نئی نسل کی رہنمائی اور درخشان مستقبل اور ملکی بنیادی اساس پر عمل پیرا ہونے کے لئے پھر سے کالجز، یونیورسٹیز اور مقامی سطح پر ایم ایس ایف کے یونٹس قائم کئے جائیں۔ تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں۔ پامی کو صرف ایم ایس ایف کے بزرگوں کو کلب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حقیقی معنوں میں اس کے اساسی مقاصد پر عمل کیا جائے تاکہ ملک خداداد قائد و اقبال کے خواب کے مطابق ایک جدید فلاحی اسلامی جمہوری ریاست بن سکے۔