وزیر اعظم مستعفی نہ ہوں

17 جولائی 2017

پانامہ کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد جو ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر جہاں ایک طرف ملک کے سنجیدہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے وہاں میاںنوازشریف مخالف سیاسی حلقے انتہائی غیر سنجیدہ انداز میں ملک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں جبکہ ملک کو پہلے ہی کئی طرح کے بحرانوں کا سامنا ہے ایسے میں ان سیاستدانوں نے ٹیلی ویژن، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ پر کچھ ذو معنی اور کچھ بے معنی جملوں کی یلغار کر رکھی ہے جو ایک تعجب انگیز امر ہے، ان کو چاہیے کہ وہ سیاسی حد ادب اور سیاست کے اعلی اصولوں کو ملحوظ رکھیں کہ کل یہ گھڑی ان پر بھی آسکتی ہے یہ کل ہی کی بات ہے کہ سوئٹزر لینڈ کے بینک میں آصف علی زرداری کے 60ملین ڈالر کا کیس زیر سماعت تھا، تحقیقات ہوئیں، نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ اگر چیف جسٹس چاہتے تو ایک دن میں رجسٹرار کے ذریعے آصف زردای کو نوٹس بجھوا سکتے تھے مگر اس وقت نہ تو کسی سیاستدان نے اور نہ کسی ادارے نے اس پر آواز اٹھائی۔ آصف زرداری کے سرے محل، فرانس میں کروڑوں روپے کے محلات، لندن، دبئی اور نیو یارک میں اربوں روپے کی جائیداد پر ”ون پوائنٹ ایجنڈا“ پر کام کرنے والے سیاستدانوں نے نہ تو عدلیہ کادروازہ کھٹکھٹایا اور نہ بیانات کی یلغار کی جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو حیرت کی بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف کیس میں ان نام نہاد ”سیاسی ہیروز“ نے روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر اور جے آئی ٹی کی سماعت کے دوران جوڈیشل اکیڈمی کے باہر گھنٹوں شورو غوغا بلند کئے رکھا اور وزیر اعظم کے خلاف عامیانہ زبان استعمال کی جس پر عوام کو دکھ بھی ہوا اور وہ برانگیختہ بھی ہوئے ان سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ ابھی تو جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش ہوئی ہے اس پر سپریم کورٹ قانونی اور آئینی تقاضوں کے پیش نظر مزید کارروائی کرے گا لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ ہر قسم کی ناپسندیدہ حرکات سے اجتناب کریں اور عدالتی فیصلے کا انتظار کریں اور ساتھ ہی سپریم کورٹ سے استدعا ہے کو وہ سپریم کورٹ سمیت ان عمارتوں میں جن میں کسی بھی مقدمہ کی سماعت ہورہی ہو ان کے باہر زیر سماعت مقدمات کے بارے میں کسی کی بھی طرف سے ذرائع ابلاغ پر اظہار خیال کرنے پر پابندی عائد کرے تاکہ عدلیہ کا احترام متاثر نہ ہو، یہ حقیقت ہے کہ عدالتوں کے باہر مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی وجہ سے عوام ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ایک غور طلب مسئلہ ہے۔
ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ردالفساد جاری ہے ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی افواج کو مختصر، چھوٹی مگر شدید جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ سی پیک معاہدہ جو وطن عزیز کے لئے ایک ”گیم چینجر“کی حیثیت رکھتا ہے اس پر پاکستان دشمن قوتیں اسے ناکام بنانے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہیں جس پر محب وطن حلقوں کو سخت تشویش ہے ایسے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا وہ بیان جو انہوں نے چینی، پاکستانی تاجروں، سول اور فوجی حکام کے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے دیا ہے کہ ”ہم اس معاہدے کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کردیں گے اور اس کو ہر حال میں کامیاب بنائیں گے“ انتہائی تسلی بخش اور قابل تعریف ہے، ان حالات میں ملکی سالمیت اور استحکام کا تقاضا ہے کہ میاں نواز شریف کے مخالفین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے کیس میں افتخار چوہدری کو اس کیس سے الگ کر دیا گیا تھا تو میاں نواز شریف کے حوالے سے یہ دہرا معیار کیوں؟ بعینہ میاں نواز شریف کے کیس میں بھی ان کے صاحبزادوں کو الگ کردیا جائے میاں نواز شریف قائد ایوان ہیں اور یہی وہ معز ز ایوان ہے جہاں قانون سازی ہوتی ہے اور میاں صاحب اس کے قائد تو پانامہ کیس میں بھی میاں نواز شریف کو الگ کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔
غور طلب بات ہے کہ جے آئی ٹی کے بارے میں عمران خان اور شیخ رشید یہ کہتے رہے کہ یہ جاتی امراءٹیم ہے اور اس میں وزیر اعظم کے ماتحت لوگ شامل ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران اس کی کارروائی کیسے لیک ہوتی رہی؟ کیا وزیر اعظم خود ایسا کرتے رہے؟ یہ بات بھی ابھی تک معمہ ہے کہ جے آئی ٹی کی سماعت کے دوران حسین نواز کی تصویر کیسے لیک ہوئی تو کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ جے آئی ٹی وزیر اعظم کے زیر اثر نہیں تھی بلکہ عوامی سطح پر جے آئی ٹی کے بارے میں یہ چہ مگوئیاں بھی گردش کرتی رہیں کہ جے آئی ٹی کا رویہ وزیر اعظم کے بارے میں متعصبانہ ہے۔وطن عزیز کے موجودہ حالات کے پیش نظر کابینہ کا یہ فیصلہ درست ہے کہ وزیر اعظم مستعفی نہ ہوں اور مخالفین عدالتی فیصلوں کا انتظار کریں۔