کرمنل جسٹس سسٹم میں فارنسک سائنس کی تعلیم ناگزیر ہے، پروفیسر شاہانہ عروج

17 جولائی 2017

کراچی (نیوز رپورٹر)پاکستان کے کرمنل جسٹس سسٹم میں فارنسک سائنس کی تعلیم اور تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے ،کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتاجب تک وہ جدید عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہ ہو۔جرائم سے پاک معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار دادابھائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی نے کلیہ قانون کے امتحانی مراکز کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رئیس کلیہ قانون اور سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی اور شعبہ قانون کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر راناخان بھی موجود تھی۔پروفیسر ڈاکٹر رانا خان نے کہا کہ فارنسک سائنس کا کورس خصوصی طورپر ججز ،پروسیکیوٹرز ،پولیس افسران اور وکلاء کے لئے ترتیب دیا گیاہے تاکہ وہ فارنسک سائنس ٹیکنالوجی سے بھر پور ہم آہنگی حاصل کرسکیں ۔فارنسک ٹیکنالوجی کرمنل جسٹس سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے ۔پاکستان کی وکلاء برادری میں فارنسک سائنس اور ٹیکنالوجی سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ شواہد کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جائے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔