پانامہ سے پامالی تک

17 جولائی 2017

1960  ءکی دہائی تک ایک عام پاکستانی کے نزدیک سعودی عرب کا تعارف مقامات مقدسہ کے نگہبان ملک کا تھا۔ لوگ سعودی عرب کے دا را لحکومت ریاض سے واقف نہیں تھے بس مکہ اور مدینہ جانتے تھے۔ متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت اور بحرین جیسے ناموں سے اس زمانے کا کوئی پڑھا لکھا پاکستانی واقف ہو تو البتہ ایران اور ترکی کے ساتھ ثقافتی و تاریخی رشتوں کا خوب سرکاری و غیر سرکاری پرچار رہتا تھا۔ جب 1970ءکے عشرے میں خلیجی ممالک میں تعمیر نو کاعمل شروع ہوا اور پاکستان سے افرادی قوت ان ممالک میں روز گار پانے لگی اور خلیجی ممالک کی افواج کی تربیتی سہولتوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کرنا شروع کیا تو روایتی علاقائی رشتوں کا مدار بھی بتدریج بدلنے لگا۔
اکتوبر 1973ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد شاہ فیصل اور شاہ خالد سے ذوالفقار علی بھٹو کاذاتی قربت و احترام کارشتہ استوار ہونے سے مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی سے متاثر ہونے والی مغربی پاکستانی معیشت کو ایک زبردست نفسیاتی و مالی سہارا ملا اور یوں بجٹ خسارہ کم سے کم رکھنا ممکن ہو سکا۔ پاکستانی سیاست میں پہلی بار سعودی عرب سے خصوصی تعلق کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 1977ءکے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے سبب حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے بھٹو مخالف تحریک شروع کی۔ فریقین کے مابین جب کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ رہے تو اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر ریاض الخطیب کی شٹل ڈپلومیسی نے کام دکھایا اور پی این اے بھٹوصاحب سے مذاکرات پر رضامند ہوا مگر اس کا پھل ضیاءالحق نے اچک لیا۔
جنرل ضیاءالحق نے اسلامائزیشن کامنصوبہ شروع کیا تو سعودیوں کی جانب سے ان کے لیے پسندیدگی شروع ہوئی۔ دیوانی و فوجداری قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے کام میں سعودی حکومت اور علماءنے ضیاءالحق کی بھر پور مدد کی ۔ وہی حدود قوانین جو سعودی عرب میں نافذ تھے ، پاکستان میں بھی نافذ ہو گئے۔ سعودی عرب بھٹو کو پھانسی دینے کا مخالف تھا مگر پھانسی پھر بھی ہوئی لیکن ضیاءالحق کے ساتھ سرد مہری اس لیے نہ برتی جاسکتی تھی کیونکہ سعودی عرب پاکستان کے جوہری پروگرام میں بوجوہ دلچسپی رکھتا تھا اورپھر بھٹو کی پھانسی کے آٹھ ماہ بعد افغانستان میں سویت فوجوں کی آمد نے سارا نقشہ ہی بدل دیا۔ افغان مجاہدین کی تربیت و تیاری کے لیے ہر ایک امریکی ڈالر کے بدلے سعودی عرب نے بھی ایک ڈالر خرچ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ سویت کفر سے نبرد آزمائی کے لیے نظریاتی افرادی قوت کی مسلسل ترسیل کے لیے سعودی اور خلیجی نجی و سرکاری تعاون سے مساجد و مدارس کاجال بچھا اور ہم خیال مجاہدین و مذہبی وسیاسی گروہوں کے لیے مالی امداد کوئی مسئلہ نہ رہی۔
اس دوران ایران میں شیعہ انقلاب آ چکا تھا لہٰذا پاکستانی اسٹیبلش منٹ اس جغرافیائی ، ثقافتی اور تاریخی مروت سے آزاد ہو گئی جو اب تک ایران سے قریبی رشتے کا جواز فراہم کر رہی تھی۔ پنڈولم پوری طرح خلیج کی جانب جھکتا چلا گیااور پاکستان کے سبز نظریاتی نقشے میں سعودی سبز بھی شامل ہوتاگیا۔ دفاعی ، نظریاتی و سیاسی لحاظ سے دونوں ممالک یک جان دو قالب نظر آنے لگے۔ اگرچہ بھٹو صاحب سے سعودی شاہی خاندان کے خصوصی تعلقات تھے مگر بے نظیر بھٹو کاوزیراعظم ہونا ویسی گرم جوشی پیدا نا کر پایاتاہم اس کا متبادل متحدہ عرب امارات کی شکل میں موجود تھا۔ متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے بے نظیر بھٹو کے دور میں خدمات و صنعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کی اور آج اماراتی کمپنیاں ٹیلی مواصلات ، بینکاری کے شعبوں میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ دبئی اقتدار سے معزول بے نظیر بھٹو کا گھر بنا اور آج بھی عملاََ لگتا ہے کہ کراچی کے ساتھ ساتھ دبئی سندھ کا دوسرادارالحکومت ہے۔ اس پورے عرصے میں پاکستان سے باہر اگر پاکستانیوں نے سب سے زیادہ املاک کسی ملک میں خریدی تو وہ امارات ہے۔
سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات دوسرا خلیجی ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی کارکن موجود ہیں اور پاکستان کو ہر سال تارکین وطن جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں اس کا نصف انہی دو ریاستوں سے آتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں اماراتی کردار بھی لامحالہ بڑھنا ہے۔ جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے مابین این آر او کی بنیاد پر سمجھوتہ بھی امارات میں طے پایا۔ جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے سبکدوشی کے بعد بلامقدمہ پاکستان سے بخریت 18 اگست 2008 ءاڑان بھرنے کی ضمانت دینے والے ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ اماراتی اسٹیبلش منٹ بھی بتائی جاتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کا ایک گھر لندن میں ہے توایک دبئی میں اور پاکستان تو خیر ان کا ہے ہی۔ چند ماہ قبل جنرل مشرف صاحب ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف کرچکے ہیںکہ انہوں نے لندن اور دبئی میں سبکدوشی کے بعد جو گھر خریدے ان کی رقم ان کے عزیز ترین دوست مرحوم شاہ عبداللہ نے فراہم کی ۔
انہی شاہ عبداللہ کے احسان مند میاں نوازشریف بھی ہیں جنھیں شاہ عبداللہ نے اپنے دوست پرویز مشرف کے چنگل سے 10 دسمبر 2000 ءکی شب شاہی طیارے میں بٹھوا کر سعد رفیق الحریری اور سعودی انٹیلیجنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کے ذریعے معاہدہ کرواکے چھوٹے اور بڑے میاں صاحب کوجدہ کے سرور پیلس میں برسوں رکھا۔ ( ویسے یہ فیصلہ نواز شریف کی جدہ روانگی سے تین ماہ پہلے قطر کے دارالحکومت دوہا میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر شاہ عبداللہ اور پرویز مشرف کے مابین مبینہ طور پر زبانی طے پا گیا تھا)۔
اور اس سے بھی کہیں پہلے جب پاکستان نے مئی 1998 ءمیں ایٹمی دھماکے کیے تو سعودی عرب نے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا بوجھ بٹانے میں اپنے دوست نواز شریف کی اچھی خاصی مدد کی۔ اس سے اگلے برس جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا ایڈونچر کیا تو اس کمبل سے جان چھڑو انے میں بھی سعودی عرب نے بھر پور مدد کی اور جب وزیر اعظم نواز شریف صدر بل کلنٹن سے ملنے 4 جولائی 1999ءکو واشنگٹن پہنچے تو سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے انہیں بلیئر ہاﺅس تک چھوڑا اور نواز شریف کی کلنٹن سے باضابطہ ملاقات سے پہلے پاکستان کے موقف اور خدشات کی وکالت کر کے کلنٹن کا دل نرم کیا۔ پھر بھی شاہ عبداللہ کا ایک دوست 12اکتوبر 1999ءکو ان کے دوسرے دوست کا بوریا بستر گول کرنے سے باز نہ آیامگر سعودیوں کو ایسی اندرونی تبدیلیوں کے بارے میں کبھی کوئی خاص فکر نہ رہی کیونکہ پاکستان میں جو بھی جس کی جگہ آئے گا پہلے ریاض ہی جائے گا۔
(جاری ہے)

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاک عرب بھائی بھائی میں تیسرا خلیجی ملک قطر بھی شامل ہوگیا۔ جب سوابرس پہلے قطر سے 16ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا معاہدہ طے پایا تو عام تاثریہی تھا کہ قطر سے اقتصادی نوعیت کا بندھن ہے۔ پر بھلا ہو پانامہ پیپر ز کیس کا کہ جس سے گلو خلاصی کی کوشش میں شریف خاندان کو یہ تاثر دینا پڑا کہ صرف سعودیوں سے ہی نہیں بلکہ قطری شاہی خاندان سے بھی سگے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں ۔ سعودی عرب نے تو نواز شریف کو تیسری بار بر سر اقتدار آنے پر ڈیڑھ ارب کی سلامی دی تھی مگر قطری شاہی خاندان تو نوازشریف خاندان کا روباری پارٹنر بھی نکل آیااور وہ بھی آج سے نہیں تقریباََ 35برس پہلے سے۔ جب شریف برادران کے والد نے سابق قطری وزیراعظم شیخ حماد بن جاسم الثانی کے والد کو 12ملین درہم کچی رسید پر سرمایہ کاری کے لیے دیے اور اس کے بدلے شیخ حماد نے لندن میں شریف خاندان کو چار فلیٹ دیے۔ رہا اس ٹرانزیکشن کاریکارڈ تو عدالت کو یہ بتایا گیا کہ جنرل پرویز مشرف کی تختہ الٹ مہم کے نتیجے میں ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ شریف خاندان کا 40سالہ کاروباری ریکارڈ ضائع ہو گیا ۔ اب محض اس خط پر اکتفا کیا جائے جو قطری شہزادے نے عدالتی ملاحظے کے لیے لکھا۔ عدالت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا۔ بار بار استفسار پر بھی قطری شہزادہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ حتیٰ کہ قطر کی شاہی حکومت نے ان پیش کردہ خطوط کی تصدیق سے بھی انکار کر دیا۔ شہزادے نے کہا کہ میں پاکستان کے قانون کا بھی پاپند نہیں ہوں۔اسی طرح کی صورت دبئی کی طرف سے بھی پیش آئی۔ میاں صاحبان نا کام و نامراد ہو کر بھی قصور تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
آج تصویر یوں ہے کہ پاکستانی فوج اور سعودی فوجی اسٹیبلش منٹ کے براہ راست تعلقات ہیں۔ پاکستان اگرچہ یمن کی جنگ میں موثر کردار ادا نہیں کر رہامگر جنرل (ر) راحیل شریف سمیت 37 رکنی مسلمان عسکری اتحاد کاحصہ ضرور ہے۔ متحدہ عرب امارات اور نواز شریف حکومت کے مابین بظاہر سرد مہری ہے مگر زرداری خاندان اور اماراتی خاندانوں میں پہلے جیسی گرمجوشی برقرار ہے۔ پچھلے چالیس سالوں کے دوران پاکستان اور خلیجی اسٹیبلشمنٹ کی قربت سے اندرون پاکستان کئی چھوٹی بڑی سماجی و سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عمومی سطح پر سب سے واضح تبدیلی تو خدا حافظ کا اللہ حافظ سے بدل جاتا ہے۔ 1990 کے عشرے تک امن و امان کی بحالی کے لیے فوج یا نیم فوجی ادارے جو آپریشن کرتے تھے ان کے نام آپریشن جبرالٹر،آپریشن سرچ لائٹ ، آپریشن فیئر پلے ، آپریشن مڈنائٹ جیکال وغیرہ ہوتے تھے ، اب آپریشن راہ حق ، راہ راست ، ضرب عضب، ردالفساد ہوتا ہے۔
سیاست میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ افغان مجاہدین کو ایک ترازو میں تولنے کا مسئلہ سویلینز فوج کی یا فوج سویلینز کو سنی ان سنی کر رہی ہے۔ آمدنی سے زائد خرچے کی پردہ پوشی کے لیے کسی شہزادے کا خط درکار ہو یاکسی کو کسی کے خلاف تحریک چلانے سے باز رکھنا یاحمایت پر آمادہ کرنا ہو۔ جب سب اندرونی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو پھر مقدمہ خلیجی جرگے کے روبرو جاتا ہے اور یوں سب ایک بار ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں ۔ مگر اب ایک فرق پید ا ہورہا ہے۔ شروع کے تیس برس پاکستانی پاور پالیٹکس میں توازن اور ثالثی کے لیے امریکی کردار نمایاں ہوا کرتا تھا، اگلے کے تیس برس کے دوران خلیجی کردار نے امریکہ کی جگہ لے لی اور اب چین کازمانہ شروع ہوچکاہے ۔
بقول میر تقی میر
سارے عالم پر ہوں میں چھایاہوا
مستند ہے میرا فر مایا ہوا