سب کچھ تو جعلی ہے"

17 جولائی 2017

"ہم سب جعلی اور نقلی ہیں- ہم نے نقاب اوڑھ رکھے ہیں- ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے- ہم باہر سے نیک نظر آتے ہیں، اور اندر سے بد نیت ہیں- ہم بڑے عالم فاضل بنتے ہیں- صرف دکھاوے، ریا کاری اور واہ واہ کے لیے.. جب کہیں بھی اور کسی بھی جگہ عمل کا وقت آئے تو ہم دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں- عمل کے میدان میں تو ہم صفر ہیں- بس دوسروں کو نصیحت کرنی ہو، کسی پر تنقید کرنی ہو، نقائص نکالنے ہوں، ہم سب سے آگے ہوتے ہیں"- یہ نظامی کے الفاظ تھے- جو کہ میرا دیرینہ دوست ہے- اس کا مزید کہنا تھا کہ " بندے اصلی اور نسلی نہیں رہے- فی زمانہ بندے نظریات کے نہیں بلکہ مفادات کے ہو گئے ہیں- پستی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ ہمارے سماج میں سرمایہ دار، لٹیرے اور بدمعاش معزز کہلاتے ہیں اور معاشرے میں غریب اور شریف کو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے- ہر جگہ انہی طبقات کی تذلیل کی جاتی ہے- ہمارے ہاں شریف ہونا اور ایماندار رہنا اب سب سے بڑا جرم ہے"- نظامی جب کبھی غصے میں ہوتا ہے تو حد درجہ بے لحاظ ہو جاتا ہے- جو منہ میں آئے بے خوف کہہ دیتا ہے-
کل مجھے نظامی نے بتایا کہ انسان اب حیوان سے بھی بد تر ہوتا جا رہا ہے- ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں کہ ایک آدمی اپنے آپ کو کس قدر گرا دیتا ہے، معاملات میں دھوکے اور فریب سے کام لیتا ہے، کہ سن کر بندے کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں- شرم سے سر جھک جاتا ہے-کیسے کیسے دھوکے باز ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی نہیں بخشتے- یہاں تک کہ کتوں کو بھی.... میں نے اسے کریدا تو اس نے مجھے حالیہ دنوں میں پیش آنے والا ایک واقعہ سنایا.... اس نے بتایا کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ناتھ ناظم آباد کی پولیس نے آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے آوارہ کتوں کو نایاب نسل کا کتا ظاہر کر کے بیچنے والے نوسر باز کو گرفتار کر لیا ہے- ملزم صغیر پر الزام تھا کہ وہ آوارہ کتوں کو مختلف مہنگی نسل کے کتوں جیسا رنگ کر کے بیچتا تھا- چند دن پہلے ملزم نے اپنی ویب سائٹ سے او ایل ایکس کے ذریعے ریاض الدین نامی ایک گاہک کو رنگ کئے گئے کتے مہنگی نسل کے کتے ظاہر کر کے آن لائن فروخت کیے تھے- مدعی کو جب کتوں کی ڈیلیوری ملی اور اس نے سخت گرمی کے پیش نظر جونہی کتوں کو نہلایا تو ان کا رنگ اتر گیا- ایک آوارہ کتے کی قیمت پچاس ہزار روپے تھی- جنہیں نہایت اعلی، قیمتی اور عمدہ نسل کا کتا کہہ کر فروخت کیا گیا تھا- مدعی کی نشان دہی پر پولیس نے چھاپہ مارا تو ملزم صغیر کے قبضے سے چار لوکل آوارہ کتے بر آمد ہوئے جنہیں جرمن شیفرڈ نسل کے کتوں کا رنگ کیا گیا تھا-
قارئین! غور و فکر کا مقام ہے-حیرت اور کسے کہیں گے- بے شرمی اور بے حیائی کی حد ہے- معاملات میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے- دیکھئے ناں کہ کیسے کیسے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور کس کس نوعیت کے المیے جنم لے رہے ہیں- کسے معتبر سمجھا جائے اور کس پر اعتبار اور اعتماد کیا جائے؟، اور کس پر نہ کیا جائے- معاملہ کتوں کے اصلی اور نسلی ہونے یا جعلی رنگ چڑھا ہونا نہیں، بلکہ اگر ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو ہم میں سے ہر ایک نے مصنوعی رنگ چڑھا رکھا ہے. دوا نقلی ہے، دودھ خالص نہیں، پانی صاف نہیں- ہوٹلوں پر گاہکوں کو کتے اور گدھے کا گوشت کھلایا جا رہا ہے- سیاست دان عوام کا خون چوس رہے ہیں- ناقص غذائیں اور آلودہ ماحول مختلف بیماریوں ایڈز، کینسر، ہیپاٹائٹس، ڈینگی اور کانگو کے امراض کا سبب بن رہا ہے - علاج گاہیں موت کے پروانے بانٹ رہی ہیں- انصاف بک رہا ہے- تعلیم برائے فروخت ہے- سیدھے سادے عوام کو لوٹا جا رہا ہے- عدالتوں میں انصاف برائے فروخت کے بورڈ آویزاں ہیں- حکمران عوام سے غافل ہیں- عوامی مسائل حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں- سب نے جعلی رنگ چڑھائے ہوئے ہیں- لوگ اصلی بن کر ملتے ہیں جبکہ رنگ اترنے کے بعد نقلی نکلتے ہیں- ظاہر میں ہمدرد اور خیر خواہ جبکہ حقیقت میں لٹیرے اور ڈاکو.... اللہ کے خوف سے آزاد اور آخرت میں جزا اور سزا کے تصور سے بے پرواہ...
آئیے کہ ان نقلی اور جعلی لوگوں اور چیزوں کو خود سے، اپنے شعور سے پہچاننے کی کوشش کر کے دیکھتے ہیں- کسی سیانے کا کہنا ہے کہ انسان چائے کی پتی کی طرح ہوتا ہے جب تک ابلتے پانی میں نہ ڈالا جائے اصل رنگ نہیں نکلتا۔