پاکستان میں سیاستدانوں کا پس منظر

17 جولائی 2017

سن 1977ءکے انتخابات کے دوران پیپلزپارٹی کو شکست دینے کی خاطر دیگر نو سیاسی پارٹیوں نے متحد ہو کر ایک انتخابی نشان پر انتخابات کی مہم کا آغاز کیا تھا جن کا نشان ہل تھا لٰہذا ان سب نے مل کر ملک میں بھر میں عوامی جلسے کئے اور بھٹو کی ناکامیوں کے بارے میں عوام کو بھرپور طریقے سے آگاہ کیاکہ بھٹو نے متحدہ پاکستان کو دولخت کر دیا ہے۔ مشرقی پاکستان کے مسلم بھائیوں کو ہم سے جدا کر دیا ہے۔ بھٹو کا یہ بیان دینا کہ ”ادھر تم اور ادھر ہم“ نے قومی یکجہتی کو بہت نقصان پہنچایا جیسے کہ پاکستان کے حامیوں کو اب تک پھانسیاں دی جا رہی ہیں۔ ہماری بہادر افواج نے جو قربانیاں دی تھیں وہ سب رائیگاں چلی گئیں اس سے قبل اسمبلی اجلاس ڈھاکہ بلانے کا اعلان ہوا تو بھٹو نے اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو تنبیہ کی تھی کہ اگر کوئی ڈھاکہ گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی علاوہ ازیں 1970ءکے الیکشن میں عوام سے کئے وعدے پورے نہیں کئے یعنی روٹی‘ کپڑا اور مکان تو کجا عوام پہلے سے بھی زیادہ تنگ زندگی گزارنے لگے مزید یہ کہ نیشنلائزیشن پالیسی نے ملک میں صنعتی ترقی اور معاشی حالت کو بگاڑ کر رکھ دیا پڑھے لکھے عوام واقعی ان پالیسیوں کو ملک کی ترقی کے خلاف سمجھنے لگے۔ بنابریں بھٹو پارٹی کے مخالفین کو گمان ہو گیا تھا کہ ان انتخابات میں پی پی کو اکثریت نہیں ملے گی لٰہذا ان مخالفانہ بیانات کے باعث پیپلزپارٹی والوں کو بھی مخالف سیاسی پارٹیوں کی کامیاب انتخابی مہم سے اندازہ ہو گیا تھا کہ الیکشن میں واضح اکثریت میں مشکل درپیش آ سکتی ہے تاہم پی پی نے اندر کھاتے الیکشن کے دوران دھاندلی کا پروگرام بنا لیا جو بعد میں نظر بھی آیا مگر یہ دھاندلی کا تاثر بھٹو اور پیپلپزارٹی کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا مزید یہ کہ بھٹو مرحوم نے خود اپنی جذباتی طبعیت کی بناءپر کچھ ایسی باتیں کی تھیں جو ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئیں مثلاً احمد رضا قصوری کے ڈھاکہ جانے پر ناراض ہو گئے اور کہا کہ میں اسے اسمبلی میں نہیں دیکھنا چاہتا اسی طرح ڈیرہ غازی خان سے جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نذیر احمد کے متعلق بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا بھٹو مرحوم نے اپنے دور میں سیاسی سپورٹ کی حفاظت کی خاطر سرکاری فورس (F.S.F) بنا رکھی تھی جس کا انہیں بعد میں فائدہ کی بجائے نقصان ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی وطن عزیز میں بھٹو دور کی طرح نواز شریف ایک طرف ہے اور مخالف جماعتیں دوسری طرف اس وقت بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ بھٹو مرحوم کے ساتھ عالمی سازش ہوئی ہے کیونکہ وہ تیسری دنیا کی بات کرتے تھے جو امریکہ وغیرہ کو ایسی باتیں پسند نہ تھیں اب بظاہر تو یہ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن کی ہے اور یہ کرپشن کا معاملہ ہے جسے امریکہ اور یورپ والوں نے ظاہر کیا ہے لٰہذا دیگر سیاسی جماعتوں کو نواز شریف کی مقبولیت کے خلاف باتیں بنانے کا موقع مل گیا ہے۔ حالانکہ نواز شریف کے بیٹوں کے علاوہ معلوم نہیں اور کتنے پاکستانی سیاست دان جرنیل آفیسرز وغیرہ بیرون ملک دولت لے گئے اور وہاں کوٹھیاں بنا کر رہ رہے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اہل یورپ بشمول امریکہ نواز شریف کی چائنہ کے ساتھ اقتصادی راہداری تعاون کے منصوبوں سے نالاں ہیں اور ان کے نزدیک نواز شریف کو راستے سے ہٹا کر اپنی من پسند پالیسی کے نفاذ کا ارادہ ہو سکتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ کلی طور پر یورپ اور امریکہ کا محتاج رہے اسی لئے مسئلہ کشمیر بھی حل نہیں ہونے دیتے تاکہ ان کا اسلحہ پاکستان اور ہندوستان میں بکتا رہے اور یہ دونوں ممالک ہر وقت جنگ کی تیاری میں مشغول رہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ ہمارے ملک کے تمام سیاست دان موجودہ صورحال پر گہری نظر سے غور فرمائیں کہ پاکستان سے دولت باہر لے جانے والے جو دیگر لوگ ہیں جیسے کہ حال ہی میں ایان علی کا کیس چل رہا ہے اور موقع پر ڈالروں سمیت پکڑی گئی تھی ایسے لوگوں کا احتساب کون کرے گا اس بات کا علم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پتہ چلے گا کہ پھر کیا ہوتا ہے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...