مسلمان دہشت گرد!!یا دہشت گردی کا شکار؟؟؟؟

17 جولائی 2017

یہ محض کالم کا عنوان ہی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی وہ سوال ہے جو مسلمان کرنے کے حق میں ہیں۔ عالمی طاقتیں مسلمانوں کو دہشت گرد کہتی ہیں۔ مگر یہی مسلمان دہشت گردی کا شکار ہیں یہ کب نظر آئے گا؟یہ مسلم امہ کے لیڈوں اور حکومتوں کی بے بسی اور بے خبری کہ وہ اس سوال کو کسی بھی نمائندہ فورم میں اٹھانے سے قاصر ہیں اسی منظر و حالات میں اسلامک فورسز کی بات کی جائے تو بحر ظلمات تک جانے والی فوجیں اب اپنے اپنے ملکوں میں صرف دہشت گردوں کو مارنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اسلامی ممالک میں دہشت گردی بچے” جنتی“ جا رہی ہیں اور صاحب اولاد ہوتی جا رہی ہے۔دنیاکے نقشہ کو دیکھا جائے اور غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی اثر و رسوخ والے علاقے ہی دہشت گردی کا شکار ہیں بلکہ اب ان میں سے کئی ممالک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکے ۔ اسلامی ممالک میں یہ سلسلہ رکتا یا تھمتا نظر نہیں آتا۔ دہشت گردی کے خلاف صرف مسلمان ہی لڑ ر ہے ہیں ۔ اور دہشت گردی میں صرف مسلمان مر رہے ہیں۔ جو کہ تقریباً 98% ہیں۔دہشت گردی کا خاتمہ دہشت گردوں کو مارنے سے نہیں بلکہ اسباب کے خاتمے سے ہوتا ہے۔مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی دہشت گردی کا بڑاذریعہ ہے۔ اہل عرب اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں شامل ہونے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزام لگانے کے بجائے اپنی توانائیاں اسرائیل کے خلاف وقف یا صرف کریں۔ جو کہ نہ صرف دہشت گرد ہے بلکہ دہشت کی اصل ایٹمی قوت ہے۔ افسوس صد افسوس عرب ممالک اتحاد کو اسرائیل کی دہشت اور جنگی قوت کیوں نہیں نظر آتی؟سعودی عرب پر اپنے مقام و مرتبہ کی بدولت ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف نیٹو بنانے سے پہلے یا صدر ٹرمپ کی میزبانی کے دوران یہ سوال بادشاہ عالم کے سامنے لازمی رکھنے مسلمانوں کے لئے نفرت اور تشدد کے جذبات رکھے والا ایٹمی طاقت اسرائیل کے ایٹمی منصوبہ کو رول بیک کرنے کی بات کرتے ‘ اور ٹرمپ کو بتاتے کے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کا بڑا ذریعہ طاقت میں عدم توازن بھی ہے۔ ایران اپنا ہر نقصان برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے پورا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ایرانی قوم امریکہ کو شیطان کا درجہ دیتی ہے۔ جب تک وہ امریکہ کو اس اعزاز و مرتبہ سے نوازتی رہے گی سرفرازی و سر بلندی میں رہے گی۔جس دن ایران اپنے اس خاص مدار و مدراج سے باہر آئے گا افغانستان جیسے ملکوں کو صفیںاس کا استقبال کریں گی۔ دہشت گردی کا خاتمہ دہشت گردوں سے مقابلہ سے نہیں بلکہ اس کے اسباب کے خاتمے سے ہو گا۔ پاکستان میں دہشت گردی کا اپنا ایک مخصوص مزاج اور پیرا میٹرز ہیں ۔ اس میں دعوت فکر بھی ہے کہ دہشت گردی کے تمام تر واقعات سال نو کے آگے پیچھے یا پھر عیدین کے آس پاس ہوتے ہیں۔ یہاں فوجی عدالتوں میں توسیع تو نظر آ رہی ہے مگر دہشت گردی کا خاتمہ نہیں۔ دشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ کی بجائے چین سے مدد لے۔ جس سپرپاور کی خارجہ پالیسی صرف اسلحہ کی فروخت ہو وہ کبھی دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہے گا۔ محفوظ سرحدیں ہی دہشت گردی سے محفوظ رکھتی ہیں اس بابت بھی ہمیں چین کو رول ماڈل بنانا ہے جو کہ سب سے زیادہ سرحدیں رکھنے والا ملک ہے۔ مگر اس کی سرحدیں سیل اور محفوظ ہیں فاٹا کو کے پی کے میں ضم کر کے پاک افغان سرحد جلدی سے بھی پہلے سیل کر دینی چاہئے۔کلبھوشن یادیو کے بیان و گواہی کے مطابق جو بلوچ رہنما دہشت گردی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے۔ دہشت گردی کا واقعہ بڑا ہو یا چھوٹا اسے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا جائے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو ناکامی قرار دیا جائے۔ جیسے تلوار کے وار میں قصور گردن کا بھی ہوتا ہے کہ وہ کٹ جاتی ہے اگر سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی‘ ڈی کلیئر نہیں کرتے تو پھر بھی ناکامی تصور ضرور ہوتی ہے یہ اقدام مشکل اور تکلیف دہ فرض میں شمار ہوتا ہے۔ مگر نامعلوم سے معلوم کی طرف جانے کے لئے بہترین معاون و مددگار ہو گا۔دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد العالمی داعش ‘ القاعدہ ‘ طالبان پھر طالبان ان گنت ذیلی گروپ کا ذمہ داری قبول کرنا بھی دہشت گردی کے خاتمے کا باعث نہیں بنا سپر پاور کے ہوتے ہوئے یہ عناصر پاور میں رہیں گے۔