روپے کی بے قدری

17 جولائی 2017

سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ دار جواریوں اور کھلاڑیوں نے کس کے اشارے پر روپے کی قدر میں اچانک اتنی بڑی کمی کی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ بیس کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک کی معیشت اتنی کمزور بنیادوں پر استوار ہے کہ چند لوگ مل کر جب چاہیں اس کا تماشا بنا کراپنی دولت میں اضافہ کر سکتے ہیں؟ لیکن دوسری جانب عام شہریوںکو ہمیشہ اپنی قوت خریدمیں کمی اور مہنگائی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں روپے کی بے قدری کوئی نئی بات تو نہیں۔ پہلی بڑی بے قدری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوئی تھی، 1972ءمیں جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ایک ڈالر کی قیمت 4.7 روپے تھی جو 1974ءمیں 9.9 روپے کا کر دیاگیا تھا۔ جنرل ضیا الحق کے ابتدائی دور میں بھی ڈالر کی یہی قیمت کم و بیش برقرار رہی لیکن روپے کی قدر میں کمی کا عمل بتدریج ہوتا رہا حتیٰ کہ 1983ءمیں یہ 13 روپے کا ہوگیا اور 1987ءمیں ایک ڈالر کی قیمت 17 روپے سے زیادہ بڑھ گئی۔ جنرل ضیا الحق کی فضائی حادثے یا سازش میں موت کے بعد انتخابات اور بے نظیر بھٹو کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپے کی پسپائی نہ رک سکی اور ایک ڈالر کی قیمت 24 روپے تک پہنچ گئی جو 1991ءمیں نواز شریف حکومت میں 25 روپے سے تجاوز کر گئی۔ 1994ءمیں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ایک ڈالر 30 روپے کا ہو چکا تھا جس کی قیمت 1996ءمیں 40 روپے سے تجاوز کر چکی تھی۔نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ڈالر کی قدر میں اس وقت اچانک بہت بڑی کمی ہوئی جب ایٹمی دھماکوں کے بعد اچانک فارن کرنسی اکاوئٹ منجمد کر دیے گئے۔ لیکن اس معاملے کی سب سے اہم بات یہ رہی ہے کہ جن با اثر لوگوں کو اس حکومتی فیصلے کے بارے میں علم ہو گیا تھا انہوں نے نہ صرف رات کو بعض بینکوں کی مخصوص برانچیں کھلوا کر نہ صرف اپنے اکاﺅنٹ خالی کیے تھے بلکہ بڑے پیمانے پر مزید ڈالر بھی خریدے تھے کیونکہ اگلے چند دنوں میں 44 روپے کا ڈالر اوپن مارکیٹ میں 68 روپے میں فروخت ہوا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کے کھاتوں میں جمع فارن کرنسی کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر کرتی رہی تھی۔ اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ آئی ایم ایف مسترد کر چکا تھا۔ اسے ہم حکومتوں کی نا اہلی کہیں یا خیانت یا معاشی خوشحالی کے دعووں کے پیچھے چھپی حقیقی معاشی بدحالی کا اشارہ کہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ہمشہ کم ہی ہوتی رہی ہے۔ 1999ءمیں جب نواز شریف کی حکومت رخصت ہوئی تو اس وقت ایک ڈالر 60 روپے تک ہو چکا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جب کچھ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان دیکھا گیا اور ڈالر لگ بھگ 58 روپے میں فروخت ہوتا رہا تھا لیکن اس کی وجہ جنرل پرویز مشرف کی قائدانہ صلاحیت اور بہتر معاشی پالیسیوں کا عمل دخل نہیں تھا بلکہ 9/11 کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اورکہا جاتا ہے کہ اس حملے سے پہلے افغان کمانڈرز کی وفاداریاں خریدنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی پاکستانی کرنسی خرید کر افغانستان میں تقسیم کروائی گئی تھی لیکن جیسے ہی اس عمل کے اثرات ختم ہوئے تو پاکستان کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ جنرل پرویز مشرف کی لائی ہوئی جمہوری حکومت کے دور میں معاشی خوشحالی کا ڈھنڈورا تو ضرور پیٹا جاتا رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت کے اختتام تک ایک ڈالر کی قیمت67 روپے سے تجاوز کر چکی تھی۔ مسلم لیگ (ق) کے دور حکومت میں بھی عوام کو لوٹا گیا، کموڈیٹیز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، گندم کی بمپر کراپ کے جھوٹے دعوے کرکے ملک سے گندم برآمد کی گئی اور جب ملک میں آٹے کے بحران نے سر اٹھایا تو نہ صرف انتہائی مہنگے داموں آٹا فروخت کیا گیا بلکہ مہنگے داموں گندم درآمد کرکے معیشت کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، اس کے علاوہ اسٹاک مارکیٹ میں مصنوعی طور پر تیزی کا رجحان پیدا کیا گیا اور پھر اسٹاک مارکیٹ کے غبارے سے اچانک ہوا نکال کر لوگوں کے اربوں روپے سمیٹ لیے گئے۔ یہ ایسے اسکینڈل ہیں کہ اگر ان کی بھی صحیح طرح سے تفتیش کرلی جائے تو ملک کے بہت سے نامور معززین اپنے خاندانوں سمیت کسی دور دراز کیمپ میں پتھر توڑتے ہوئے نظر آئیں۔2007ءمیں بے نظیر بھٹو قتل کے بعد سندھ میں جو آگ لگی اور جس طرح سندھ کے شہروں اور شاہراہوں پر جلاﺅ گھیراﺅ اور لوٹ مار بازار گرم ہوا اس پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے مجرموں کو پکڑنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ لیکن تمام متاثرہ لوگ اپنی املاک کے نقصان کو فراموش نہ کر پائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ عہد انتقام میں بھی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ 2008ءمیں ڈالر 67.5 روپے کا تھا جو 2013ءکے انتخابات تک 98 روپے کا ہو گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریتی حکومت بننے کے بعد بھی روپے کی ناقدری جاری رہی اور سال کے اختتام تک ایک ڈالر کی قیمت 108 روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔ جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے ہنگامی اقدامات کرکے ڈالر کی قیمت کو 100 روپے پر مستحکم کیا تھا۔تاہم قرضوں پر قرضے لینے اور ضرورت سے زیادہ نوٹ چھاپنے کی پالیسی نے روپے کی ناقدری میں اضافہ کیا ہے اور آج ایک بار پھراچانک ڈالر کی قیمت 108 سے تجاوز کر گئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس وقت ہنڈی کے ذریعے کتنا فارن ایکسچینج ملک سے باہر جا رہا ہے۔ نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں ایئر پورٹس پر بنوائے گئے گرین چینل تو کب کے بند ہو گئے لیکن لگتا یہ ہے کہ گرین چینل کا نظام اب بھی خاموشی سے چل رہا ہے۔ حکمراں طبقات کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شخص ایک وقت میں اپنے ساتھ 10 ہزار ڈالر کیش ملک سے باہر لے جا سکتا ہے۔ میڈیا میں ایسی خبریں چلتی رہی ہیں کہ کھپیے دن میں دو دو چکر دبئی کے لگا رہے ہیں۔ لیکن کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی قانون اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص ہر پرواز پر دس ہزار ڈالر کیش جیب میں ڈال کر لے جائیں بلکہ یہ قانون وقت کا تعین بھی کرتا ہے ایک فرد کتنے وقت میں اتنا فارن ایکسچینج لے جا سکتا ہے۔نواز شریف حکومت نے جو بھاری قرضے لیے ہیں انہیں اب واپس کرنے کا دور آ رہا ہے۔ ممکن ہے ملک کے آئندہ حکمراں بھی عوام کو یہی خبر سنائیں کہ ملک پر قرضوں کا بھاری بوجھ ہے اور خزانہ خالی ہے۔ اس صورتحال کا جواب یہ ہے کہ جب تک ملک کا مالیاتی نظام حکمراں طبقات کے لیے بڑے بڑے سوراخوں والی چھلنی کی طرح کام کرتا رہے گا ملک پر قرضوں کا بوجھ اور خزانہ خالی ہی رہے گا۔