لندن کے عاملین و کاملین

17 جولائی 2017

علامہ اقبال نے اپنے کلام میں عمل پراتنازور دیا کہ ہم بے تحاشا ”عامل “ پیدا کرتے چلے گئے ۔ نوبت بہ ایں جارسید کہ جگہ کی قلت کی وجہ سے انہیںفُٹ پاتھیں آباد کرنی پڑیں جہاں وہ سارا سارا دن خالی بیٹھ کر اپنے ”عمل “ کے ذریعے دوسروں کی قسمتیں بدلنے کے دعویٰ کرتے ہیں۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ حضور ، پہلے آپ اپنی قسمت کیوں نہیں بدل لیتے؟ یہ کیا کہ(بقول میر) ع افتادہ ترجو مجھ سے مرا دستگیر ہو!اگر چہ دنیا کے دوسرے خطے بھی ان سے محروم نہیں لیکن آموں اور عاملوں کی فصل زیادہ تربرصغیر پاک و ہند میں کاشت ہوتی ہے ۔ یہیں سے پک پکا کر یہ دوسرے ملکوں میں بھی جاتے ہیں اور ”نَوے“ ہونے کے باوجود چھا جاتے ہیں...ٹھا کر کے ۔ ہمیں اپنے گزشتہ دورہ¿ برطانیہ میں لندن کے چند اردو اخبارات دیکھنے کا تفاق ہوا ۔ ہمارا خیال تھا کہ اشتہارات کی حد تک یہ بے کیف ، بے جان اور پھیکے ہوں گے اس لیے کہ پنجابی فلمیں وہاں چلتی نہیں اور انگریزی والے ہمارے اخباروں کو گھا س نہیں ڈالتے ۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ گھا س ہی ڈالتے ہیں ، اشتہار نہیں دیتے ۔تاہم ہمارا یہ اندازہ غلط نکلا ۔ اردو اخباروں میں شائع ہونے والے اشتہار اپنے دیگر مندرجات کے مقابلے میں کہیں زیادہ پر لطف ، پرکشش اور پر تجسس ثابت ہوئے ۔ وطن سے دور وطن کے بارے میں خبریں ، تبصرے اور اداریے پڑھ کر جو افسردگی پیداہوتی وہ ان اشتہاروں کی سرخیوں ہی سے دور ہو جاتی۔ آپ ان کے ذریعے سُستی ، کاہلی او ر(؟) کی دواو¿ں سے لے کر سَستی قانونی امداد کی فراہمی تک کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ سب سے زیادہ حوصلہ جو اشتہار بڑھاتے ہیں وہ عاملین و کاملین کے ہوتے ہیں ۔ اب یہ ہمارا ہی قصور تھا کہ ہم وقت ، اعتقاد او رزر مبادلہ کی کمی کے باعث ان کی خدمات سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور خالی خولی اپنے ”دار المسائل “ میں لوٹ آئے ورنہ ہمارے میزبان کا کہنا تھا کہ عامل حضرات مسائل کو اس طرح حل کردیتے ہیں کہ وسائل کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔ آج کے اس کالم میں ہم دو ایسے اشتہاروں کا مختصر جائزہ لیں گے جو اپنی نوعیت میں اہلِ مشرق کے لیے علاج غم اور اہلِ مغرب کے لیے کھلا چیلنج ہیں ۔پہلا اشتہار ایک شاہ صاحب کا ہے جنہوں نے اس کے آغاز ہی میں پڑھنے والوں کو یقین دلایا ہے کہ خدمت خلق کے ضمن میں انہیں ایک دو نہیں پورے سترہ ”مو¿کلات “ کا تعاون حاصل ہے جو ان کے ایک اشارے پر زمین آسمان ایک کر سکتے ہیں ۔ ہم جیسے بد عقیدہ لوگوں کے اطمینانِ قلب کی خاطر شاہ صاحب نے ان ”حاضر سروس ” مو¿کلات کے پیارے پیارے نام بھی دے دیے ہیں جو یہ ہیں: رفتمائیل ، شرفائیل، ، تنکفیل ، اسمائیل ، سرکتائیل،میکائیل، لوزائیل ، لوفائیل ، لومائیل ، ہموائیل ، سرحمائیل ، ہجمائیل، دردائیل ، امواکیل ، ہمزائیل ، کلکائیل اور عطرائیل۔ ہم نے قافیے کی مناسبت سے اس فہرست میں اسرائیل کو تلاش کیا مگر وہ نہیںملا ۔ بہر حال جسے شبہ ہو وہ ان ”مو¿کلات “ کے قومی شناختی کارڈ چیک کرکے اپنی تسلی کرلے ۔ ان میں میکائیل کا نام بھی ہے اگر یہ وہی میکائیل ہیں جو اﷲ کے مقرب فرشتوں میں داخل ہیںتو شاید وہ بندوں کی روزی رزق پہنچانے کی مستقل ذمے داری سے فارغ ہو کر شاہ صاحب کے لیے اوورٹائم لگاتے ہوں گے۔ اگر یہ صورت حال ہے تو شاہ صاحب بجاطور پر کہتے ہیں ”انعامی چانس ، لاٹری، پرائز بانڈ نمبرلگوانے کے لیے بذریعہ مو¿کلات و جنات نمبر حاصل ”کرائیں “ ۔ ہر کام نیک نیتی کے ”جذبے “ سے کیا جاتا ہے ۔ عوام کی خدمت عین عبادت ہے ۔“ تاہم یہ بڑے اوکھے قسم کے ”مو¿کلات و جنات “ معلوم ہوتے ہیں کہ دوسروں کے بانڈ اور لاٹری کے نمبر لگا دیتے ہیں لیکن اپنے آقا کو گردش ایام کے حوالے کر رکھاہے ۔ اشتہار میں مزید جن کھڑوں سے بے پروا ہونے کی بشارت دی گئی ہے ان میں من پسند شادی ، شرطیہ بیٹے کی پیدائش، روزگار کا حصول ، محبت میں کامیابی اور روٹھے ہوئے محبوب کو رام کرنا شامل ہے۔شاہ صاحب نے اپنے مذکورہ اشتہار میں خود کو شہنشاہِ جنات قرار دیا ہے جس سے معلوم ہو ا کہ ناری مخلوق میں آج کل ”قحط الرجال“ ہے جو اس نے خاکی مخلوق کو اپنا شہنشاہ بنایا ہے۔ بہر حال اس قماش کی متعدد یقین دہانیوں کے بعد انہوں نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے جلی حروف میں لکھا ہے ”ناممکن کو ممکن بنائیں ، جو چاہیں سو پائیں ۔“ (اﷲاﷲخیر صلّا) ۔دوسرا اشتہار ایک پروفیسر صاحب کا ہے ۔یہ بھی باتصویر ہے اور اس کے ”کنندہ “ نے بھی خود کو شہنشاہِ جنات ڈیکلیر کیا ہے ۔ پس ثابت ہو ا کہ جنات ہم انسانوں سے زیادہ جمہوری مزاج کے حامل ہیں جو اپنی سلطنت میں ایک سے زیادہ شہنشاہ برداشت کرلیتے ہیں اور وہ بھی غیر قوم کے!بھارت والے خاص طور پر اس سے عبرت حاصل کریں جنہوں نے ایک دفعہ ایک منتخب اور اکثریت کی حمایت یافتہ خاتون کو محض اس لیے اقتدار سے محروم رکھاتھا کہ کبھی اس کا تعلق اٹلی سے رہا تھا ۔ یہ ”شہنشاہوں “ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ اتنے کروفر کے باوجود وہ انسانوں میں عام لوگوں کی طرح قیام پذیر ہیں اور یہ جنات کی کم ظرفی ہے کہ اپنے حکمرانوں کو اخباری اشتہارات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ۔شاہ صاحب نے اپنی حق گوئی کے ثبوت میں اپنے ”زیر استعمال “مو¿کلات کے نام چھاپے ہیں جبکہ پروفیسر صاحب کا ارشاد ہے” ہماری سچائی کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی پر جنّ، پری ،بھوت ، دیو ، سایہ ، خبیث چڑیل وغیرہ کے اثرات ہوں یا گھر میں خبائث کا بسیرا ہو تو ہر چیز کا خاتمہ ہو جائے گا۔ آزمائش شرط ہے ۔ “ ہمیں پہلے گمان ہو اکہ کہیں ہر چیز کے خاتمے کا مطلب یہ تو نہیں کہ پروفیسر صاحب کی فیس دیتے دیتے گھر کے تمام سازو سامان کا صفایا ہو جائے گا لیکن پھر کان کی لو پکڑ کر اس بدگمانی کو رفع بلکہ دفع کر دیا ۔پروفیسر صاحب نے یہ بھی نوید دی ہے کہ ان کے ” وراثتی جنات کے ”ذریعے “ اپنی پریشانیاں گھربیٹھے دو رکریں اور چار دن کی زندگی کو جنت بنائیں۔“جنات کے توسط سے جنت حاصل کرنے کا غالباً یہ پہلا کیس ہوگا ۔ وراثت کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر صاحب رقم طرازہیں ”چودہ سو سال پرانے جنات جوکہ عرصہ 350سال سے ہماری وراثت میں چلے آرہے ہیں ہر وقت ہر خدمت کے لیے حاضر رہتے ہیں ۔“ اس وضاحت سے ان کے مقبوضہ جنات کی ضعیف العمری کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ آباو¿اجداد کے ترکے میں منتقل ہوتے ہوئے پروفیسر صاحب تک پہنچے ہیں ۔ ان ہی پرانے چاولوں کے بل بوتے پر پروفیسرصاحب اعلان کرتے ہیں ” من پسند جگہ پر شادی ، اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر مرجانا ، قرضہ، مالی نقصان ،نوکری کی بندش ، عشق محبت کے امور، صحت ، نافرمان اولاد ، نظر بد اور بے چینی صرف ایک ملاقات میںدور۔“مزید ثبوت کے طور پر اشتہار میں زور دے کر کہا گیا ہے ”پاکستانی وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتوں کے خاتمے ، افغانستان پر امریکی حملے ، فلسطین اور بھارت میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی پیش گوئیوںنے پروفیسر کو ”بین الاقوامی“ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے ۔“ پروفیسر صاحب نے تلقین کی ہے ” جو عورتیں گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے پریشان ہیں اور وہ خاوندوں کے ساتھ اپنی مرضی سے خوشحال زندگی گزارنا چاہتی ہیں تو فوراً ان سے رابطہ قائم کرکے چوبیس گھنٹوں میں دل کی مرادپائیں ۔“اسی اشتہار میں ایک دوسری جگہ اعلان ہے ”ہر کام کی کامیابی 7گھنٹے میں ۔“اب مسئلہ یہ ہے کہ
کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیے
لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ
اس بے یقینی سے قطع نظر ہمیں شکوہ ہے کہ پروفیسر صاحب نے ایسی کوئی خوش خبری خاوندوں کو کیوں نہ دی ؟ ان غریبوں کو جنرل کیٹیگری میں ڈال دیا ہے کہ” ایسی کوئی مشکل نہیں جس کا ہم حل نہ نکال سکیں ۔ “ اور یہ کہ ”مایوس نہ ہوں ۔خودکشی نہ کریں ۔ اپنا دکھ درد ہم سے بیان کریں ۔“ ہم بوجوہ ان سے رابطہ قائم نہ کرسکے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مایوس نہیں۔ انہیں بے شمار قدیم اور آبائی جنوں پر تصرف حاصل ہے لہٰذا ہمارا مو¿قف یہ ہے کہ
اپنی حالت اگر میں خود نہ کہوں
کیا انہیں بھی نظر نہیں آتی ؟