سڑک چھاپ چٹور خانے

17 جولائی 2017

مہذب دنیا میں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ پیدل راہگیر حفاظت و سکون کے ساتھ ٹریفک کے اژدھام میں بغیر کسی رکاوٹ اور پریشانی کے اپنا سفر طے کر سکیں ےا سڑک پار کر نے کی غرض سے ےا پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظار میں آرام سے کھڑے ہوسکیںخاص کر آج کے بے ہنگم اور ٹریفک قوانین اور قیمتی انسانی جان کی قدر و منزلت سے نا بلد ٹریفک اژدھام جس کی وجہ سے حادثات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔اخبارات اور چینلزایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں ایسے میں یہ فٹ پاتھ خاص کر بچوں کے لیے جو ان تمام مسائل سے ناآشنا ہوتے ہیںکسی جائے پناہ سے کم نہیں۔ہمارے مادروطن میں ٹریفک قوانین سے لے کر پیدل راہگیروں کے لیے Paedestrian قوانین تک بھی موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ان پر عمل درآمد کروانے والااور کرنے والا یعنی ہماری انتظامیہ اور عوام دونوں ہی قانون شکن ہیں۔جس کی کھلی مثال ان فٹ پاتھوں پر جابجا سڑک چھاپ چائے کے ہوٹلوں ،ریستورانوں ،اسنیک باروں،فاسٹ فوڈز اور آئسکریم پارلروں کا قبضہ ہے جو کسی قبضہ مافیا سے کم نہیںہماری پولیس کی روایتی کمزوری کا فائدا اٹھا کر یہ مافیا فٹ پاتھوں کے ٹھیکے داربنے گئے ہیں کوئی فٹ پا تھ کی جگہ ان کے چٹور خانوں کے سامنے خالی نہیں رہ سکتی یہ اس کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیںاور فٹ پاتھ کی زمین کو پیدل چلنے والوں کے لیے خالی چھوڑنا ان کی غاصبا نہ سوچ برداشت نہیںکر سکتی ۔مالِ مفت دلِ بے رحم کی مثال کے مصداق یہ ان فٹ پاتھوں کو اس بے دردی سے استعمال کرتے ہیں کہ وہ عام پیدل چلنے کے قابل نہیںرہتی۔بے چارے پیدل چلنے کے لیے سڑک کا استعمال کرتے ہیں اب تو فٹ پاتھ سے متصل سڑک تک ان کے غاصبانہ قبضے سے نہیں بچ سکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام در ہم برہم رہتا ہے کیوںکہ فٹ پاتھوں او ر متصل سروس سڑکوں پر ان مافیا کا قبضہ ہوتا ہے مگر ساتھ ساتھ ان چٹور خانوں پر آنے والے عوام اپنی روایتی بے حسی اور قانون شکنی کی عادت سے مجبور ہوکراپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں فٹ پاتھ سے متصل مین روڈ پر پارک کردیتے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کی اس حرکت سے ٹریفک کا نظا م درہم برہم ہو جاتا ہے جس سے عوام کو ذہنی اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات تو ایمبولینس بھی اس اژدھام کی بھینٹ چڑھ جا تی ہیں جس میں کوئی مریض اپنی زندگی اور بقاءکی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے مگر قوم جس بے حسی کی ڈگر پر گامزن ہے وہ انھیں اتنا سوچنے کا موقع نہیں دیتی کیوںکہ ان کے پاس ان تمام فالتو باتوں کے لیے وقت نہیں ہے جو ان کے مفاد پر پورا نہ اترتی ہوں۔انھیں تو بس اپنا الو سیدھا کرنا ہے ۔پیٹ کی آگ بجھانی ہے اور اپنے گھروں کو واپس لوٹ جانا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم زندہ رہنے کے لیے نہیں کھاتی بلکہ کھانے کے لیے زندہ ہے چاہے وہ کسی کا جائز حق ہو ، رشوت ہوےا ، کسی کی پراپرٹی ےا جائیدادہو چاہے ملکی خزانہ ہو ےا اساسے کھانے پینے کے معاملے میں یہ کسی ضابطہ اخلاق، مذہبی تعلیمات ،معاشرتی روادار ی ، انسانی حقوق ، اور یہاں تک کہ ملکی وقا ر ،استحکام و سالمیت تک کی پروا نہیں کرتے یہ تو پھر ٹریفک قوانین ہیں۔ ان کی اس حرکت سے کسی پر کیا گزرتی ہے انھیں کوئی پرواہ نہیں ۔عوام میں بڑھتی ہوئی لاقانوانیت کی سب سے بڑی وجہ قانون بنانے والوں اور نافذ کرنے والوں کی جانب سے خود قانون شکنی ہے۔خاص کر ہمارے حکمر©اں،امراءاور بااثر طبقہ جو قانون بناتے ہیں خود قانون کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں چاہے ان کے شاہی قافلے کے لیے پروٹوکول ہو ےا دیگر قانونی اور آئینی معاملات ہوں ۔قانون کی کتابوں کے اوراق ان کی نظر میں ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں۔جب قانون بنانے والوں کا یہ حال ہوگا تو پھر قانون نافذ کرنے والوں سے اس پر عمل درآمد کی امید کرنا دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔
سڑک کے کنارے ان جا بجا چٹور خانے جو اب باقائدہ فوڈاسٹریٹ کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جہاں رات گئے پرتعیش کھانے پینے اور لوازمات کا سلسلہ جاری رہتا۔
ٓ اعتراض ان سڑک چھاپ چٹور خانوں پر نہیں بلکہ اس غاصبانہ سوچ پر ہے جو پہلے سے ہی فرسٹریشن زدہ معاشرے میں مزید فرسٹریشن کا سبب بن رہے ہیں۔ کیوںکہ معاشرے میں پھیلی عدم مساوات اور ناانصافی نے منفی رجحان اور عدم برداشت کی روش کو ہوا دی اور حکمراں ،بااثر،ایلیٹ کلاس ےا صاحب ثروت طبقے کی مفاد پرستانہ اور غاصبانہ سوچ اور عمل نے متوسط اور غریب طبقے میں احساس محرومی پیدا کر رہا ہے۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے اس اشرافیہ کو ہمارے معاشرے میں عزت و تعظیم کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے کیوں کہ دولت ہی عزت کا معیار بن گیا ہے عام رجحان یہی ہے کہ لوگ اسی شخص کی عزت کر تے ہیں جس کے پاس چند ٹکے ہوں اور معاشرے میں اونچا مقام رکھتا ہو چاہے اس نے یہ دولت اور مقام جائز طریقے سے حاصل کیا ہو ےا ناجائز ۔ چاہے وہ تعلیمی ،دماغی اور اخلاقی لحاظ سے جاہل،بدکردار اورقماش ہی کیوں نہ ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم ،دانشور،تعلیم ےافتہ افراد کی قدر و منزلت نہیں ر ہی جو ہونی چا ہیے۔ مفاد پرستی کی آگ اس معاشرے کو جلا کر راکھ کی طر ف دھکیل رہی ہے جس پر پانی دالنے کی ضرورت ہے مگر بزورِ ڈنڈا و قانون نہیںبلکہ اخلاقیات،رواداری،ہمدردی ،مساوات و انصاف اوربھائی چارے کی وہ فضاءقائم کرکے جو کسی بھی مہذب معاشرے کا رول ماڈل ہوتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام کی تعلیمات کا نچوڑ بھی ہے او ر یہ ر ول ماڈل رویہ Trickle Down ہونا چاہئے ہمارے حکمراں،بااثر،ایلیٹ اور اشرافیہ کی جانب سے متوسط ،غریب اور نادار طبقے کی طرف۔جس کی امید ہی کی جا سکتی ہے کیوں امید پر دنےا قائم ہے ۔