مون سون بارشیں جاری، لاہور میں چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق، 6 زخمی

17 جولائی 2016 (20:07)

ملک کے کئی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید بارشوں کے باعث لاہور کے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ مختلف علاقوں میں مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات میں 3 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے۔ رات لاہور میں ہونے والی شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے اور سڑکیں تالابوں کا منظر پیش کرنے لگیں جب کہ ٹرانسفارمرز جلنے اور فیڈر ٹرپ ہونے سے گلبرگ جیسے پوش علاقے سمیت کئی علاقوں میں بجلی رات سے ہی غائب ہے ۔ لاہور کے علاقے بند روڈ پر مکان کی چھت گرنے سے 3 بچے جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا، جاں بحق اور زخمی بچوں کی عمریں 4 سے 10 سال کے درمیان ہیں۔ مصطفی ٹاوؤن میں زیر تعمیر مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے جب کہ شمع اچھرہ کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے باپ جاں بحق اور بیٹا زخمی ہو گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے لاہور میں آئندہ تین روز بھی بارش کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ رات ہونے والی تیز بارش کے بعد موسم سہانا ہو گیا۔محکمہ موسمیات نے خیبر پی کے ، فاٹا، اسلام آباد، بالائی، وسطی، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کہیں کہیں تیز ہواو¿ں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ کراچی میں مطلع جزوی اور مکمل طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔شیخوپورہ اور قصور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش ہوئی۔خراب موسم کے باعث لاہور آنے والی پروازیں بھی متاثر ہوئیں ، دبئی سے آنے والی غیرملکی ایئرلائنز کی پرواز کو کراچی کی جانب موڑ دیا گیا ،ابوظہبی سے آنے والی پرواز بھی فضا میں چکر کاٹنے کے بعد لینڈ کر سکی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب میں سب سے زیادہ بارش جھنگ میں ہوئی جہاں 71 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 63، گوجرانوالہ اور بھکر میں 42، لاہور میں 41، اوکاڑہ 23، لیہ 20، سرگودھا 15، راولپنڈی میں 8 جبکہ ساہیوال میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پی کے میں دریائے کابل ، سندھ اور دریائے پنجکوڑا میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیاگیا ۔ فلڈ سیل پشاورکے مطابق دریائے کابل میں ورسک کے مقام پر پانی کا بہاو¿ 39 ہزار90 کیوسک اور نوشہراکے مقام پر 57ہزار800کیوسک ریکارڈ کیاگیا ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...