ترکی: باغیوں کیخلاف آپریشن جاری، فوجیوں سمیت 6000 ہزار گرفتار، ہلاکتیں 285 ہوگئیں

17 جولائی 2016 (18:35)

 ترکی کے وزیر انصاف بیکیر بوڈ واگ نے کہا ہے کہ باغیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ جاری ہے، ترکی میں بغاوت کچلے جانے کے بعد 6 ہزار افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ گرفتار افراد میں اعلیٰ فوجی افسران اور ججز بھی شامل ہیں۔ میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ 50 سے زائد سینئر فوجی افسروں کو مغربی صوبے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، ترکی کے عوام نے جمہوریت پسند کا ثبوت دیا ہے۔ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ناکام ہو جانے کے بعد صدر رجب طیب اردگان کے کہنے پر عوام نے مختلف شہروں میں جمہوریت کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔نکالی جانے والی ان ریلیوں میں لاکھوں افراد شریک تھے جنھوں نے ہاتھوں میں بینرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے بعد حکومت نے ملک بھر میں 2745 ججوں کو برخاست کر دیا ہے جبکہ بغاوت کی کوشش کے دوران مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرنے والے285 افراد میں سازش کی منصوبہ کرنے والے 104 افراد اور 161 عام شہری شامل ہیں۔ ان عام شہریوں میں سے 20 افراد ایسے تھے جنہوں نے سازش میں معاونت کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 285 ہو گئی ہے۔ ترکی کے صدر کے دفتر سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ بغاوت کی کوشش کے دوران مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرنے والے285 افراد میں سازش کی منصوبہ کرنے والے 104 افراد اور 161 عام شہری شامل ہیں۔ان عام شہریوں میں سے 20 افراد ایسے تھے جنہوں نے سازش میں معاونت کی تھی۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ترک صدر طیب اردگان کو ٹیلی فون کیا اور بغاوت ناکام بنانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں ماورائے آئین اقدامات نہیں ہونے چاہیں۔ ادھر ترکی میں فوجی بغاوت کے دوران گرفتار ہونے والے فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائی کو فوج کی تربیتی مشق سمجھ کر اس میں حصہ لیا تھا۔روسی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ رات ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے فوجی اہلکاروں نے دوران تفتیش اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں اس بات کاکسی صورت اندازہ نہیں تھا کہ یہ تمام کارروائی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کی جا رہی ہے، وہ سمجھے تھے کہ یہ سب فوجی تربیتی مشق کا حصہ ہے تاہم جب عوام نے ٹینکوں پر چڑھنا شروع کیا تب انہیں تمام کارروائی کا مقصد سمجھ میں آیا۔