فتح اللہ گولن کون؟

17 جولائی 2016

لاس اینجلس (اے ایف پی) 75 سالہ اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ترکی میں فوجی بغاوت میں ملوث ہیں وہ اس وقت امریکی ریاست پنسلوانیا میں مقیم ہیں۔ ان کے اپنے ملک میں بہت سے پیروکار ہیں۔ پولیس اور عدلیہ میں ان کے حامی موجود ہیں۔ وہ پنسلوانیا کے ایک چھوٹے قصبہ پوکونو کے پہاڑی علاقے میں مقیم ہیں۔ گولن ایک وقت میں وزیراعظم اردگان کے قریبی اتحادی بھی رہے ہیں۔ ان پر بغاوت کا الزام پہلے بھی لگ چکا ہے اور وہ 1999ء میں چلے گئے تھے۔ وہ عام طور پر انٹرویوز سے گریز کرتے ہیں اور عوام کے سامنے کم آتے ہیں۔ گولن امام مسجد بھی رہے۔ 1941ء میں پیدا ہونے والے 75 سالہ فتح اللہ گولن سید النورس سے متاثر ہیں۔ سید النورس 1877ء میں پیدا ہوئے۔ وہ مولانا روم، امام غزالی اور شیخ سرہندی سے متاثر تھے۔ نورس مدارس میں جدید تعلیم اور جدید مدارس میں اسلامی تعلیم دینے کے حامی تھے۔ فتح اللہ گولن کا کہنا ہے کہ ا نکی تحریک غیر سیاسی ہے وہ 2013ء تک اردگان کے ساتھی رہے تاہم کرپشن کے معاملے پر تحقیقات پر اختلافات پر الگ ہو گئے۔ 2014ء کی ناکام بغاوت کا الزام بھی ان پر عائد کیا گیا تھا۔ فتح اللہ گولن اہل کتاب کے ساتھ ڈائیلاگ کے حامی ہیں۔ فریڈم فلوٹیلا کے معاملے پر بھی انہوں نے حکومتی پالیسی سے اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ بہتر تھا کہ اسرائیلی حکومت سے اسکی اجازت لے لی جاتی۔ انکے مخالف انہیں صیہونی طاقتوں کا آلہ کار بھی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گولن صیہونی طاقتوں کی ایما پر اردگان حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔فتح اللہ گولن ترک حکومت کی شام پالیسی کے بھی مخالف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں ہمسایوں کو ناراض نہیں کرنا چاہئے۔ گولن تحریک کے لاکھوں ارکان ہیں جو فوج، پولیس، عدلیہ اور بیوروکریسی میں سب جگہ موجود ہیں۔ ان کی گولن تحریک اسلام اور صوفی ازم کے درمیان کی کڑی سمجھی جاتی ہے۔