اردگان کو مبارکباد، ترکی مزید مضبوط قوم کی حیثیت سے سامنے آئیگا: سیاسی رہنما

17 جولائی 2016

لاہور+ اسلام آباد (سپیشل رپورٹر+ ایجنسیاں) ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کے عوام نے منتخب قیادت کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ اس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ حقیقی جمہوری قیادت کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے اس ناکام کوشش کے بعد ترکی مزید مستحکم اور مضبوط قوم کی حیثیت سے سامنے آئے گا۔ ترکی کی عوام مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے سڑکوں پر آکر ٹینکوں اور توپوں کا نہتے سامنا کیا اور سازشیوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستانی عوام بالعموم اور پاکستان پیپلزپارٹی بالخصوص فوجی بغاوت کے مضمرات سے آگاہ ہیں۔ تاریخ نے ہمیں سبق سکھایا ہے کہ جمہوری حکومت کوفتح کرنے سے ریاستی ادارے تباہ ہو جاتے ہیں اور ملک کی سماجی اور سیاسی صورتحال بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ پاکستانی عوام سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ جمہوریت ہی میں قوم کی بقاء ہے اور جمہوریت ہی عوام کے مفاد میں ہے۔ آج ساری دنیا میں جمہوری قوتیں اس بغاوت کی ناکامی پر خوش ہیں۔ ترکی کی حزبِ اختلاف کی پارٹیاں بھی شاباش کی مستحق ہیں کہ انہوں نے سیاسی مخالفت کے باوجود جمہوریت کی حفاظت کی، حالانکہ ترکی کی حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کی پالیسیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ اس مشکل وقت میں صدر اردگان کی قیادت کی تعریف کرنی چاہیے۔ اس ناکام بغاوت سے ترکی کے عوام اور ادارے مزید مستحکم ہوں گے اور انہیں تقویت ملتی ہے۔ اگر اس ناکام بغاوت سے کچھ فائدہ ہوا ہے تو وہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت پسند قوتیں مستحکم ہوں گی اور کسی بھی طالع آزما کو کوئی ایسا قدم اٹھانے سے قبل اپنا انجام سوچنا ہوگا۔ سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رجب طیب اردگان ترکی کے منتخب جمہوری صدر ہیں جن کی آواز پر عوام لبیک کہہ کر ملٹری کو ناکام بنا دیا۔ ترکی میں جمہوریت جڑ پکڑ لے گی۔ رجب طیب اردوان کو ترکی کی عوام نے منتخب کیا ہے ان کی حکومت کو ملٹری کے ذریعے گھیرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ترکی اور پاکستان دیرینہ دوست ہیںاور ترک کے ساتھ پاکستان کے باہمی تعلقات لازوال ہیں۔ طیب اردگان نے جب حکومت سنبھالی اس وقت بھی انہیں فوجی بغاوت کا خدشہ تھا جس کو انہوں نے مہارت کے ساتھ ناکام بنایا اور ملک کو ترقی و خوشحالی فراہم کر کے ترک عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اس لئے طیب اردگان کی ایک آواز پر ترک عوام نے لبیک کہا اور اپنی جانوں سے کھیل کر فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے ترکی بھی دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے۔ دعا ہے کہ ترکی میں حالات جلد معمول پر آ جائیں اور ترکی میں ترقی اور خوشحالی ائے۔ ترکی میں امن و استحکام خود ترک عوام خطے اور عالم اسلام کے حق میں ہے۔ مشاہدحسین سید نے کہا کہ ترکی میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے بغاوت کی سازش فوج کی ہائی کمان شامل نہیں تھی۔ ترک صدر اور عوام کو کریڈٹ دینا چاہئے کہ انہوں نے ترکی میں فوجی بغاوت کی مزاحمت کی۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کا کہنا تھا ترک صدر اور عوام کو فوجی بغاوت ناکام ہونے پر سلام پیش کرتا ہوں۔ انصارالامہ پاکستان کے سربراہ ودفاع پاکستان کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما مولانافضل ا لرحمان خلیل نے کہاہے کہ ترکی میں عوام جیت گئے اوراستعماری طاقتوں کی عالمی سازش ناکام ہوگئی امریکہ اوراس کے حواریو ں نے لیبیا، عراق، یمن اور دیگرممالک میں جوبغاوتیں کروائی تھیں یہ سازش بھی اسی کاتسلسل تھا طیب اردگان نے فلسطین، برما، شام اورامت مسلمہ کے دیگر مسائل پر جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے۔ طیب اردوان حقیقی معنوں میں مرد بحران ثابت ہوئے ہیں ترکی عالم اسلام کا نیا ابھرتا ہو کردار ہے۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ترکی میں جمہوریت کا تسلسل اور فوجی ٹولے کی بغاوت کی نا کامی خوش آئند بات ہے اور ترک عوام نے جمہوریت کیلئے اپنی عظیم جدوجہد کے ذریعے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام کی جمہوریت، آئین اور انسانی حقوق کیلئے یہ دلیرانہ مثال ساری دنیا کیلئے قابل تقلید ہے۔