ترک عوام نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جمہوریت بچالی

17 جولائی 2016

انقرہ (اے ایف پی+ رائٹر+ ایجنسیاں) ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردگان کی کال پر انقرہ اور استنبول میں لاکھوں ترک شہریوں نے گھروں سے باہر سڑکوں‘ گلیوں میں آکر باغیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ عوام باغیوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر انہیں آگے بڑھنے سے روکدیا اور جمہوریت کو بچاتے ہوئے فوجی گروپ کی بغاوت ناکام بنا دی۔ اردگان حکومت نے دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کے دوران فائرنگ‘ دھماکے اور دیگر واقعات میں 10 باغیوں‘ 41 پولیس اہلکاروں‘ 120 شہریوں سمیت 265 افراد مارے گئے‘ 1440 زخمی ہوئے ہیں‘ 3000 سے زائد باغی گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان میں اعلیٰ افسر اور سپاہی شامل کر لئے۔ 200 باغیوں نے ملٹری ہیڈ کوارٹرز پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ یرغمال بننے والے ترک آرمی چیف پلوسی آگلو کو بازیاب کراکے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، 5 جنرل برطرف کرکے گرفار کر لئے گئے ہیں۔ سی این این ترک چینل پر دکھائے گئے مناظر کے مطابق حکومت کیخلاف بغاوت کرنیوالے قریباً 50 فوجیوں نے استنبول میں واقع باسفورس کے پل پر ہتھیار ڈالے۔ باغی فوجیوں کے متعدد حامیوں نے استبول کے مرکزی تقسیم اسکوائر پر ہتھیار ڈالے۔ بغاوت کی کوشش کے الزام میں کمانڈر تھرڈ آرمی جنرل اردل اور ترک کو گرفتار کر لیا گیا۔ صدارتی محل سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق ترک فوج نے انقرہ میں صدارتی محل کے باہر موجود ٹینکوں پر ایف 16 طیاروں سے بمباری کی۔ حکام کے مطابق 20 عام شہریوں نے سازش میں معاونت کی تھی۔ اس سے قبل ترکی کے سیٹلائٹ آپریٹر پر حملے میں ملوث ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو انقرہ کے ضلع گولباسی میں مار گرایا گیا۔ دریں اثناء 2745 ججز اور پراسیکیوٹر فارغ انہیں حراست میں لینے کاحکم دیا گیا ہے۔ ترک باغی فوجی گروپ نے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ اور جیٹ طیاروں سے بمباری کی۔ اطلاعات کے مطابق بغاوت کرنے والا جرنیل مارا گیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان باغی فوجی گروہ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد وطن پہنچے تھے۔استنبول ائرپورٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے رجب طیب اردگان نے بغاوت کو 'غداری' قرار دیا اور کہا صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کا کام ہے۔ ٹی وی پر مرکزی شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوراہوں پر عوام کی بڑی تعداد دکھائی دی، جو پرچم لہراتے ہوئے منتخب حکومت کیلئے حمایت کا اظہار کر رہے تھے۔ ترک سپیشل فورسز کے کمانڈر جنرل ذکی اکساکلی نے این ٹی وی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مسلح افواج حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت نہیں کرتیں۔ بغاوت کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ان کی سپیشل فورسز عوام کی خدمت کیلئے موجود ہیں۔ قبل ازیں ترکی کے قائم مقام آرمی چیف جنرل امیت دندار نے کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے، 29 کرنلزاور 5 جرنلز کو انکے عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔ بغاوت میں شامل کئی کمانڈرز کو نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا ہے۔ ترک عوا م نے بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند کر دیا جوکبھی نہیں کھلے گا۔ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ باغیوں نے ترک نیول کے سربراہ کو بھی یرغمال بنایا‘ بحری جنگی جہاز پر بھی قبضہ کرلیا۔ ترکی نے بلغاریہ کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔ 8 باغی فوجی افسر بلیک ہاک ہیلی کاپٹر لے کر یونان چلے گئے اور سیاسی پناہ کی درخواست کی۔ ترکی نے یہ ہیلی کاپٹر مانگ لیا ہے اور یونان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کے بعد ہیلی کاپٹر واپس کردیگا۔ بغاوت کی کوشش کے دوران مصری ائرلائن نے استنبول کی پروازیں معطل کر دیں۔ ایران نے بھی پروازیں معطل کیں۔ صدارتی محل کے باہر ایف 16طیارے نے باغیوں کے ٹینکوں پر بمباری کی۔ ترک وزیراعظم نے ہائی جیک کیا گیا طیارہ مار گرانے کا حکم دیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش فوج کے اندر موجود ایک گروہ نے کی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش فوج کے اندر موجود ایک گروہ نے کی تھی۔ فوج کا مکمل طور پر بغاوت کی کوشش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ترک عوام نے اس کوشش کو اتحاد اور یکجہتی سے ناکام بنا دیا۔ ترکی میں بغاوت کرنے والے جرنیل کو گرفتار کرلیا گیا۔ ترکی نے انکرلک ائربیس پر سکیورٹی لاک ڈائون قائم بند کر دیا ہے۔ استنبول ائرپورٹ پروازوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ گرفتار کئے گئے 3000افراد میں 5 جنرل‘ 25 کرنل اور سپاہی شامل ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے بیان میں ترکی کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ منتخب جمہوری حکومت کاساتھ دیں‘ تشدد اور خونریزی سے گریز کیا جائے۔ جان کیری نے اپنے ترک ہم منصب کو فون کیا جس میں انہوںنے کہاکہ ترکی میں منتخب جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور امید ہے کہ ترکی امن و استحکام برقرار رکھتے ہوئے موجودہ بحران پر قابو پالے گا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے ترکی میں ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ٗ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ترکی میں خون خرابہ نہیں ہونا چاہئے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے بھی ترک عوام سے پْرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی جانب سے ملکی معاملات میں مداخلت کسی صورت قبول نہیں ہے۔ یونان کے وزیراعظم نے ترکی میں فوج کے باغی گروپ کی جانب سے بغاوت کے بعد اپنے ترک ہم منصب کو پیغام بھیجا جس میں جمہوری حکومت کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ نیٹو افواج کے سربراہ نے ترکی میں جمہوری حکومت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نیٹو کا اہم رکن ہے اور نیٹو ترکی کے جمہوری اداروں کی عزت کرتا ہے تاہم ترک عوام پُرامن رہیں اور تشدد سے گریز کیا جائے۔جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکی میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کا ہر صورت میں احترام کیا جانا چاہئے تاہم انسانی جانوں کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے ترکی میں ہونے والی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغرینی نے ترکی میں رجب طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرنے کو کہا ہے۔خلیجی مالک میں ترکی کے اہم اتحادی ملک قطر کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی مذمت کی گئی ہے ٗ ایران کی جانب سے بھی ترکی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ہے ترکی کا استحکام، جمہوریت اور ترک عوام کا تحفظ بہت اہم ہے انہوںنے کہاکہ اتحاد اور دوراندیشی لازمی ہے۔ یورپی رہنمائوں نے ترکی میں تختہ الٹنے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلامی کانفرنس تنظیم نے ترکی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ او آئی سی نے کہا ہے کہ ترکی کی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کریںگے۔ ترک عوام نے جمہوریت کیلئے عظیم قربانی دی۔ امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کی ہے۔
ترکی/ بغاوت
انقرہ (نوائے وقت رپورٹ/ ایجنسیاں) ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنی رہائش گاہ کے باہر حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سے مطالبہ کریں گے کہ فتح اللہ گولن پر مقدمہ چلائے یا اسے وہ ہمارے حوالے کرے۔ ہم ایک جھنڈے تلے جمع تمام ترک عوام ایک ریاست چاہتے ہیں۔ ریاست کے اندر ریاست نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے مظاہرین کے درمیان آکر نعروں کا جواب دیا اور کہا کہ گولن تحریک کے باعث ملک کو ناقابل بیان حالات کا سامنا ہے۔ بغاوت میں حصہ لینے والوں کو سزا دی جائے گی۔ ترکی میں بغاوت فوج کے ایک گروپ نے کی۔ ترکی کے تمام ادارے فعال ہیں۔ ایک ایک باغی کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کو سزائے موت دینے کے بارے میں غور کریں گے۔ حالیہ اقدام بغاوت تھا۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ بغاوت کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، فوج میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائیگا اور گند صاف کر دیا جائے گا جبکہ وزیراعظم بن علی یلدرم نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کو ملکی تاریخ پر سیاہ ترین دھبہ قرار دیتے ہوئے ہر سال 16 جولائی کو یوم جمہوریہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدرنے کہاہے کہ آج کا ترکی پہلے سے مختلف ہے، پولیس، جمہوریت پسند فوج اور عوام نے سازش ناکام بنا دی۔ عوام کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔ ملک کے اتحاد اور استحکام کے خلاف سازش کی گئی تھی، غداروں کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ غداری کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ طیب اردگان نے فتح اللہ گولن پر بغاوت کا الزام دہرایا اور کہا کہ باغی فوجی پنسلوانیا سے ہدایات لے رہے تھے، ثابت ہو گیا گولن ایک دہشت گرد گروہ کا نام ہے۔ حکومت کنٹرول میں ہے اور یہ واضح ہو گیا کہ عوام نے کس کو منتخب کیا ہے۔ فوج میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے گا۔ غداروں کو اپنی حرکت کی کڑی قیمت چکانا ہو گی۔ ترک صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات معمول پر آنے تک گھروں کو نہ جائیں۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 15 جولائی کی رات کو فوج کے ایک چھوٹے سے گروہ کی جانب سے بغاوت کی کوشش کی گئی جسے کچلنے کے لئے عوام نے اپنی زندگیاں دائو پر لگا دیں، لوگ اپنے ملک اور جمہوریت کے لئے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے جب کہ فوجی اہلکاروں نے بھی جمہوریت کو بچانے کے لئے قربانیاں دیں، قربانیاں دینے والوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ترک وزیراعظم نے عوام سے قومی پرچم سڑکوں پر لہرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 16 جولائی کو ہر سال یوم جمہوریت کے طور پر منایا جائے گا، عوام سے جمہوریت کی محبت کو نہیں چھینا جا سکتا۔ بن علی یلدرم نے کہا کہ فوجی بغاوت کے نتیجے میں مجموعی طور پر 161 افراد ہلاک اور 1440 زخمی ہوئے، شہریوں پر فائرنگ کرد باغیوں کے بصری گروپ نے کی، 2839 باغیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، باغیوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے گا، انہیں سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔ سپیکر ترک پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ عوام نے جانوں کی پروا کئے بغیر آئین، جمہوریت پر رائے دی۔ عرب ٹی وی کے مطابق ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ سپیکر ترک پارلیمنٹ نے کہا کہ عوام نے شاہراہوں پر نکل کر باغیوں کو سبق سکھا دیا۔ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آئے تو سپیکر اور ارکان پارلیمنٹ نے تالیاں بجا کر استقبال کیا۔ پارلیمنٹ نے کہا کہ باغیوں نے حکومت نہیں، جمہوری ملک کے اقدار پر ضرب لگانے کی کوشش کی۔ ترک پارلیمنٹ کے غیر معمولی اجلاس سے وزیراعظم بن علی یلدرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغاوت کرنے والے دہشت گرد اور غدار ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے عوامی طاقت سے جمہوریت کو بچایا۔ ملک بھر سے دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ آج کا دن ترک عوام کے عزم اور اتحاد کے حوالے سے یادگار رہے گا۔ بغاوت میں ناکامی پر ترک عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ناکام بغاوت مخالفین کے ساتھ تعلقات کا نیا آغاز ہو گی۔ ترکی نے امریکہ سے فتح اللہ گولن کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فتح اللہ گولن پر مقدمہ چلائے یا اسے ہمارے حوالے کرے۔ طیب اردگان نے اپنے امریکی ہم منصب باراک اوبامہ کو ٹیلیفون کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ امریکہ فتح اللہ گولین پر مقدمہ چلائے یا اسے ہمارے حوالے کرے۔