وزیر اعظم کیلئے کیلئے کشمیر نہیں مودی کی دوستی اہم قوم نے حساب مانگا تو بیمار ہوگئے:بلاول

17 جولائی 2016
وزیر اعظم کیلئے کیلئے کشمیر نہیں مودی کی دوستی اہم قوم نے حساب مانگا تو بیمار ہوگئے:بلاول

مظفر آباد (آئی این پی+ این این آئی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے وزیراعظم نوازشریف کی خارجہ پالیسی میں کشمیر نہیں بلکہ مودی دوستی اہم ترین مقام رکھتی ہے، قوم نے حساب مانگا تو وزیراعظم بیمار ہو گئے، بتائیں آپ کیا چیز چھپا رہے ہیں، آپ کس بات سے ڈرتے ہو،آپ کی کرپشن کا صرف ایک مقصد ہے لوٹو کھائو، لوٹو کھائو ،ہم نے ملک کے اندر اور بیرون ملک عدالتوں کا سامنا کیا، پانامہ لیکس کی تحقیقات پر وزیراعظم اور انکی جماعت شور مچا رہی ہے۔ مظفز آباد میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا قوم آپ کی آف شور کمپینیز پر سوال کر رہی ہے اور آپ جواب نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا میاں صاحب کو پہلی بار جب عدالت نے طلب کیا تو آپ نے عدالتوں پر حملہ کر دیا۔ مشرف دور میں سزا ہوئی تو معافی نامہ لکھ کر ملک سے باہر بھاگ گئے۔ میاں صاحب آپ بتائیں آپ حساب کب دیں گے۔ انہوں نے کہا کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو بجٹ تخت رائے ونڈ پر خرچ ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) والے روایتی دھونس دھاندلی سے جیتے تو محسوس ہو گا کشمیریوں نے مودی کے یار کو ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا میاں نواز شریف لیڈر نہیں بزنس مین ہیں۔ تیسری بار قوم آپ سے حساب مانگ رہی ہے تو آپ بیمار ہو گئے ہیں۔ آپ کو اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے آپ عدالتوں کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ نام نہاد جلاوطنی کے وقت آپ نے سٹیل ملز اور آف شور کمپنی کیسے بنائی۔ انکی جھوٹ اور کرپشن کی عادت نے عوام کو دیوار سے لگا دیا۔ عوام ان کی کرپشن کے درمیان پس رہے ہیں۔ چھ مہینے میں بجلی پیدا ہوئی نہ لوڈشیڈنگ ختم ہوئی مگر آپ نے نام بھی نہیں بدلا۔ کرپشن کے سردار سالانہ 4 ارب کا ٹیکا لگا رہے ہیں۔ پاکستان میں بننے والے ہر منصوبے کا مطلب ہے لوٹو اور کھاؤ۔ کسان پیکج صرف تقریر کی حد تک ہے۔ انہوں نے کہا پارلیمان کی پرفارمنس ہی گڈ گورننس ہوتی ہے۔ گڈ گورننس کا پروپیگنڈا سن کر تنگ آگیا ہوں۔ روز گار، تعلیم، صحت اور انصاف سب کچھ عوام کو ملے تو اسے گڈ گورننس کہتے ہیں۔ صرف میٹرو بنانا اچھی گورننس کی علامت نہیں۔ انہوں نے کہا میاں صاحب کی خارجہ پالیسی میں کشمیر نہیں مودی دوستی اہم ہے۔ آپ کی کمزور خارجہ پالیسی کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ میاں صاحب 3 سال میں کتنی بار کشمیر کا نام آپ کی زبان پر آیا آپ ہر شعبے میں نا کام ہو چکے ہو۔ کشمیر کے عوام پیپلز پارٹی کے نشان تیر پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں تاکہ پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے مسائل کو حل کرے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں آسانی ہو۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا نوازشریف کا مزید اقتدار میں رہنا ملک کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ این این آئی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا میاں صاحب بتائیں کہاں دودھ کی نہریں بہائی گئیں، مسلم لیگ (ن)پانامہ لیکس پر کیوں بھاگ رہی ہے؟ انہوں نے کہا کشمیرکے لوگ ظالموں کے سامنے کبھی نہیں جھکے ٗاس الیکشن سے کشمیر کا مستقبل وابستہ ہے۔ مخالف جماعتوں کی کوئی کشمیر پالیسی نہیں۔ دوسری جماعتیں آزاد کشمیر حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور لاشیں نظر نہیں آتی، مسلم لیگ ن میں خارجہ پالیسی چلانے کی اہلیت اور جرات نہیں۔ کونسی سرحد پر تناؤ نہیں،حکومت کی خارجہ پالیسی کہاں ہے؟ خارجہ پالیسی ملکی تاریخ کی پست ترین سطح پر ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت ناکام، ناکام اور ناکام ہے اور میاں صاحب کی حکومت 3 سال میں کوئی حدف حاصل نہیں کرسکی۔ عوام پر ٹیکس کا بوجھ لاد دیا گیا اور وزیر خزانہ کہتے ہیں دال مہنگی ہو گئی ہے تو مرغی کھائیں اسحاق ڈار نے تسلیم کیا زرعی شعبے میں اہداف حاصل نہیں کر سکے۔ حکومت کہتی ہے ترقی ہو رہی ہے اگر ترقی ہو رہی ہے تو غربت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے سوائے میٹرو کے عوام کو کیا دیا ٗملک بھر میں سب سے بڑے منصوبے پیپلز پارٹی نے دیئے ہیں۔ پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور ہماری پارٹی صرف ایک شہر پر فنڈز خرچ نہیں کرتی۔ میاں صاحب آپ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیوں نظر نہیں آ رہے۔ میں پوچھتا ہوں آپ کب حساب دیں گے، حساب مانگنے پر آپ بہانے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پہلی بارحساب مانگنے پر آپ نے عدالت پر حملہ کر دیا دوسری بار آپ مشرف سے معافی مانگ کر ملک سے فرار ہوگئے۔آپ تو اس وقت ملک کی اپوزیشن کو دھوکہ دے کر بھاگ گئے تھے جس پر ایک بزرگ سیاستدان نصراللہ خان نے بھی کہا تھا مجھے افسوس ہے کہ میں نے ایک تاجر کے ساتھ کام کیا۔ تیسری بار آپ سے حساب مانگا جا رہا ہے تو آپ بیمار ہوگئے، میاں صاحب آپ بتائیں آپ کو کس بات کا ڈر ہے ٗ آپ عوام کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔ آپ کہتے ہو آپ کا احتساب کیا گیا۔ کیا ایک محل سے دوسرے محل میں منتقل ہونے کو احتساب کہتے ہیں۔ میاں صاحب آپ کے جھوٹ نے قوم کو دیوار کے ساتھ لگا دیا۔دانش سکول منصوبے بھی کرپشن، سستی روٹی سکیم میں بھی کرپشن، میٹرو میں بھی کرپشن۔آپ نے اپنا نام تو نہ بدلا تاہم کرپشن کے تما م ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ آپ کرپشن کے سردار ہیں جو پاکستان کو سالانہ 40کھرب کا ٹیکہ لگا رہے ہیں، آپ کی ترقی صرف ٹی وی سکرین تک محدود ہے۔