قندیل بلوچ گھر میں قتل چھوٹے نے بڑے بیٹے کے کہنے پر سوتے ہوئے گلا دبا دبا:والد

17 جولائی 2016

ملتان (کرائم رپورٹر+ ایجنسیاں) ماڈل قندیل بلوچ کو تھانہ مظفرآباد کے علاقہ میں واقع اس کے گھر میں قتل کردیا گیا۔ والد کی مدعیت میں مقتولہ کے بھائی وسیم کیخلاف قتل جبکہ دوسرے بھائی حساس ادارے کے محمد اسلم کے خلاف اعانت قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ آئی جی پنجاب کے نوٹس پر ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ تفصیل کے مطابق مختلف سکینڈلز منظر عام پر آنے کے باعث تنقید کا نشانہ بننے والی ماڈل قندیل بلوچ کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ملتان میں قتل کر دیا گیا۔ واضح رہے قندیل بلوچ نے تھانہ مظفر آباد کے علاقہ گرین ٹاؤن میں گزشتہ 6 سالوں سے کرایہ پر مکان لے رکھا تھا اور اکثر اس مکان میں آکر رہتی تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ عیدالفطر سے ایک روز قبل قندیل بلوچ اس مکان میں آکر اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ تین روز قبل اسکا بھائی وسیم ڈی جی خان سے آیا اور انکے ساتھ رہنے لگ گیا۔ گزشتہ روز قندیل بلوچ گھر میں مُردہ حالت میں پائی گئی اور وسیم گھر سے غائب تھا۔ مقتولہ کے والد عظیم کی اطلاع پر سی پی او اظہر اکرم سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو قبضہ میں لیکر تحقیقات شروع کر دیں۔ سی پی او اظہر اکرم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کے والد محمد عظیم کے مطابق قندیل کے بھائی وسیم نے بڑے بھائی اسلم شاہین جوکہ فوج میں نائب صوبیدار ہے‘ کے کہنے پر قندیل بلوچ کو گلا دبا کر قتل کیا کیونکہ دونوں بھائی اپنی بہن کے شوبز میں جانے سے نالاں تھے۔ وسیم نے پیسوں کی خاطر سب کیا۔ سی پی او نے بتایا کہ ملزم وسیم کی گرفتاری کیلئے رات 3 بجے خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے جبکہ اسلم شاہین کی گرفتاری کیلئے فوج سے رابطہ کیا جائیگا۔ پولیس نے قندیل بلوچ کی نعش کا پوسٹ مارٹم نشستر ہسپتال سے کرایا تاہم 10 سے زائد گھنٹے گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم کے بعد کسی رشتہ دار نے قندیل کی نعش وصول نہ کی۔ پولیس نے والد عظیم کی مدعیت میں تھانہ مظفر آباد میں وسیم کے خلاف زیردفعہ 302 جبکہ اس کے بھائی نائب صوبیدار اسلم شاہین کو اعانت جرم کی دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق قندیل بلوچ کی گردن پر ناخن کے نشان تھے اور موت دم گھٹنے کے باعث 36 گھنٹے قبل یعنی جمعرات جمعہ کی رات 8 سے 9 بجے کے درمیان ہوئی۔ اس کی گردن پر ناخنوں کے نشانات بھی تھے۔ قندیل بلوچ کے معدے کے اجزاء تجزیے کیلئے لاہور بھجوا دیئے گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر صورتحال کا جائرہ لیا تو واردات میں ایک سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جس پر پولیس نے مقتولہ کے والدین کو بھی شامل تفتیش کر لیا۔ بتایا گیا ہے وقوعہ کی شب قندیل بلوچ نیچے کے کمرے میں جبکہ قاتل بھائی وسیم چھت پر والدین کے پاس سویا ہوا تھا اور قتل کے کئی گھنٹے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ قندیل بلوچ کو اس کے بھائی وسیم نے جو نشے کا عادی ہے اور کوئی کام نہیں کرتا پیسے نہ دینے پر قتل کیا۔ پیسوں کے مطالبہ پر بہن بھائی میں جھگڑا ہوا اور نوبت گالم گلوچ تک پہنچ گئی تاہم ایک اور نجی ٹی وی کے مطابق پولیس حکام کاکہنا ہے کہ قندیل بلوچ کو نشہ آور دودھ پلانے کے بعد بے ہوش ہونے پر چھت پر منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا گیا۔ بعد میں نعش کمرے میں بستر پر رکھ دی گئی جوکہ پولیس کو درست حالت میں ملی۔ بے ہوشی کی وجہ سے قندیل مزاحمت نہ کر سکی جبکہ سیڑھیوں پر اس کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں بھی پولیس کو ملیں۔ ادھر رات گئے سی آئی اے پولیس نے ڈی جی خان کے علاقے شاہ صدر دین میں مقامی پولیس کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے قندیل بلوچ کے قتل کے ملزم اسکے بھائی وسیم، کزن ذوالفقار عرف زلفی سمیت کئی رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا۔ سی پی او ملتان اظہر اکرم نے ملزم وسیم کو رات گئے پریس کانفرنس میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ قندیل بلوچ کا قتل غیرت کے نام پر کیا گیا۔ وسیم نے بہن کو گلا دبا کر مارا۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا۔ اس نے بتایا کہ مفتی عبدالوقی کے ساتھ ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد اپنی بہن قندیل کو مارنے کا فیصلہ کیا، اسے پہلے نشہ آور مشروپ پلایا، پھر گلا دبا کر مار ڈالا۔ سی پی او کے مطابق قندیل بلوچ کی آج ڈی جی خان میں تدفین ہو گی۔ دریں اثنا پیپلزپارٹی کی رہنما بختاور بھٹو زرداری نے قتل بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ردعمل میں کہا کہ کوئی دفاع‘ کوئی جواز‘ کوئی غیرت نہیں اس گھنائونے کام پر، قندیل کے بھائی کو گرفتار کرکے مثال قائم کی جائے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر ردعمل میں کہا کہ قندیل بلوچ پاکستانی خاتون تھیں جنہیں زندہ رہنے کا حق تھا، پنجاب حکومت قندیل کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سزائیں دلائے۔ آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے نے کہا کہ قندیل بلوچ کے قتل پر بہت دکھ ہوا۔ ملک میں کوئی بھی عورت حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا غیرت کے نام پر قتل روکنے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون منظور کیا جائے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق کامران مائیکل نے قندیل بلوچ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قندیل بلوچ کے پہلے شوہرشاہد بلوچ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ فوزیہ (قندیل) کا قتل ظلم ہے، اسے بہتر زندگی گزارنے کا حق تھا۔ قندیل کے دوسرے شوہر عاشق حسین منجھوٹہ نے بتایا کہ قندیل کو مارنے والوں نے گھنائونا کام کیا جنہیں سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا مجھے دکھ ہے کہ میرا بیٹا اپنی ماں سے محروم ہو گیا۔ملزم وسیم نے کہا کہ قندیل بلوچ کو ویڈیو کی وجہ سے قتل کیا۔ مفتی عبدالقوی سکینڈل کے بعد برداشت نہیں ہوا تھا۔ سی پی او نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کیلئے نمونے لاہور بھجوا دیئے ہیں۔ مزید تفتیش کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔