اسحاق ڈار کا نام خارج کرنا نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سپریم کورٹ مداخلت کرے:عمران

17 جولائی 2016

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب کی جانبدارانہ کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے غیر قانونی طریقے سے اثاثے بنانے کے کیس سے اسحاق ڈار کا نام خارج کرنا نیب کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ سپریم کورٹ اس معاملہ میں فوری مداخلت کرے اور نیب کو کنٹرول کرے ۔ ایک بیان میں انہوںنے اس بات پر زور دیا ہے ملکی ادارے اپنی ذمہ دارایاں اور کام ٹھیک انداز میں سرانجام دے رہے ہوتے تو آج بیرون ملک پیسہ سمگل نہ ہورہا ہوتا ۔ نیب اپنا کام کرنے میں ناکام نظر آتا ہے ، نیب نے پہلے 179میگا کرپشن کیسز میں اسحاق ڈار کا نام شامل کیا ، وہی لسٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی لیکن اب شواہد کی عدم دستیابی کا کہہ کر یہ انکوائری بند کر دی۔ اسحاق ڈار کے خلاف انکوائری بند کرنے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ کیس تحقیقات کے دوسرے مرحلہ میں چل رہا تھا اور اسکے خلاف عدالت میں ریفرنس دائر کیا جانا تھا۔ نیب نے ریفرنس دائر کرنے کے بجائے انکوائری ختم کردی جسکی وجوہات محض شواہد نہ ملنا بتایا گیا۔ انہوں نے نیب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا نیب بتائے 15سال میں اس کیس پر کیا پیش رفت ہوئی یا صرف وقت اور عوام کے وسائل ضائع کئے اور اکٹھے کئے گئے ثبوت چھپائے گئے ہیں۔ ایک کیس جو عدالت میں بھی ہے اسے نیب کیسے بند کرسکتا ہے یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔عین اس وقت جب ملک میں پانامہ لیکس کی کرپشن سے پہلے ہی بے چینی پائی جاتی ہے نیب کا سیاسی طور پر اسحاق ڈار کو کلین چٹ دیناشرمناک ہے ۔ نیب اپنا کام ٹھیک کر رہا ہوتا تو آج پاکستان کے کھربوں ڈالر آف شور کمپنیوں میں نہ پڑے ہوتے ۔سپریم کورٹ کوچاہئے وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور نیب کو آرٹیکل 184 (3) / 190 کے تحت کنٹرول کرے تاکہ نیب کی کارکردگی کو بہتر اور غیرجانبدار بنایا جاسکے۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق عمران خان لندن سے آج وطن آئیں گے۔ ایئرپورٹ پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا آج وطن پہنچ کر سیاسی دھماکہ کروں گا۔ آئی این پی کے مطابق عمران خان آج سے آزادکشمیر کا تین روزہ دورہ کریں گے۔ وہ انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔