”کج سانوں مرن دا شوق وی سی“

17 جولائی 2016
”کج سانوں مرن دا شوق وی سی“

کراچی بدستور بدامنی اور قتل وغارت کا شکار ہے۔ پچھلے دنوں چیف جسٹس ہائی کورٹ سند ھ کے بیٹے کو دن دہاڑے اغوا کر لیا گیا۔ نیز ملک کے نامور قوال امجد صابری کو قتل کر دیا گیا۔ چیف جسٹس سندھ کے بیٹے کے اغوا میں جو کار استعمال کی گئی اُس پر پولیس کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی کیونکہ مقابلہ چیف جسٹس کے بیٹے کا تھا اس لےے فوری طور پر ایک کمیٹی قائم کر دی گئی مختلف جگہوں پر چھاپے مارے گئے لیکن اس پورے معاملے کی اصل وجہ یعنی غیر قانونی اسلحہ اور جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کے بارے میں قطعا ً کچھ نہیں کیا گیا۔ جبکہ تقریباً ہر جرم میں یہ دونوں چیزیں لازمی استعمال ہوتی ہیں۔ 2014 میں کراچی کے 15افراد نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک Petition دائر کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ غیر رجسٹرر شدہ گاڑیاںقتل اور دیگر جرائم کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ سندھ گورنمنٹ جو کہ تقریبا ً4 سے 6 ہزار غیر رجسٹرڈ گاڑیاں استعمال کر رہی ہے اور سندھ پولیس بھی اپنی تمام گاڑیوں کو ایکسائز اور ٹیکٹشن کے محکمے سے باقاعدہ رجسٹر کروائے اسی پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ ایکسائز کا محکمہ حکومت اور پولیس کے زیر استعمال تمام گاڑیوں کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر ڈالے جیسے کہ باقی گاڑیوں کے سلسلے میں کیا جاتا ہے۔ نیز اسی پٹیشن میں درخواست کی گئی کہ سندھ پولیس تقریبا 2 سے3 لاکھ ان گاڑیوں کیخلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائے جو کہ حکومت اور پولیس کے زیر استعمال گاڑیوں پر لگی ہوئی نمبر پلیٹوں سے ملتی جلتی جعلی نمبر پلیٹں استعمال کر رہی ہیں۔ کراچی کے شہریوں کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران یہ معاملہ سات (7)دفعہ عدالت میں پیش ہوا۔ دو دفعہ سماعت ملتوی ہو گئی دو دفعہ سماعت ہوئی اور تین بار اسے معزول کر دیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ آخری تین دفعہ سماعت موجودہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جن کا بیٹا پچھلے دنوں دن دھاڑئے اغوا کر لیا گیا اور تا حال اُس کی بازیابی عمل میں نہیں آئی ہے۔ 4 اپریل کو ٹی وی چینلز پر خبر نشر کی گئی جس میں ناگن چورنگی کراچی کے مقام پر ایک کار پر حملے کی خبر دکھائی گئی جسکے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے اس خبر کی خاص بات یہ تھی کہ جس گاڑی کا حملہ کیا گیا وہ ایک پرائےویٹ گاڑی تھی جس کو پولیس کے استعمال میں ہونے والی گاڑیوں کی طرح رنگ و روغن کیا گیا تھا اور اس پر سندھ پولیس کی جعلی مارکنگ کی ہوئی تھی۔ اس گاڑی پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں تھی اور نہ ہی ایکسائز کے محکمے میں اور پولیس کے کاغذات میں اندراج موجود تھا۔ اسی طرح چند دن پہلے پشاور میں ایک اورواقعہ ہوا جس میں ایک لڑکے نے جو کہ کار میں سوار تھا ایک موٹر سائیکل پر سوار شخص پر فائر کیا جس کا قصور یہ تھا کہ وہ کار سے آگے نکل گیا تھا۔ اس کار پر جعلی سرکاری نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔یہی طریقہ ورادات سندھ کے چیف جسٹس کے بیٹے کے اغوا میں بھی استعمال کیا گیا اور اغوا کننددگان نے جو گاڑی استعمال کی اُس پر پولیس کی جعلی نمبر پلیٹ آویزاں تھی ۔ دراصل پولیس اہل کار اُن گاڑیوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے ڈرتے یا ہحکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جن پر سرکاری نمبر پلیٹں لگی ہوئی ہوں۔ نتیجتاً مجرم آزادی سے جہاں چاہتے ہیں اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ ٹریفک کے اصولوں کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں اور بلا روک ٹوک آزادی سے اپنی غیرقانونی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ قارئےن! پچھلے کئی سالوں سے جعلی حکومتی گاڑیاں غیر قانونی اسلحہ اور دہشت گردی میں قائم تعلق اور گہرے رشتے کی نشان دہی کی جاچکی ہے۔ عوام کی طرف سے سینکڑوں اپنی گاڑیوں جن پر جعلی نمبر پلیٹں لگی ہوئی ہیں کی تفصیل پولیس کو بھیجی جا چکی ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ حکومتی ایجنسیوں نے اس بارے میں مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ان غیر قانونی سرگرمیوں کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ اور یہ کراچی میں امن و امان کی ناگفتہ صورتحال کی ایک بہت اہم وجہ ہے۔اس صورت حال سے عہدہ برآہ ہونے کیلئے ایک منظم اور موثر پالیسی کی تشکیل اور اُس پر سختی سے عمل درآمد نا گزیز ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت اور صوبے کی پولیس اپنی تمام گاڑیوں کو فوری طور پر ایکسائز اور ٹیکیشن کے محکمے میں رجسٹر کروائے اور یہ اس محکمے کی ویب سائٹ پر مشتہر کی جائےں۔ نیز تقریباً2 لاکھ کے قریب ایسی گاڑیوں کو جو کہ نقلی نمبر پلیٹں استعمال کر رہی ہیں یا اُن کو جعلی طور پر پولیس کے استعمال میں ہونے والی گاڑیوں کی شکل و صورت دی گئی ہے کو پکڑے اور ذمہ دار کو کیفر کردار تک پہنچائے ورنہ اس کے بغیر کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے معاملے میں کوئی ”خفیہ ہاتھ“ ملوث ہے؟ یہ شعر ہمارے حسب حال ہے کہ :
کج شہر دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...