پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بے جا تنقید

17 جولائی 2016

بھارت نے جنوب ایشیاءمیں ایٹمی دھماکہ کرنے میں پہل کی جب 1974 میںپوکھران میں اس نے تجرباتی دھماکے کئے۔ اس سے قبل پاکستان نے پرامن ایٹمی پروگرام کوترجیح دی تھی۔ 8دسمبر 1953 کو امریکہ نے امن کیلئے ایٹم Atoms for Peace اقدامات کا اعلان کیا تو پاکستان نے اس کا خیر مقدم کیا۔اسی موقع پہ پاکستان کے وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان نے بیان دیا کہ''پاکستان ایٹم بم کی تیاری کیخلاف ہے" جس کی امریکہ نے تائیدکی۔ 11 اگست 1955 کوپاکستان اور امریکہ نے جوہری توانائی کے معاہدے پہ دستخط کئے۔1956 میںپاکستان ایٹمک انرجی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا ۔ امریکہ نے پاکستان کو350,000 ڈالر کی مالیت کا نیوکلئیر ری ایکٹر تحفے میں دیا تاکہ پرامن استعمال کی خاطر بجلی حاصل ہوسکے۔1947 میں بھارت کے ایٹمی دھماکے نے پاکستان کو اپنی نیوکلیئر پالیسی پہ نظرثانی کرنے پہ مجبور کردیا۔ اور پاکستان کو مجبوراً ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ بھارت نے پاکستان کیخلاف اپنے جارحانہ عزائم ابتداءہی سے واضح کر دیئے تھے۔ 1947اکتوبر میں آزادی کے صرف دوماہ بعد بھارت نے اپنی فو جوں کو بھیج کرکشمیر پہ غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ 1965 میں بھارت نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیا اور 1971میں اس نے سازش اور جارحیت کے ذریعہ مشرقی پاکستان کو علیحدہ کروایا۔ ایسے خطر ناک دشمن کا ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونا انتہائی خطرناک تھا۔ پاکستان اس کیلئے تر نوالہ ثابت ہوتا۔ مجبوراً پاکستان کو اپنی توجہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پہ مرکوز کرنا پڑی۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام خاموشی سے جاری رہتا لیکن مئی 1998 میں بھارت نے ایک مرتبہ پھر ایٹمی دھماکہ کر کے دنیا کو باور کروایا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اس نے ساتھ ہی پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ جسکے نتیجے میں پاکستان کو بھی 28مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کو منہ توڑ جواب دینا پڑا کہ اسکے پاس بھی ایٹمی ہتھیار ہیں۔
نظریہ ڈیٹرنس یا مدافعت کے طورپر پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار تیارکئے جا ئیں تا کہ کسی جارح ملک کی پاکستان پہ نیوکلیئر یاروائتی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی جرا¿ت نہ ہواور اسے یقین ہو کہ حملے کی صورت میں اسکی اپنی تباہی یقینی ہو۔
وقت کے ساتھ اس نظر یے میں ترامیم ہوتی رہیں۔1959 میں برنارڈ بروڈی نے نظر یہ ڈیٹرنس سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جارح کو حملے سے روکنے کی خاطر اپنے ایٹمی ہتھیار تیار رکھے لیکن استعمال نہ کرے۔ 1966 میں تھا مس شیلنگ نے اپنا خیال یوں پیش کیا کہ فوجی حکمت عملی میں فتح حاصل کرنا لازمی نہیں اسکے بجائے جبر، دھمکی اور طاقت کے استعمال کے خوف سے ڈیٹرنس برقرار رکھنا چاہےے۔ شیلنگ کا نظر یہ ہے کہ کسی اور ریاست کو نقصان پہنچانے کی صلا حیت کو استعمال کرکے اس پر اثرانداز ہونا چاہئےے تاکہ تشدد کے خوف سے وہ مسخر ہوجائے۔ ایک کا میاب ایٹمی ڈیٹرنس کیلئے لازمی ہے کہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے دشمن کے حملے سے تباہی سے قبل دشمن پہ کاری ضرب لگائی جائے اور دوسرے حملے کی صلاحیت برقرار رکھی جائے۔ جہاں تک سپر پاورز کا تعلق ہے، نظر یہ ڈیٹرنس نے دیتانت Detente کو جگہ دی لیکن سوویت یونین کے خاتمے سے امریکہ واحد سپر پاور رہ گیا جسکے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے کئی حامی اب اسکے استعمال بلکہ انہیں برقرار رکھنے کے بھی خلاف ہوگئے۔ سابق امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر، سیم نن، ولیم پیری، جارج شلز وغیرہ اب امریکہ اور دنیا سے درخواست کررہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار ختم کر دینا چاہیے۔
دوسری جانب امریکہ جو9/11 کے بعد سے بھارت کے قریب ہوتا گیا۔ پاکستان کا حلیف ہونے کے باوجود پاکستانی جو ہری ہتھیاروں کے پروگرام سے خائف ہے۔کئی مرتبہ امریکی میڈیا میںایسی اطلاعات آئیں کہ امریکہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کی خاطر اپنی خصوصی فورس بھیج کرانہیںاپنی تحویل میں لینے کاارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کو یہ ڈرہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیارو دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں اور وہ انکے استعمال سے امریکہ کو غیر مستحکم نہ کردیں۔2007 میں امریکی ہیریٹج فاونڈیشن کی صدر لیزا کرٹس نے اپنی کا نگریس کی کمیٹی برائے خارجہ امور، دہشتگردی کی عدم پھیلاﺅ کے روبرو گواہی دی کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے امریکہ کو فوری تدابیر اختیار کرنا چاہئے۔پاکستان نے امریکی شکوک و شبہات مسترد کر دیئے۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور انکی حفاظت کیلئے ایک فعال نیوکلئیر کمانڈاتھارٹی تشکیل دے رکھی ہے جس کے تحت سٹرٹیجک پلانز ڈویژن ہے جو اسی کام پہ مامور ہے۔ پاکستان اگر ایٹم بم بنا سکتا ہے تو اسکی حفاظت کرنا بھی خوب جانتا ہے۔بھارت نے2001دسمبر میں اپنی پارلیمان پہ جھوٹے حملے کا ڈرامہ رچا کر اسے عذر بنا کر پاکستان پہ حملے کی غرض سے اپنی فوجوں کو پاکستانی سر حد پہ لے آیا لیکن جتنی دیر میں اسکی فوجیں حملے کی پوزیشن اختیار کرتیں پاکستان نے اپنی فوجوں کو مستعد کرلیا اور تمام ہتھیار، روائتی اور غیر روائتی بھی چوکس کرلئے۔ بھارت نے خو فزدہ ہوکر حملہ نہ کیا لیکن اگلے برسوں میں نئی حکمت عملی ”کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی“ تیار کی جس کے تحت وہ سرعت سے حملہ کر کے پاکستان کو اپنے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے قبل ہی شکست سے دوچار کر دےگا۔ پاکستان نے اس کا توڑ اس طرح نکالا کہ تھوڑے فاصلے پہ مار کرنے والے ایٹمی ہتھیار تیار کئے جن میں ”ٹیکنیکل نیوکلیئر ہتھیار“ کہتے ہیں۔
پاکستان کے اس عمل سے بھارت کے منصوبے خاک میں مل گئے اور اس نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کو اپنے ٹیکنیکل میزائل ختم کرنے چاہیے کیونکہ دہشتگردانہیں بآسانی حاصل کرلیں گے۔ امریکی تجزبہ نگاروں نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا۔ بھارتی تو شروع ہی سے تنقیدی مقالے پیش کررہے تھے۔ جب دال نہ گلی تو کچھ پاکستانی تجزبہ نگاروں کو اپنے ساتھ ملایا۔ مسلمانوں میں میر جعفر اور صادقوں کی کمی نہیں۔ ہم نے مار ہمیشہ اپنے غداروں کے ہاتھ کھائی ہے۔
امریکہ میں ایک سابق پاکستانی سفیر، کچھ پاکستانی پروفیسر جو امر یکی یونیورسٹی میں وظیفے پہ ہیں اور ایک پاکستانی سائنس دان پاکستانی جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں۔ دنیا اور ان غداروں کی مہم جوئی کی تنقید کا اثر لینا بے سود ہے ۔ ہمیں پاکستان کی حفاظت کےلئے جو کرنا ہے وہ بے دھڑک ہو کر کرنا چاہیے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)