شعبہ تعلیم پنجاب کا مستحسن اقدام

17 جولائی 2016

وقت کے ساتھ اقتصادی و معاشرتی، سیاسی و سائنسی، فنی اور تعلیمی و تہذیبی تفسیر و تبدل ایک فطری عمل ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں قدرتی ہوتی ہیں۔ تاہم علمی و تہذیبی، معاشرتی و اقتصادی ہر نہج پر تبدیلی کیلئے کچھ تو حجت تمام کرنا ہی پڑتی ہے۔ تبدیلی مثبت ہو تو ترقی و استحکام کی علامت بن جاتی ہے۔ اصل میں معاشرے میں ہونے والی مثبت تبدیلی ہی سے تعلیمی ترقی کا اندازہ ہو سکتا ہے جس سے قوموں کی ترقی کا ستارا چمکتا ہے۔ ڈاکٹر نظام الدین چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن حکومت پنجاب اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جناب عرفان علی یہ دو ستون ایسے ہیں جو دامے درمے قدمے سخنے شعبہ تعلیم کی گتھیاں سلجھانے کیلئے ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ ماضی میں شعبہ تعلیم کے ساتھ جو بھی ہوا میرا خیال ہے کہ اس وقت شعبہ تعلیم کی اعلیٰ کمان ان کی تلافیوں کے ساتھ شعبے کی ترقی کیلئے جو اقدامات کر رہے ہیں وہ تعلیم سے متعلقہ احباب کی بہبود کیلئے بھی اکسیر کا کام کرینگے۔ ڈاکٹر نظام الدین قومی ترقی کیلئے تعلیمی ترقی چاہتے ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ لوگوں میں فکری تبدیلی سے رویوں کی تبدیلی ممکن ہے۔ عرفان علی اصول و قوانین اور اخلاقی ضابطوں کی پابندی کے قائل ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نسل نو کے اندر نظم و ضبط پیدا کرتے ہوئے اسے اخلاقی دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمشن و ڈیپارٹمنٹ کی اسی مذکورہ ہائی کمان کی سرپرستی میں 12 جولائی سے پنجاب بھر کے سات سو پرنسپل صاحبان کی اکیڈمک و انتظامی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا جو کہ گزشتہ روز اختتام پذیر ہوئی۔ یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن ہم دیر آید درست آید کے خیال سے اب بھی الحمد للہ کہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے شمس آڈیٹوریم میں 250 کے لگ بھگ پرنسپل صاحبان کے تربیتی کورس کے پہلے مرحلے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب عرفان علی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کی انتظامی مشینری کو نہ صرف فعال بنائیں بلکہ اپنے پرنسپل صاحبان کی انتظامی کارکردگی کو بھی مستحکم بنائیں۔ قبل ازیں ہم نے نئے بھرتی ہونےوالے ٹیچرز کی ٹریننگ کا اہتمام کیا اوراب ہم کالجز کے پرنسپل صاحبان کیلئے 5 روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کر رہے ہیں جس کا مقصد پرنسپل صاحبان کی انتظامی مالی و اکیڈمک معاملات کو چلانے کی سوجھ بوجھ کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل صاحبان کو ہم نے میرٹ پر لیا ہے اور امید کرتے ہیں کہ انکی قابلیت سے تعلیمی اداروں میں اکیڈمک منظم و ریسرچ کلچر کو فروغ ملے گا۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ ہم منظم سسٹم کو قاعدوں اور ضابطہ اخلاق کے تابع دیکھنا چاہیے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کالج کی انتظامی باڈی محض کلرکوں پر منحصر ہو کر نہ رہ جائے کیونکہ ایسا ہونے سے پڑھا لکھا طبقہ جسے ہم ادارہ چلانے کی ذمہ داری سونپتے ہیں وہ کلرکوں کے ہاتھ آ جاتا ہے اور پھر مالی ایمبیسز لمنٹس بھی سامنے آتی ہیں کہ جس کا نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے محنتی، قابل اور شعبہ تعلیم کیلئے ہر وقت حاضر خدمت رہنے والے پرنسپل صاحبان کو خراج تحسین پیش کیا۔ قبل ازیں پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے ہمیں تعلیم ہی نہیں تعلیم کا معیار بھی پیش نظر رکھنا ہے۔ بوسیدہ و غیر مفید سسٹم سے باہر آنے کیلئے ہمیں اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل صاحبان کی تربیت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم انہیں جدید دور کے جدید تقاضوں سے روشناس کرائیں تاکہ ملکی ترقی کا باعث ڈسپلنز کو سمجھ لیں اور ایسے اقدام کریں جس سے ہماری ڈگریاں نسل نو کی پروفیشنل زندگی میں مددگار ثابت ہوں اور یہ کہ عالمی منڈی میں ان کی وقعت بھی بڑھے۔ تقریب سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم خان، ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم خان، ویٹنری اینڈ انیمل سائنسز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طلعت پاشا اور وی سی یونیورسٹی آف ایجوکیشن ڈاکٹر ر¶ف ظفر نے بھی خطاب کیا۔ ڈی پی آئی کالجز پروفیسر خالد جاوید، ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن رانا نسیم اختر انجم نے ڈاکٹر سعید شفقت، سابق وفاقی سیکرٹری سہیل احمد، ڈی جی سپیشل پروگرامز ایچ ای سی ڈاکٹر شاہد سرویا، ڈپٹی سیکرٹری ایچ ای ڈی نعمان جمیل، محمد لقمان، ڈاکٹر مبشر ندیم، ڈاکٹر جنید خاں، ڈاکٹر محمد اعجاز بٹ، پروفیسر فرزانہ شاہین، پروفیسر روبینہ کمال، پروفیسر نعمانہ نیاز، پروفیسر عصمت ہاشمی، امجد سلیمی، پروفیسر فرح ملہی، پروفیسر رخسانہ لطافت، پروفیسر عابدہ سیف اور را¶ محمد طاہر ایڈیشنل لٹریژری پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ لاتعداد اساتذہ، ڈاکٹرز اور پرنسپل صاحبان بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ مشاہدہ بتا رہا ہے کہ شعبہ تعلیم میں اس وقت تبدیلی کی لہر آ چکی ہے۔ شعبہ تعلیم کے متعلقین میں تکنیکی مہارتوں اور احساس ذمہ داری کا رویہ ابھر رہا ہے اور ایسی تحریک (Motivation) کیلئے پنجاب ایجوکیشن کمیشن و ڈیپارٹمنٹ مساوانہ مبارکباد کی مستحق ہیں۔