ایدھی کو قانون دانوں کا خراج تحسین

17 جولائی 2016

سماجی بھلائی اور انسانیت نوازی کے آئینے میں دیکھئے تو عبدالستارایدھی ایک بے مثال شخصیت دکھائی دیتے ہیں۔ انکی فلاحی خدمات کا اعتراف انکی زندگی ہی میں دنیا کے بہت سے ممالک میں کیا گیا لیکن انکی شخصیت کا اصل طلسماتی کرشمہ ان کی وفات کے بعد دیکھنے میں آیا۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ واحد غیر سیاسی شخصیت ہیں جن کو بعد از موت اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ فوجی دستوں نے ان کا جنازہ ایک توپ سے باندھ کر بصد احترام قبرستان تک پہنچایا۔ افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف نے ایدھی کے جسد خاکی کو سیلوٹ کیا۔ نماز جنازہ میں صدر پاکستان، بری ، بحری اور ہوائی فوجی سربراہان، وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، وفاقی اور صوبائی وزراءسماجی رہنماﺅں اور سیاسی لیڈروں کی ایک بڑی تعداد نے عوام کے جم غفیر کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کی۔ کراچی کے وکلاءکی ایک بڑی تعداد بھی جنازے کے ساتھ ہم سفر رہی۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں ایدھی مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پاکستان کے تمام تجارتی، کاروباری، سرکاری و نیم سرکاری، سماجی تنظیمات نے عبدالستار ایدھی کی وفات پر دلی غم کا اظہار کیا۔ کراچی کے بازار سوگ میں بند رہے اور پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں رہا۔ وفات سے تدفین تک تمام ٹی وی چینلز نے ایدھی کی خدمات ، وفات اور نماز جنازہ کے حوالے سے متواتر پروگرام نشر کیے۔ پورا پاکستان ایدھی کے ذکر و افکار اور دعائے مغفرت میں مصروف تھا۔ ....ع
”کیا شخص تھا جو چھوڑ کر دنیا چلا گیا “
ہمارا تعلق وکالت کے پیشے سے ہے۔ کچہری سے لاہور ہائی کورٹ تک تمام قانون دانوں پر ایک غمناک کیفیت طاری تھی۔ صرف لاہور نہیں پورے پاکستان کے وکلاءاور جج صاحبان عبدالستار ایدھی کی موت پر سوگوار تھے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جناب سید منصور علی شاہ نے اپنے پیغام میں عبدالستار ایدھی کی موت کو پاکستان کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ کراچی سے پشاور تک اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک تمام اضلاع کی بار ایسوسی ایشنوں نے عبدالستار ایدھی کی موت پر خصوصی تقریبات میں انکی بے مثال سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی مغفرت کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔ بہت سی بار ایسوسی ایشنوں کے زیر انتظام مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی گئی۔ لاہور سیشن کورٹ کے احاطہ میں ایدھی کی غائبانہ نماز جنازہ میں وکلاءکے علاوہ جج صاحبان بھی شریک ہوئے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نذیر احمدگنجانہ صاحب نے بطور خاص شرکت کی اور ایدھی کی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ نماز جنازہ میں لاہور بار کے صدر ارشد جہانگیر جھوجھہ اور دیگر عہدیداروں کے شانہ بہ شانہ وکلاءکی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور عبدالستار ایدھی کی بے لوث سماجی خدمات پر ان کیلئے بعد از مرگ سرکاری اعلیٰ ترین اعزاز کی حمایت میں تحریک چلانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ عدلیہ بچاﺅ کمیٹی کی طرف سے عبدالستار ایدھی کے سوگ میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اسکی صدارت عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن نے کی۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے علاقائی بینچوں ملتان، بہاول پور اور راولپنڈی میں بھی عدالت عالیہ کے جج صاحبان، عدالتی افسران اور وکلاءحضرات نے ایدھی مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کیلئے دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا۔ پاکپتن میں وکلاءبرادری نے عبدالستار ایدھی کی غائبانہ نماز جنازہ بار روم کے سامنے میدان میں ادا کی۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کراچی شہداءہال میں 13جولائی کو ایک پرہجوم تعزیتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ اس تعزیتی ریفرنس میں عبدالستار ایدھی کی سماجی اور فلاحی خدمت پر لاہور ہائی کورٹ کے بار کے صدر رانا ضیاءعبدالرحمن، نائب صدر سردار طاہر شہباز خان، سیکرٹری بار ایسوسی ایشن محمد انس غازی، سید اسد بخاری، عبدالرشید رضوی، عفت سیف، ڈاکٹر انور گوندل، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ، ملک سعید حسن سابق جج ہائیکورٹ، احمد اویس، محمداعظم چوہان، صاحبزادہ اشرف عاصمی، ارشد اعوان، محمد ندیم، سید منظور گیلانی اور حافظ عبدالرحمن انصاری نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالستار ایدھی نے انسانی خدمت کے سفرکا آغاز ایک چھوٹی سی ڈسپنسری قائم کرکے کیا اور جب ان کا انتقال ہوا تو ایدھی فاﺅنڈیشن کے پاس چھ سو سے زائد ایمبولینس گاڑیاں موجود ہیں۔ اسکے علاوہ مختلف شہروں میں عیدی ہومز، سینکڑوں فلاح گاہیں اور ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ انصاری صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاءعبدالرحمن نے کہا کہ مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود انسانیت کی خدمت کابیڑہ اٹھا کر عبدالستار ایدھی نے ثابت کر دیا کہ فلاح انسانیت کا جذبہ انسان کے اندر موجود ہو تو دنیا کی کوئی طاقت کسی فلاح کار کو فلاحی کام سرانجام دینے سے روک نہیں سکتی۔ اجلاس کے آخر میں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر انور گوندل نے پُراثر انداز میں عبدالستار ایدھی کی روح کے ایصال ثواب اور اگلے جہاں میں انکی بلندی درجات کیلئے دعا کروائی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محترم جناب سید منصور علی شاہ نے ایدھی فاﺅنڈیشن کی مدد کیلئے ایک انوکھی مثال قائم کی۔ انہوں نے عبدالستار ایدھی کی خدمات کا اعتراف کیا اور ہدایت جاری کی کہ عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ کے تمام جج اور عدالتی سٹاف پندرہ جولائی تک اپنی تنخواہوں کا ایک حصہ ایدھی فاﺅنڈیشن کو رضاکارانہ طور پر ادا کریں۔ انکی ہدایت کے مطابق ہر سیشن جج پانچ ہزار روپے، ایڈیشنل سیشن جج تین ہزار روپے، سینئر سول جج پندرہ سو روپے اور ہر سول جج ایک ہزار روپے ہائی کورٹ کے خزانہ میں جمع کروائے گا جبکہ ضلعی انتظامیہ کے ملازمین پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک فی ملازم جمع کروائیں گے۔ قانون دانوں کا یہ خراج عقیدت دیکھ کر ہمارے وجدان پر یہ شعر نازل ہوا۔ ....
تھا خدمتوں کے گلشن کی اک بہار ایدھی
ہم میں نہیں رہا اب عبدالستار ایدھی