برطانیہ میں دوسری بین الاقوامی میڈیا کانفرنس

17 جولائی 2016

برطانیہ میں منعقد ہونے والی دوسری بین الاقوامی میڈیا کانفرنس میں شرکت کیلئے ان دنوں لندن آیا ہوا ہوں۔ برطانیہ میں اس نوعیت کی یہ دوسری کانفرنس ہے جس میں پاکستانی میڈیا اور ادب سے متعلق چنیدہ افراد شرکت کر رہے ہیں۔کانفرنس کے انعقاد کا مقصد برطانیہ میںمقیم پاکستانی کمیونٹی کا نامور پاکستانی صحافیوں، ادیبوں اور اینکرز کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کرنا ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی میڈیا نے جس انداز میں اظہار رائے کی آزادی حاصل کی ہے اسکی مثال دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں کہیں نہیں ملتی۔پاکستان میں میڈیا ایک متحرک ترین حیثیت حاصل کر چکا ہے ۔ سیاسی دباﺅ اور پابندیوں کے باوجود میڈیا اپنی راہ بنائے چلا جا رہا ہے۔ آزادی کے حصول کے اس عمل میںجہاں صحافتی قدروں کو عزت ملی وہاں تجارتی مفادات اور سنسنی خیزی نے بھی اسی رفتار سے میڈیا میں اپنی جگہ بنائی۔ میڈیا نے یہ آزادی تین دہائیوں کی شبانہ روز محنت اور نا مساعد حالات کا مقابلہ کر کے حاصل کی ہے۔میڈیا کی آزادی کی وجہ سے ہمارے سیاسی نظام اور نو زائیدہ جمہوریت کے تمام پہلو بتدریج عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔سیاسی قائدین پر چڑھا "ملعمہ"بھی اتر رہا ہے۔آج کی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خبر ہے اور یہی خبر کل کی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آج کی تحریر کل کی تاریخ ہو گی۔پاکستانی میڈیا نے ہماری سیاست، ثقافت ، معیشت اور خارجہ پالیسی پر جس انداز میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اسے بیرونی دنیا ایک اہم ایشیائی ماڈل تصور کرتی ہے۔پاکستانی میڈیا کے حوالے سے مغربی ممالک میں جو تجسس پایا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ان ممالک میں مقیم پاکستانی صحافیوں کی تنظیم نے اس بین الاقوامی میڈیا کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ برطانیہ کا سیاسی نظام دنیا بھر کیلئے ایک ایسا رول ماڈل ہے جس نے اظہار رائے کی آزادی کو جمہوریت کی بہترین بنیاد ہی قرار نہیں دیا بلکہ عملی طور پر اس کا نفاذ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ برطانیہ ہی وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے "سیاسی پناہ" کے اصول کو اپناتے ہوئے دوسرے ممالک کے عوام کو برطانوی شہریت دی۔ یہاں کا کثیر الجہتی سیاسی نظام دنیا بھر سے نکالے جانے والے سیاسی اور مذہبی افراد کو اپنے اندر اس طرح سما لیتا ہے کہ جیسے وہ یہاں ہی کے باشندے ہوں۔
پاکستان کے بیس لاکھ سے زائد افراد قانونی طور پر برطانیہ کے شہری ہیں۔اسکے علاوہ غیر قانونی طور پر آباد افراد کی تعداد بھی خاصی ہے۔ہماری کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور رائے عامہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کئی دوسرے ممتاز افراد عرصہ دراز سے یہاں مقیم ہیں۔الطاف حسین،نواز شریف اور مشرف صاحب کی جائے پناہ بھی برطانیہ ہی رہی۔پاکستانی صحافت سے منسلک کئی بڑے نام بھی یہاں مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں۔اس تمام تر پس منظر میں برطانیہ میں ہونے والی یہ کانفرنس خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔یہ کانفرنس جمعہ کے دن سے برطانیہ کے دارلحکومت لند ن میں شروع ہو رہی ہے۔بین الاقوامی میڈیا کانفرنس کے تین اجلاس لندن، برمنگھم اور مانچسٹر میں ہونگے۔کانفرنس کا پہلا اجلاس 22 جولائی کو لند ن میں ،جبکہ دوسرا اجلاس23جولائی کو برمنگھم اور تیسرا اجلاس24جولائی کو مانچسٹر میں ہو گا۔کانفرنس میں10ممالک کے200سے زائد مندوب شرکت کرینگے۔ اس سہ روزہ کانفرنس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مندوبین کے علاوہ مختلف ممالک کے نامور سکالرز، کمیونٹی گروپس اور رائے عامہ کے نمائندہ افراد کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔یہ کانفرنس مختلف معاشرت اور انداز فکر رکھنے والے صحافیوں اور رائے عامہ کے لیڈروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرےگی جو باہمی انٹرایکشن کے علاوہ صحافت کے شعبے سے منسلک بین الاقوامی کمیونٹی کو ایک دوسرے کے اور قریب لائی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا کانفرنس کی تنظیم کا دائرہ کار مختصر عرصے میں دنیا کے کئی بڑے ممالک میں اپنے رابطہ دفاتر قائم کر چکی ہے ان میں امریکہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا، ڈنمارک، بلئجیم، ترکی، ملائشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔اس کانفرنس کے انتظام ایک نو رکنی کمیٹی کر رہی ہے۔ جس کے سربراہ ممتاز صحافی مبین رشید ہیں ۔ لندن میں کانفرنس کے افتتاحی دن پہلے سیشن میں "Media Credibility and ethics " جبکہ دوسرے اجلاس میں "Democracy, Media and Pakistan"کے عنوان پر گفتگو ہو گی۔ دوسرے دن برمنگھم میں ہونے والے اجلاس کی بھی دو نشستیں ہوں گی ۔پہلے سیشن میں "Safety and security of Journalists"کے موضوع پر گفتگو ہو گی۔جبکہ دوسرے اجلاس میں "investigative Journalism" پر بات ہو گی۔24جولائی کو اختتامی اجلاس مانچسٹر میں ہو گا۔ پہلے سیشن میں "Gender Discrimination in Media" کے موضوع پر گفتگو ہو گی۔ جبکہ دوسرے اجلاس میں "Media as 4th pillar of state" کے موضوع پر اظہار خیال ہو گا۔کانفرنس کے تینوں دن میڈیا لازءکے حوالے سے خصوصی سیشن بھی ہونگے۔عام اجلاسوں میں تیار کی جانیوالی سفارشات کوبھی دستاویزی شکل دی جائیگی۔ دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد میں برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک کی ممتاز یونیورسٹیاں بھی شریک ہیں۔ کانفرنس میں خصوصی مہمانوں کے علاوہ دنیا بھر سے محدود تعداد میں منتخبہ صحافیوں کیلئے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ خواہش مند افراد info@imclondon.co.uk پر رابطہ کر سکتے ہیں۔