ترکی میں بغاوت اور ہمارا سیاسی چلن

17 جولائی 2016

ترکی میں فوج کے ٹولے کی جمہوری حکومت کےخلاف بغاوت ناکام ہو گئی۔ رات کے اندھیرے میں فوجی گروہ کی طرف سے مارا گیا شب خون اسکی خواہش و جستجو کے مطابق نتائج کا حامل ہوتا تو ترکی میں اسے انقلاب کا نام دے کر ریڈیو ٹی وی پرآج طربیہ گیت گائے اور انقلاب کے حامیوں کی طرف سے شہنایاں اورشادیانے بجائے جا رہے ہوتے۔ صدر طیب اردگان، وزیراعظم بن علی یلدرم، کابینہ کے ارکان اور فوجی سربراہان کال کوٹھڑیوں میں پڑے وزیراعظم عدنان مندریس جیسے انجام سے دو چار ہونے کے خوف میں مبتلا ہوتے۔ اب معاملہ اسکے برعکس ہے۔ بغاوت کرنیوالا فوجی ٹولہ زیر حراست ہے۔ بغاوت کے دوران2سو کے قریب افراد مارے گئے۔ میڈیا میں آنیوالی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ عوام نے انسانی زنجیر بنا کر اور ٹینکوں کے آگے لیٹ کربغاوت ناکام بنائی۔باغی ٹینکوں پر سوار ہوں تو ان کی اپنی جان پر بنی ہوتی ہے۔ایکشن کی کامیابی تک انکی آنکھوں کے سامنے پھانسی کا پھندہ لہرا رہا ہوتا ہے۔نہتے عوام اور انسان ان کا راستہ نہیں روک سکتے۔اپنی جانوں پر کھیل کر ترک عوام نے باغیوں کے ٹینکوں کے سیلاب بلاخیز کو روکنے کی کوشش ضرور کی تاہم فوج بطور ادارہ ٹیک اوور کا فیصلہ کر لے تو انقلاب کے راستے میں کوئی رکاوٹ سرے سے آہی نہیں سکتی۔ ترکی کیا پاکستان میں بھی فوج کے اندر سے اٹھنے والی ایسی بغاوتیںناکام ہو چکی ہیں مگر ہم نے باغیوں کے عبرت انگیز اقدامات سے گریز کر کے ایسی بغاوتوں کے راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی میں ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ طیب اردگان کےخلاف بڑی بغاوت نہ ہوئی تو باغی پھانسیوں پر لٹکے نظر آئیں گے۔
رات گئے باغی اُٹھے توطیب اردگان بھی جاگ گئے۔وہ بیرون ملک تھے‘ انہوں نے سی این این کے ذریعے عوام اور اداروں سے باغیوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کی اپیل کی۔ سب سے پہلے صدر کو حراست میں لینے کے بجائے باغیوں نے اپنے آرمی چیف جنرل بلوسی آکار کو اغوا کرلیا۔یہی باغیوں کی بڑی غلطی تھی۔ مغوی آرمی چیف کی فوج نے باغیوں پر پوری قوت سے ضرب لگائی۔باغی شاید بھول گئے کہ ایئر فورس بھی ترکی کی فوج کا حصہ ہے۔ترک فضائیہ باغیوں کا ہیلی کاپٹر گرا کر بغاوت کچلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ طیب اردگان نے اس ہولناک صورتحال میں حواس اور اوسان بحال رکھے۔
حکومت کی طرف سے فتح اللہ گولن پر اس بغاوت کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا گیاہے۔ فتح اللہ گولن ترکی میں اسلام کی نِش±اَةِ ثانیہ کیلئے کوشاں ہیں۔ انکے نظریات کے حامی فوج سمیت ہر ادارے میں ہونگے۔ اگر واقعی انکے نظریات کے حامی فوجیوں نے طیب اردگان حکومت کو ٹیک اوور کرنے کی کوشش کی، بالفرض وہ اس میں کامیاب ہو جاتے تو کامیاب ہو کر بھی ناکامی انکا مقدر ٹھہرتی۔ ترک فوج آج بھی اتاترک کے سکولر نظریات کی حامی ہے۔ جس پر جمہوریت کے اثرات بڑی آہستگی سے مرتب ہو رہے ہیں۔ترک فوج کو جمہوریت کے سانچے میں پوری طرح ڈھلنے میںبڑا وقت لگے گا اور اسکے اسلام کے رنگ میں رنگے جانے میں تو طویل ترعرصہ درکار ہے۔ اتاترک کے سیکولر نظریات پر کاربند فوج مذہب کی طرف رجحان کو برداشت نہیں کر پا رہی‘ وہ خالص ملاﺅں کو کیسے برداشت کر سکتی ہے! ملاﺅں اور لبرلزمیں سے فطری طور پر سیکولرفوج کا جھکاﺅ اردگان جیسے مذہب کے حوالے سے سخت نظریات نہ رکھنے والوں کی طرف زیادہ ہوسکتاہے۔
فوجی بغاوتوں کے حوالے سے پاکستان اور ترکی میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے مگر جن حالات میں یہ بغاوتیں ہوئیں ان میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔ ترکی میں نظریات میں ٹکراﺅ نے فوج کو بغاوت پر آمادہ کیا۔ سیکولر نظریات سے جس حکومت نے بھی انحراف کی کوشش کی‘ فوج نے اسے اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کیا۔عدنان مندریس کو تو مذہب سے سرسری لگاﺅ کے باعث تختہ¿ دار پر چڑھادیا۔ ہمارے ہاں مارشل لاءکبھی نظریات کی بنیاد پر نہیں لگا۔ جرنیلوں کو عموماً اقتدار کی ہوس نے بغاوت پر اکسایا، کبھی خود سیاستدانوں نے حالات ایسے پیدا کر دئیے کہ فوج کو جمہوریت کے گلے پر تلوار رکھنا پڑی۔
کچھ لوگوں کی رائے میں پاکستان میں آج بھی حالات ایسے ہی پیدا ہو چکے ہیں۔ ترکی میں عوام کا جمِ غفیرطیب اردگان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آیا۔ جبکہ پاکستان میں آرمی چیف سے کہا جا رہا ہے۔ ”دیر نہ لگاﺅ،اب چلے بھی آﺅ“۔ یہ آواز حکمرانوں کی سماعت پر گراں گزر رہی ہے۔جس پرانکے کاسہ لیس دبے لفظوں میں جنرل راحیل شریف کہہ رہے ہیں۔ ” چلے بھی جاﺅ“۔
نوازشریف کی حکومت صدر اسحق خان نے گرائی تو میاں صاحب نے کراچی تک لانگ مارچ کیا تھا۔ ہر شہر میںانکے استقبال کیلئے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ پر غیر محسوس طریقے سے شاید یہ لانگ مارچ بھی ایک طرح کا عوامی دباﺅثابت ہوا تھا۔سپریم کورٹ نے نواز حکومت بحال کردی تھی۔
حالیہ دنوںمیاں صاحب کی لندن سے پاکستان واپسی پر دس لاکھ کے ہجوم سے استقبال کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ عوامی نمائندوں کو اتنے ہزار لوگ لانے کی ہدایت دیدی گئی تھی۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ستائے، رمضان میں مہنگائی سے گرمائے اور بیروزگاری سے ادھار کھائے لوگوں کو اپنے عظیم رہنما کے استقبال کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی توانکا ٹھینگا دکھاتے ہوئے جواب تھا ”آپے ای جاﺅ“ اس پر میاں صاحب کے والہانہ اور شاہانہ استقبال کا پروگرام یہ کہہ کر منسوخ کردیا گیا کہ میاں صاحب نے استقبال سے منع کر دیا ہے۔
معروضی حالات میں فوج ٹیک اوور کرتی ہے جس کا قطعاً امکان نہیں۔ بالفرض بغاوت کردیتی ہے تو اگلے روز ترکی کے عوام کی طرح پاکستانی عوام بھی سڑکوں پر ہونگے مگرمٹھائیوں کے ٹوکرے اُٹھائے ہوئے ہونگے۔بڑے شہروں میں جنرل راحیل شریف کی تصاویر کے ساتھ ان کو ٹیک اوور کی دعوت کے بڑے بڑے بل بورڈ لگے ہیں۔ حکومت ایسا کرنے والوں کے خلاف بغاوت کے کیس درج کررہی ہے۔کئی دوسرے حضرات بھی سپریم کورٹ بغاوت کا کیس لے گئے ہیں۔ حکومت اور ان سے پوچھیں،جب محمود خان اچکزئی خیبر پی کے کو افغانستان کا حصہ قرار دے رہے تھے اس وقت ان کا ضمیر اور قومی غیرت کہا ںتھی۔آرمی چیف کو چلے آﺅ، کہنا آئین سے بغاوت اور مردم شماری نہ کرانا، الیکشن کمیشن کو ادھورا،چھوڑنا،بلدیاتی اداروں کو غیر فعال رکھنا کیا آئینی کے عین مطابق ہے۔کتنے پارلیمنٹیرین آرٹیکل 62اور63پر پورا اترتے ہیں۔ بہتر ہے حکومت ان وجوہات کا تدارک کرے جو فوج کو قدم بڑھانے کی دعوت کا سبب بنتے ہیں۔
مسلم لیگ ن آج پی پی پی کی اُسکے اقتدار کے آخری دنوں کی مقبولیت کی سطح تک گرچکی ہے۔ ن لیگ کے ساتھ وہی لوگ ہیں جو حکومتی خزانے سے مفادات کے موتی چن رہے ہیں جو بلاشبہ پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنے ہیں۔ ن لیگ کی قیادت کے پاس سنبھلنے کا وقت ہے۔ کشمیر پالیسی کو درست کرے، کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنا لے، میرٹ کو حرزِ جاں بنالے ورنہ پی پی پی جیسے انجام کیلئے تیار رہے۔