صحت تعلیم ڈاکٹروں کے بعد خادم اعلیٰ کے کرنے کا کام

17 جولائی 2016

قومی خدمت کی ہزاروں صورتیں ہیں اور ایک صورت وہ ہے جسے میوہسپتال لاہور کے دردمنددل رکھنے والے چھ ڈاکٹروں نے انتہائی محنت اور محبت سے مکمل کیا ہے صحت تعلیم سے کے عنوان سے چھوت چھات والی 26بیماریوں سے بچاؤکی صورت کو خاکوں اور تصاویر کی مدد سے 34صفحات کے کتابچے میں عام فہم زبان میں سمونا کوزے میں دریا بندکرنے کے مترادف ہے اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری سلمان کاظمی اور انکے پانچ دیگرساتھی ڈاکٹروں نے یہ اہم کام کرکے اب بال وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں بلکہ گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے بااختیار حلقوں کی کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ جب ڈاکٹر سلمان کاظمی اور انکے ساتھ بیٹھے میو ہسپتال کے ایسٹ میڈیکل وارڈ کے سینئر رجسٹرار ڈاکٹر صہیب حیدر انسانی خدمت کے اس اہم کام کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو مجھے پاکستان کے کونے کونے میں ہسپتالوں اور گھروں میں جان کی بازی ہارتے وہ معصوم بزرگ اور گلاب صورت کے بچے یاد آ رہے تھے جو چھوت چھات کی بیماریوں کے بارے میں عام معلومات نہ ہونے کے باعث اس انجام کو پہنچے تھے گزشتہ چند سالوں اورچند علاقوں کا ریکارڈ ہی دیکھا جائے تواندازہ ہوتا ہے کہ ہم سب کس طرح موت کے منہ میں چلے گئے۔ دوسرے صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ شمالی علاقہ جات جہاں طبی حوالے سے جانکاری کم ہے وہاں عوام کی حالت کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ سلمان کاظمی اور اس پروجیکٹ میں انکے ساتھی ڈاکٹروں نے محض حب الوطنی کے جذبہ سے اردو میں صحت تعلیم سے اور انگریزی میں Health by Educationکے عنوان سے ایسی مختصرکتاب تیار کر دی ہے جسے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب سندھ کے پی کے بلوچستان گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں میں پانچویں سے بارہویں جماعت تک کے طالب علموں کیلئے ایک تدریسی یونٹ کے طور پر نصاب کا حصہ بنا سکتی ہیں۔ عام فہم میں ہونے کے باعث سکولوں کالجوں کا کوئی ٹیچر پڑھا سکتا ہے اور طالب علموں کے ذریعے چھوت چھات کی 26 مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی معلومات کا یہ سلسلہ گھرگھر پہنچ کرصحت کے میدان میں ایک بڑے انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ ’’صحت تعلیم سے‘‘ کے عنوان سے اس مختصر کتاب میں ڈینگی، ہیضہ، ملیریا، ٹائیفائیڈ خسرہ، خناق، کن پیڑے گردن توڑ بخار، ٹی بی، ہیپاٹائٹس (یرقان) لاکڑا کاکڑا سمیت کئی بیماریوں کے حوالے بچنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ جن سے بیماری سے بچنے کے ساتھ ساتھ بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ کتاب کے مندرجات اعلیٰ کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے مرتب کردہ ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان سے کاپی رائٹ حقوق حاصل کرکے محفوظ بھی کئے گئے ہیں۔ کتاب کو پاکستانی ڈاکٹروں کی طرف سے عوام اور سکول کالج کے بچوں کے لے ایک اچھی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ان دنوں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے مشیر صحت کو باقی صوبوں کیلئے مثال بنانے کے جذبے کا اظہارکرتے نظرآتے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے ڈینگی کے آفت کے اچانک سر اٹھانے پر مردانہ وار دفاعی اقدامات بھی کئے اور کامیابی بھی حاصل کی مگر بہت مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا تب ڈینگی کے حوالے سے آگاہی کتابچہ بھی تقسیم کرنا پڑا تھا جو قدرے مشکل زبان میں تھا۔ اب توفرض شناس ڈاکٹروں نے اپنے طورپر 26 بیماریوں کے حوالے سے ایک بڑا کام کرکے انکے سامنے رکھ دیا ہے اگر وہ چاہیں تواپنے مشیرصحت اور سیکرٹری صحت کے ذریعے میوہسپتال کے ڈاکٹروں کی اس کتاب کو فوری طور پر سکولوں اور کالجوں میں بھجوانے کا اہتمام کرکے آنیوالی انگت اموات کا راستہ روک سکتے ہیں حکومت چاہے تو یہ کتابچہ تمام تعلیمی اداروں میں مفت تقسیم کروا سکتی ہے عوام اور بچوں کی صحت سے زیادہ اور اہم کیا چیز ہو سکتی ہے یہ اقوام اپنے فرض منصبی سے انصاف کرنے کیساتھ ساتھ ایک بڑی نیکی کے زمرے میں بھی آتا ہے عوام کے دکھوں کا مداوا بیماریوں سے نجات اور صحت مند معاشرے کی تشکیل ڈاکٹروں اور حکومت کا مشترکہ مشن اور منزل ہونی چاہیے۔ اس منزل کے ایک سنگ راہ کی طرف میوہسپتال کے ڈاکٹروں نے اپے حصے کا کام کرکے جن سفرکا آغاز کیا ہے کیا خادم اعلیٰ پنجاب اپنے حصے کا فرض ادا کرکے اس سفرکومنزل سے ہمکنار کرسکتے ہیں؟ اگر پنجاب میں یہ تجربہ کامیاب رہا توبعض دوسروں کاموں کی طرح دوسرے صوبوں کیلئے بھی صوبہ پنجاب ایک مثال بنا سکتا ہے۔