جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے رہیں تو یہی اسکے سب سے بڑے محافظ ہوتے ہیں

17 جولائی 2016

ترکی میں فوجی بغاوت کیخلاف عوام کی مدد سے اردوان حکومت کی کامرانی اور طالع آزمائوں کیلئے سبق
ترکی میں فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش عوام نے ناکام بنا دی۔ شہری باغی فوجیوں کے ٹینکروںکے آگے لیٹ گئے اور انکی صدارتی محل میں گھسنے کی کوشش ناکام بنادی۔ باغی فوجیوں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عوام پر فائرنگ کی جاتی رہی تاہم شہری ڈٹے رہے جبکہ ترک فوج اور شہریوں کی جانب سے باغیوں کی مزاحمت کے دوران ہونیوالے پرتشدد واقعات میں 104 باغی فوجیوں سمیت 194 افراد ہلاک 16 سو کے قریب زخمی ہوگئے۔ باغیوں نے تمام ذرائع مواصلات منقطع کردیئے تھے اور موبائل فون سروس کے علاوہ ترک ریڈیو اور ٹی وی پر بھی قبضہ کرلیا تھا تاہم انکی مزاحمت کرنیوالی ترک فوج نے جلد ہی ان سے قبضہ چھڑالیا اور استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ ترکی کی جسٹس اینڈ ڈوپلیمنٹ پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد 15 سو سے زائد باغیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ترک سکیورٹی فورسز نے انقرہ میں کارروائی کے دوران آرمی چیف بلوسی آکار کو بھی بازیاب کرالیا۔ جب ترک فوج کے باغی گروپ نے اقتدار پر شب خون مارنے کی کوشش کا آغاز کیا تو ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جو بیرون ملک کے دورے پر تھے‘ وہیںسے سی این این پر ویڈیو کال کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر نکل آنے کی کال دی اور ان سے بغاوت کو ناکام بنانے کی اپیل کی جس پر عوام ہجوم در ہجوم سڑکوں پر آگئے اور باغی گروپ کی مزاحمت شروع کردی اور باغی فوجیوں کو ٹینکوں سے نکال کر باہر پھینک دیا جو جمہوریت کیلئے ترکی کے عوام کا قابل فخر کارنامہ ہے۔ ترک سپیشل فورسز کے کمانڈر جنرل ڈکی اکساکلی نے نشریاتی ادارے این ٹی وی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مسلح افواج حکومت کیخلاف بغاوت کی قطعاً حمایت نہیں کرتیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان باغی فوجیوں کی تختہ الٹنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ملک واپس پہنچے اور استنبول ایئرپورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باغی گروپ کی کارروائی کو غداری قرار دیا اور بتایا کہ صورتحال حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹانے کی کوشش کرنے اور عوام پر گولیاں چلانے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
اگرچہ ترک صدر نے اس بغاوت کا الزام ترکی کے معروف عالم دین اور اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن پر عائد کیا ہے تاہم فتح اللہ گولن اور انکے ساتھیوں نے بھی فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کی کوشش کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ وہ ترک حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات سے متفق نہیں ہیں اسکے باوجود وہ فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کے اقدام کی تائید نہیں کر سکتے اور وہ جمہوری طریقے سے ہی حکومت کی تبدیلی کے حق میں ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون سمیت تقریباً تمام عالمی قیادتوں نے فوجی بغاوت کے ذریعے ترکی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹانے کی کوشش کی مذمت اور ترکی کے صدر‘ وزیراعظم اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھی گزشتہ روز ترکی کے صدر اور وزیراعظم کے نام ایک خصوصی پیغام میں انکے ساتھ یکجہتی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم ترکی بن علی یلدرم نے فوج کے ایک دھڑے کی بغاوت ناکام بنائے جانے کے بعد ہر سال 15 جولائی کو ترکی میں یوم جمہوریہ منانے اور باغیوں کیخلاف بغاوت کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا میں فوجی بغاوتوں کے ذریعے منتخب جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹانے کا وقت اب لد گیا ہے‘ ترکی میں ایک وقت وہ بھی تھا جب وہاں کی سیکولر فوج نے ترک معاشرے میں اپنا اثرونفوذ قائم کرلیا تھا جس کے باعث ترکی کے آئین میں ترمیم کرکے حکومت میں فوج کا باقاعدہ حصہ رکھ دیا گیا تاہم رجب طیب اردوان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے جمہوری اقدار کیلئے اپنی بے پایاں جدوجہد سے امور حکومت و معاشرت میں ترک فوج کا اثرونفوذ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اردوان نے استنبول کے میئر کی حیثیت سے عوامی خدمت کے سفر کا آغاز کیا جس کے بعد وہ عوا م میں اپنی بے پناہ مقبولیت کے ناطے ہی سے دوبار وزیراعظم منتخب ہوئے اور اب وہ صدر جمہوریہ ترکی کے منصب پر فائز ہیں۔ اگر ترکی میں اردوان حکومت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے معاملہ میں آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور ترکی کے معروف عالم دین فتح اللہ گولن اردوان کی حکومت کے بڑے ناقد ہیں تاہم گولن کے عقیدت مندوں اور پیروکاروں کا ایک وسیع حلقہ ہونے کے باوجود وہ ترکی کے عوام میں اردوان کی مقبولیت کے پائے کو نہیں پہنچ سکے۔ اردوان اسلامی معاشرت کو فروغ دینے کی سوچ کے باعث مسلم دنیا میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور انہیں مسلم امہ میں رول ماڈل کا درجہ مل چکا ہے۔ انکی ذات ہی کے ناطے پاک ترک دوستی بھی مستحکم ہوئی ہے اور اس وقت دونوں ممالک باہمی تعاون کے کئی معاہدوں میں بندھے ہوئے ہیں جو اردوان حکومت پر پاکستان کے اعتماد کا مظہر ہے۔ جمہوری اقدار کے فروغ کے حوالے سے یہ اردوان کی سوچ ہی کا مظہر ہے کہ ترکی میں منتخب جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کی سازش کرنیوالے ترک فوج کے ایک دھڑے کو عوام کی سخت نفرت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے اس باغی گروپ کی اقتدار پر قبضہ کی ہر کوشش کو ناکام بنایا اور جمہوریت کا پرچم سربلند کیا۔ چنانچہ ترک عوام نے جمہوریت کے تحفظ و پاسداری کے حوالے سے جہاں دنیا بھر کی قیادتوں اور عوام کی جانب سے ستائش حاصل کی وہیں ترک عوام کے اس جذبے نے ان تمام عناصر کو بھی ٹھوس پیغام دے دیا ہے جن کے ذہنوں میں منتخب جمہوری حکومتوں کا بندوق کے زور پر تختہ الٹانے کا خناس پرورش پا رہا ہوتا ہے چنانچہ ترکی میں بغاوت کی ناکامی سے پاکستان سمیت ان تمام معاشروں میں جہاں منتخب جمہوری حکومتیں قائم ہیں‘ جمہوریت پر شب خون مارنے کی سوچ رکھنے والوں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ ایسی کسی بھی سازش کا ملک کے عوام ترکی کے عوام ہی کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور انکی سازشیں ناکام بنانے کے جذبے سے معمور ہوچکے ہیں۔
بدقسمتی سے ہماری ماضی کی تاریخ اس حوالے سے کبھی مثالی نہیں رہی اور یہاں جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹانے والے طالع آزماء جرنیلی آمروں کا سیاست دان بھی انکے گلے میں ہار ڈال کر استقبال کرتے رہے ہیں‘ عوام بھی انکے آنے پر مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے ہیں اور ہماری عدلیہ بھی نظریۂ ضرورت کی اختراع کے تحت طالع آزمائوں کے اقدام کو جائز قرار دے کر انہیں آئینی تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ تاہم جرنیلی آمر مشرف کے ساتھیوں کی جانب سے ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کے ردعمل میں عوام کی سوچ کا دھارا یکسر تبدیل ہوگیا اور عوام کا موڈ دیکھ کر عدلیہ نے بھی جمہوریت کی عملداری کیلئے تقویت حاصل کی اور مشرف کی جرنیلی آمریت کو چیلنج کرنیوالے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کیخلاف عوام اسی طرح لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر آگئے جس طرح ترکی کے عوام نے اپنے جذبے کے ساتھ فوجی آمریت ناکام بنائی ہے۔ ہمارے ملک کے عوام یقیناً باشعور ہیں اور وہ منتخب جمہوری نظام ہی کو حرزِجاں بنائے رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تو تشکیل ہی جمہوری جدوجہد سے ممکن ہوئی تھی تاہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب جمہوری حکمرانوں کی جانب سے ہی عوام کے مینڈیٹ کے منافی اقدامات اٹھاتے ہوئے سول آمریت قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں سلطانیٔ جمہور کا لیبل لگا کر جمہور کو راندۂ درگاہ بنایا جاتا ہے اور اپنی من مانیوں‘ اللے تللوں اور اقربا پروریوں سے اور قومی سرکاری وسائل اپنی ذات اور عزیز و اقرباء پر بروئے کار لاتے ہوئے جمہوریت کا مردہ خراب کیا جاتا ہے تو ایسے حالات میں زچ ہونیوالے عوام کا ماورائے آئین اقدام والوں کے گلے میں ہار ڈال کر انکے استقبال کیلئے آمادہ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اگر منتخب جمہوری حکمران صحیح معنوں میں سلطانیٔ جمہور کے ثمرات عوام کو منتقل کررہے ہوں اور انہیں روٹی روزگار کے تفکرات میں مبتلا نہ ہونے دیں تو یہی عوام جمہوریت کے گن گاتے اس کیخلاف کسی طالع آزماء کی ہر سازش کو ناکام بنانے کیلئے اسی طرح سڑکوں پر موجود ہوں گے جیسے ترکی کے عوام نے اپنے صدر کی کال پر لبیک کہتے ہوئے باغی فوجیوں کو منہ کی کھانے پر مجبور کیا ہے۔ جمہوریت کی عملداری و استحکام کیلئے آج ترکی کے حکمران اور عوام بلاشبہ رول ماڈل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ ہمارے حکمران بھی اس رول ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے اپنی گورننس پر عوام کا اعتماد قائم کرینگے تو یہاں بھی عوام جمہوریت کے سب سے بڑے محافظ نظر آئینگے۔