کشمیریوں پر بھارتی مظالم کیخلاف یوم سیاہ منانے کا بجا فیصلہ

17 جولائی 2016

وفاقی کابینہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کیخلاف آئندہ بدھ کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپنی آزادی کا حق مانگنے والے کشمیریوں پر بھارت کے مظالم 68 سال سے جاری ہیں۔ کشمیری اس کاز کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے آئے ہیں۔ کشمیر کے پاکستان کا حصہ بننے تک تقسیم ہند کا ایجنڈہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ بھارت نے اس ایجنڈے کی راہ میں جارحانہ انداز میں رکاوٹیں کھڑی کیں تو پاکستان نے بھی اسی انداز میں اس کا جواب دیا جس پر بھارت اقوام متحدہ چلا گیا جس نے مسئلہ کشمیر کا حل استصواب کی صورت میں تجویز کیا۔ کشمیر تقسیم ہند کے اصول و ضوابط کے مطابق پاکستان کا حصہ ہے مگر پاکستان نے کھلے دل کے ساتھ اقوام متحدہ کی استصواب کی تجویز قبول کی۔ جس کے تحت کشمیریوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے بھی ساتھ جانے کی رائے دینے کا حق دیا گیا ہے۔ بھارت نے اس تجویز پر عمل کرنے کے بجائے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مزید مضبوط بنانے کیلئے وہاں سات لاکھ جدید اسلحہ و بارود سے لیس فوج تعینات کر دی۔ انکے ہاتھوں کشمیری محفوظ ہیں نہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کا تصور موجود ہے مگر کشمیری اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ کشمیریوں پر بھارتی بربریت کبھی رُکی نہیں ہے مگر حالیہ دنوں مظالم کی ایک بار پھر انتہا ہو گئی ہے جن کیخلاف کشمیری پوری دنیا میں جہاں جہاں ہیں مظاہرے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی احتجاج جاری ہے۔ حکومت کی سطح پر بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے حوالے سے آج ایک ٹمپو بن چکا ہے۔ حکومت اس کو برقرار رکھے۔ یوم سیاہ منانے کا فیصلہ مناسب اور بروقت ہے۔ وزیراعظم اپنی ٹیم اور سفارتکاری کو مزید متحرک اور فعال کریں۔