قندیل بلوچ کا افسوسناک قتل حکومت قاتل کو عبرت کا نشان بنائے

17 جولائی 2016
قندیل بلوچ کا افسوسناک قتل حکومت قاتل کو عبرت کا نشان بنائے

تیزی سے شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی ماڈل قندیل بلوچ کو اسکے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔
قندیل بلوچ جس تیزی سے معروف ہو رہی تھی اسی تیزی سے متنازعہ بھی ہو رہی تھی۔ اسکی دو شادیوں اور ایک بچے کی ماں ہونے کی رپورٹیں بھی میڈیا پر آ چکی تھیں۔ مفتی عبدالقوی کیساتھ ملاقات کی ویڈیو اور سیلفیوں کی کہانی خود قندیل بلوچ نے میڈیا تک پہنچائی جس سے مفتی اور قندیل کو مثبت یا منفی شہرت ملی۔ یہ سارے معاملات قندیل بلوچ کی اپنی ذات سے وابستہ تھے۔ ان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل تھا مگر بھائی نے غیرت کے مجہول تصور کے تحت اسے قتل کر دیا۔ اس انسانیت سوز اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان میں عموماً غیرت کے نام پر خاندان کا ایک فرد اقدام قتل کا مرتکب ہوتا ہے تو دوسرا فرد مدعی بن کر قاتل کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مہذب معاشرے میں اس روایت کا بہرصورت خاتمہ ہونا چاہئے۔ ہمارے ملک میں غیرت کے نام پر قتل کیخلاف سخت قانون موجود ہے جسکے تحت ایسا ملزم سزائے موت کا مستوجب ہوتا ہے۔ حکومت قندیل بلوچ کے قتل کو متعلقہ قانون کی عملداری کیلئے ٹیسٹ کیس بنائے‘ قاتل گرفتار ہوچکا ہے… استغاثہ کا کیس اتنا ٹھوس بنایا جائے کہ ملزم کے پختہ دار سے بچ نکلنے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ غیرت کے نام پر قتل کرنیوالا ایک ملزم تختہ دار پر لٹک جائیگا تو ایسی سوچ رکھنے والے معاشرے کے دوسرے افراد کو بھی عبرت حاصل ہوگی۔ حکومت خود قندیل قتل کیس کی پیروی کرے اور ملزم کو معاشرے میں ایسے کرداروں کیلئے عبرت کا نشان بنا دے۔