خوفِ خدا کی برکت

17 جولائی 2016

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ (118ء ، 181ئ)تبع تابعین میں سے نامور اور برگزیدہ ہستی ہیں ، اپنے علم ، تقویٰ ، زہد وسخاوت کی بناپر اپنے زمانے کی محبوب ترین شخصیت تھے، مدینہ منورہ کے مشہور عالم حضرت قاسم بن احمد رحمۃ اللہ علیہ اکثر سفر میں حضرت عبداللہ بن مبارک کے ساتھ رہتے تھے۔ایک بارفرمانے لگے، میں کبھی کبھی یہ سوچتا تھا کہ آخر حضرت عبداللہ میں وہ کون سی خوبی ہے، جس کی وجہ سے انکی اتنی قدرومنزلت ہے اوراس کثرت سے مخلوق انکی طرف رجوع کرتی ہے ،نماز وہ پڑھتے ہیں ، ہم بھی پڑھتے ہیں،روزہ وہ بھی رکھتے ہیں،ہم بھی رکھتے ہیں، وہ حج کیلئے جاتے ہیں ہم بھی اس کا التزام کرتے ہیں ، وہ اللہ کی راہ میںجہاد کیلئے نکلتے ہیں ، جہاد کی سعادت ہم بھی حاصل کرتے ہیں الغرض کسی بات میں ہم ان سے پیچھے نہیں ہیں ،لیکن لوگ ہیں کہ انھیں کا نام لیتے ہیں اورانھیں کی طرف رجوع کرتے ہیں، ایک بار ایسا ہوا کہ ہم شام کے سفر پر جارہے تھے ، راستے میں رات ہوگئی اور ہم نے ایک جگہ قیام کیلئے منتخب کرلی۔ جب دسترخوان آراستہ ہوا تو اتفاقاًیکایک چراغ گل ہوگیا۔ہم سے ایک شخص اٹھا ، اس نے دیا سلائی تلاش کی اورچراغ دوبارہ روشن کردیا ، جب چراغ کی روشنی پھیلی تو میںنے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک کی ریش مبارک آنسوئوں سے ترہے ،چراغ بھجنے اوراچانک اندھیرا ہوجانے سے گھبرائے تو ہم سب ہی تھے،لیکن عبداللہ کسی اورہی دنیا میں پہنچ گئے تھے، انھیں اس اندھیر ے کی مناسبت سے قبر کی اندھیری رات یاد آگئی تھی اورخوف خدا کی وجہ سے ان پر شدید رقت طاری ہوگئی تھی، مجھے خوب اندازا ہوگیا کہ خدا کا خوف اوراسکے سامنے حاضری کا احسا س ایسی بات ہے جس نے حضرت عبداللہ بن مبارک کو اس بلند مقام پر فائز کردیا ہے ،جبکہ ہم لوگ اس معاملے میں ان سے بہت پیچھے ہیں۔حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ،حضرت عبداللہ بن مبارک کو یہ بلند مرتبہ اس لیے عطاء ہوا کہ وہ خدا سے بہت ہی زیادہ ڈرا کرتے تھے،ان میں ذمہ داری اورجوابدہی کا اتنا شدید احساس تھا کہ ایک مرتبہ شام میں کسی سے لکھنے کیلئے قلم مستعار لیا، لیکن اسے واپس کرنا یاد نہیں رہا، جب اپنے وطن مرو(جو خراسان کا ایک شہر ہے) واپس آگئے ، تو یاد آیا ، بہت گھبراگئے ،فوراً سفرکی تیاری کی اورسینکڑوں میل کی مسافت طے کرتے ،صعوبت اورمشققت برداشت کرتے ہوئے واپس شام پہنچے ، جب قلم اس شخص کے حوالے کردیا تو اطمینان کا سانس لیا آپ ارشادفرمایاکرتے تھے اگر شبہ میں تمہارے پاس کسی کاایک درھم رہ جائے تواس کا واپس لوٹا دینا ایک لاکھ دینار صدقہ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔
اے طاہر لاھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہوئی پرواز میں کوتاہی