چین: سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا گدھا۔

17 جولائی 2016

1930ء میں شاعر مشرق اقبال نے چینی قوم کے بارے کہا تھا…
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
94 فیصد چینی افیون کے نشے کے عادی تھے۔ انگریزوں نے 19ویں صدی کے وسط میں افیون کی آڑ میںجنگیں لڑیں۔ بابائے چین مائوزے تنگ نے اس قوم کو افیون کے نشے سے نجات دلا کر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا طریقہ بتایا۔ یہ قوم تو سدھر گئی ہے لیکن اسکے گدھے ابھی تک پرانی ڈگرپر چل رہے ہیں۔ چین کے صوبے گانسو میں ایک ایسا گدھا پایا جاتاہے کہ اسے غصے سے پرسکون رکھنے کے لئے سگریٹ پلایا جاتا ہے۔ چینیوں کو اس لحاظ سے گراں خواب کہا جاتا تھا کہ وہ افیون کھا کر ’’لم لیٹ‘‘ ہو جاتے تھے اور کئی کئی دن کے گندے کپڑوں اور بڑھی ’’شیو‘‘ نے ان کے حلیئے بگاڑ رکھے ہوتے تھے لیکن ایک مرد قلندر نے 1949ء میں چین کو امن و سکون کا گہوارہ اور گراں خواب چینی قوم کو محنت کا دھنی بنایا۔ اب چینی قوم نے اپنے گدھوںکو نشے سے نجات دلوا دی توپھر چار دانگ عالم اسکی محنت و عظمت کے ڈنکے بجیں گے۔ اگر ہمارے ہاں بھی داتا دربار کے گرد و نواح میں نشے کی زیادتی سے لینڈ کرنے والے ’’جہاجوں‘‘ کی کسی نفسیاتی ورکشاپ میں ’’ٹیوننگ‘‘ کروائی جائے تو معاشرے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ خادم پنجاب عمران خان کی تبدیلی سے قبل ایسی تبدیلی لاکر حقیقی خادم بن سکتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
مالی مشکلات کا شکار سابق کپتان ویمن ہاکی ٹیم کا حکومت سے روزگار کا مطالبہ۔
گول کیپر نرگس خان نے گزشتہ روز پنجاب گورنرہائوس کے مال روڈ والے گیٹ پر ایک کتبہ ہاتھ میں پکڑ کر امیر شہر کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بادشاہ سلامت کی سواری پروٹوکول کے جھرمٹ میں اتنی سرعت سے گزری کہ اس جانب وزیراعظم کی نظر کرم ہی نہ پڑی۔ نرگس خان کا بڑا سادہ سا سوال تھا…
غریب شہر کو مارا ہے اسکی غربت نے
امیرِ شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
ہاکی کی ممتاز ریٹائرڈ گول کیپر کس کو اپنی کتھا سنانے کی کوشش میں ہے جنہیں زندہ انسانوں سے تکلم کرنے کی فرصت ہی نہیںہے۔ پاکستان ہاکی زبوں حالی کا شکار ہے، ایسے میں ہاکی کے کھوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے جن انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے، ان میں سب سے اہم کام ریٹائر کھلاڑیوں کی مالی معاونت اور باعزت روزگار ہے۔ اس سے وہ معاشرے کے دیگر افراد کے ہمقدم ہونگے وگرنہ ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی فاقہ کشی دیکھ کر ہاکی کو بطور پروفیشنل کھیل کے کوئی بھی نہیں اپنائے گا۔ جس طرح سنچری کے بعد مصباح الحق کے بارے سوشل میڈیا پر ایک کمپین شروع ہے۔ ’’مصباح! خدا کیلئے جانے کی باتیں جانے دو‘‘۔ اس سے مصباح الحق کے دل میں کھیلنے کا مزید اشتیاق پیدا ہوگا۔ گزشتہ روز میڈیا بادشاہ سلامت کی سواری میں شامل گاڑیوں کی گنتی کی بجائے چند منٹ کے لئے نرگس خان پر کیمرہ آن کرتا تو اس کا مسئلہ حل ہوجانا تھا لیکن ہم صرف گاڑیوں کی چکاچوند میں مگن رہے۔
٭…٭…٭…٭
منظور وٹو کی وساوے والا میںجیب کٹ گئی۔
منظور وٹو اگر راستہ بھول کر مسجد میں آہی گئے تو وہاں انکی اپنے ہی ’’دوستوں‘‘ سے ملاقات ہوگئی۔ جناب! کسی اور پر شک کرنے کی ضرورت نہیں یہ تو آپ کے اپنے گھر میں ہی ہوا ہے…
اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں
خبر ہے کہ وٹو صاحب کی جیب میں ہزاروں روپے تھے۔ جناب سیاست دان جیب میں کب روپے رکھتے ہیں۔ اب آپ لاکھوں بھی کہہ لیں تو ہم مان لیں گے لیکن اگرچور کی زبان کھل گئی تو پھر جگ ہنسائی ہو گی۔ اس غریب نے پیسوں کے لالچ میں ہی جیب کاٹی ہوگی مگر اس کیلئے یہ تجربہ …ع
’’ جو چیرہ تو اک قطرۂ خون نہ نکلا‘‘
کی مثال بن گیا۔ جناب آجکل پراناحساب کتاب کر کے کسی نئی پارٹی میں جانے کا سوچ رہے ہوں گے۔ ویسے بھی کسی ایک پارٹی میں لمبا عرصہ رہنا ان کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں ہے۔ زرداری صاحب نے تخت پنجاب پر قبضے کے لئے آخری پتے کے طور پر انہیں استعمال کیا تھا لیکن جیالے کارکنوں نے انہیں بالآخر استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ اب بلاول ’’تازہ دم خون‘‘ کی تلاش میں ہیں۔ دیکھیں اس تلاش میں گہر ہونے تک قطرے پر کیا گزرتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک گھر میں ڈیڑھ سو سے زائد سانپ برآمد۔
سانپوں کا اس قدر کسی گھر میں اکٹھے برآمد ہونا واقعی اچنبھے کی بات ہے۔ سپیرے منتر پھونک کر پہلے سانپوں کو تلاش کرتے تھے لیکن اچانک سانپوں کی فوج کے سامنے آنے سے وہ بھی گھبرا جاتے ہیں تو عام شہری کاجسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔ مودی سرکار کے ہوتے ہوئے سانپوں کی ضرورت تو نہیں وہ خود ڈنک مارنے کا اس قدر ماہر ہے کہ ہر کوئی اس سے بیزار ہے۔ سانپ کو دنیا بھر میں بدی اور شیطانیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سبھی بھارتی کالے ناگ سے خوف کھاتے ہیں لیکن اب انہوں نے جس ناگ کو اپنے اوپر مسلط کررکھا ہے، وہ انہیں ہی ڈسنے سے باز نہیں آرہا۔ کشمیر کے نہتے بچوں کی آنکھوں میں ڈنک مار کر انکی بینائی زائل کررہا ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف اسکے ساتھ جپھیاں ڈالنے کی سوچ میں مگن ہیں حالانکہ مودی کے ساتھ ہاتھ ملاکر ہاتھ کی سلامتی کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ اترپردیش کے سانپوں والے گھر میں مودی کو رکھا جائے تو شاید اس کی عقل ٹھکانے آئے۔ ورنہ وہ اسکے ڈنک سے کون محفوظ رہے گا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭