ترکی زندہ باد!

17 جولائی 2016

کیا لکھوں ؟ سب کچھ تو ترکی کے عوام نے لکھ دیا ہے ۔ ترکی کے شہریوں نے استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر جو تاریخ اپنے خون سے تحریر کر دی ہے وہ جمہوریت کی خالق تہذیبوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے ۔ ترکی کے بوڑھے ، نوجوانوں،عورتوںاور بچوں نے باغی فوج کے ٹینکوں پر چڑھ کر جس جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور ترکی کی پولیس نے سڑکوں ، گلیوں اور سرکاری ٹی وی چینل سے باغی فوجیوں کو جس بہادری سے گرفتار کیا اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ غیرت مند قومیں اپنے ملک کے آئین سے وفاداری نبھاتے ہوئے کسی ٹینک یا توپ کو خاطر میں نہیں لاتیں ۔ فوجی بغاوت کیخلاف سڑکوں پر نکلنے والے تمام لوگ صدر طیب اردگان کے حامی نہیں تھے مگر انھیں اپنے ووٹ اور اپنے آئین کا پاس تھا ۔ ترک عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انکی صفوں میں مارشل لاء اور فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی دعوت گناہ دینے والے غیرت سے عاری دھندے بازسیاستدان اور سیاسی جماعتیں نہیں رہیں۔ اردگان کی مخالف اپوزیشن جماعتوں نے بھی فوری طور پر فوجی بغاوت کو مسترد کر دیا ۔ دوسری طرف اردگان کی اپنی حکمران جماعت میں بھی کوئی ایسے لوٹے اور لٹیرے نہیں تھے کہ جنھوں نے بغاو ت کے فورا بعد اپنا سیاسی کعبہ و قبلہ تبدیل کر لیا ہو ۔ خدا کا شکر ہے کہ اردگان نے بھی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے عوام میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ترکی کے میڈیا نے بھی بھرپور انداز میں اس بغاوت کی مخالفت کی اور اسکی ناکامی پر پاکستان کے کچھ حوالدار اینکروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ترکی میں ایسے حوالدار صحافی اور ٹی وی اینکر حضرات بھی نہیں تھے جو کسی حلوائی کی دکان پر مٹھائی خریدتے اور چکھتے لوگوں کو دکھا کر کہتے کہ لوگ حکومت کے جانے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں ۔
ترکی میں کوئی ایسا تجزیہ کار بھی سامنے نہیں آیا جو اردگان حکومت کی ناکام پالیسیوں کو فوجی بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتا ۔ اگر ترکی کی فوج نے بھی کاروباری سرگرمیوں سے کچھ پوشیدہ اور غیر پوشیدہ وسائل بنا لیے ہوتے تو آج بہت سے سیاستدان ، تجزیہ کاراور اینکر پرسن حضرات نمک حلال خاکروبوں کی مانند فوجی ٹینکوں کی آمد کیلئے سڑکوں پر جھاڑولگا رہے ہوتے ۔ کئی شدت پسند تنظیموں نے ترکی کے دفاع کے نام پر کونسلیں تشکیل دیدی ہوتیں۔ نوجوان نسل کو ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ ‘‘ کے نعرے سے گمراہ کیا جا چکا ہوتا۔وہاں کے خفیہ ادارے نئے باغی لیڈر کی تقریب رونمائی بڑی دھوم دھام سے کرتے ۔ ترکی کی فوج کے باغی گروپ تھوڑی سی محنت کرتے تو انھیں درجنوں ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی بجائے ایک جیپ اور دو ٹرک ہی درکار ہوتے اور پھر ڈیڑھ سو جانیں ضائع نہ ہوتیں ۔آسان نسخہ یہ تھا کہ کچھ عرصے تک ترکی کے عوام بالخصوص نوجوانوں میں سیاست اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی ۔ان سیاستدانوں بشمول صدر اردگان اور انکے وزراء کے ٹیلی فون اور خفیہ طور پر ٹیپ کر کے اور سرکاری افسران کو ڈرا دھمکا کر انکی بدعنوانی کے ثبوت چند سال تک اکٹھے کیے جاتے ۔ گزشتہ الیکشنوں میں ہر پارٹی کے اندر اپنے مہروں کو ٹکٹ دلوا کر مختلف حلقوں سے جتوایا جاتا اور اس دھاندلی کے بھی ایسے ثبوت تیار کیے جاتے جو بعد میں کام آسکیں ۔چند سال کی اس محنت اور صبر کے دوران باقاعدہ طور پر ترکی کی فوج اور اسکے سربراہ کو اردگان سے زیادہ ملک کا وفادار ثابت کر نے والے بیانات اور تصاویر کو میڈیا میں شائع کر وایا جاتا اور آہستہ آہستہ ترکی کے عوام کو یہ باور کرادیا جاتا کہ اردگان صاحب ایک کرپٹ اور ملک دشمن سربراہ مملکت ہیں۔ جب عوام کو گمراہ کرنے کی یہ مہم مکمل ہو جاتی تو پھر شاید ترکی کی فوج کو اقتدار پر عملی طور پر قبضہ کرنے کی بھی ضرورت نہ رہتی۔ ترکی کی فوج کا سربراہ محض چھڑی ہاتھ میں گھماتے وزیر اعظم اردگان سے ملتا اور اپنے ادارے کیلئے وہ تمام وسائل حاصل کر لیتا جو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہی شاید اسے نصیب ہوتے۔ ویسے بھی اب اصل جنگ اقتدار سے زیادہ وسائل پر قبضے کی ہے۔عوام نے باغی فوج کر خلاف تو ہونا ہی تھا ۔ ترک عوام کو ان کی فوج نے دیا ہی کیا ہے۔ نہ تو وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں بڑے بڑے پروفیسر حضرات فوج کے اقتدار کے فضائل بیان کرتے ، نہ ہی ترک فوج نے ایسی فلمیں بنائی ہیں کہ جن کے ذریعے آئین اور جمہوریت کیخلاف عوام میں نفرت پیدا کی جائے ۔ ترک فوجی سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اپنی امپائر والی انگلی کسی سیاستدان کے حق میں ہی کھڑی کردیتے ۔ ترک فوج کے پاس تو کوئی فرزند استنبول یا فرزند انقرہ بھی نہیں جو سرعام اردگان کی حکومت جانے کی پیشین گوئی کرتا رہتا ۔ ترک فوج کیلئے ایک اور مسئلہ ماضی کے باغی فوجیوں کی بڑی تعداد کیخلاف اردگان کی سخت قانونی کاروائی بھی ہے جس میں فوج کے پروردہ صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا ۔اردگان نے حکومت کی لگامیں اور رکابیں بھی قابو میں رکھیں جس کیلئے کل وقتی اور نڈر وزراء خارجہ و دفاع بھی تعینات کیے گئے ۔صدر اردگان کے جرأت مندانہ عملی اقدامات کے باعثہی ترک عوام میں فوجی بغاوت سے نفرت پیدا ہوئی ۔ حالیہ بغاوت کو ناکام بنانے میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے ۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی ترکی کے باغی فوجیوں نے مار کھائی ۔ اگر یہ باغی فوجی اپنا کوئی اعلی عہدے کا ترجمان رکھ لیتے جو ٹویٹر اکاونٹ کے ذریعے اپنا پیغام عام کرتا رہتا یا پھر اپنی فوجی یونیورسٹیوں کے نوجوان طالب علموں کے ذریعے ہزاروں ٹویٹر اکاونٹ بنوا لیتاے تو آج سوشل میڈیا پر جمہوریت کی نحوست اور ترکی میں مارشل لاء کی فضیلت سے متعلق رائے عامہ ہموار ہو چکی ہوتی۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں نوجوان اکاونٹ ہولڈرزفوجی بغاوت کی مخالفت کرنیوالے دانشوروں کو ماں بہن کی گالیاں نکال کر ایسا چپ کراتے کہ کوئی فوجی بغاوت کے خلاف دوبارہ منہ نہ کھولتا۔ اصل میں ترک فوج کو بندے بھی غائب کرنا نہیں آتے اور نہ ہی صحافیوں کا منہ بند کرنا آتا ہے۔ترکی کی عدالتیں بھی جب عدالتی تحقیقات کرتی ہیں تو بے نتیجہ رپورٹیں نہیں جاری کرتی ہیں۔ نجانے باغی فوجیوں نے ایسی بے ڈھنگی بغاوت کی تربیت کہاں سے حاصل کی ۔
اس معاملے میں ہم پاکستانی بہت خوش قسمت ہیںاورہم میں سے کچھ ایسے ہی لوگ ترک عوام کی جرأت کو منافقانہ سلام بھی پیش کرتے ہیں۔منافقانہ اس لیے کہ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اردگان کی حکومت مقبولیت اور عوامی خدمت کے باعث بچ گئی ۔ نالائقی اور سوچ کی بددیانتی کی انتہا یہ ہے کہ کسی حکمران جماعت کی ناکامی پر دوسری سیاسی جماعت یا تیسری اور چوتھی سیاسی جماعت کو موقع دینے کی بات نہیں کرتے بلکہ پوری جمہوریت ہی کا بستر گول کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کے ایک پاؤ گوشت کے پیچھے جمہوریت کا پورا بیل کاٹنے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جبکہ ترکی پاکستان نہیں بن سکا تو کیا پاکستان ترکی بن سکتا ہے ۔ مگر اس کیلئے نواز شریف کو اردگان بننا ہو گا ۔ اور پاکستانی عوام کو ترکی کے عوام کی طرح باشعور اور غیرت مند۔ فوجی بغاوت کو ناکام بنانے والے ترکی کے شہید ترک شہریوں کو قومی اعزاز کیساتھ دفنانا چاہیے اور ترک فوج کے سربراہ کو ان جنازوں کو سلیوٹ کرنا چاہیے۔ ترکی زندہ باد اور ترک عوام پائندہ باد۔