سرسید میموریل سوسائٹی

17 جولائی 2016

پاکستان کے اکثر بااثر اور مشہور افراد جن میں اکثریت فوج اور بیوروکریسی کے ریٹائرڈ افسران اور اُن کی بیگمات کی ہوتی ہے وہ کوئی این جی او ٹرسٹ یا سوسائٹی قائم کرکے حکومت سے قیمتی اراضی اور فنڈز حاصل کرکے عالیشان ایمپائر کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر اسے یا تو خود کمرشلائز وینچر میں تبدیل کر دیتے ہیں یا پھرکسی بڑے کاروباری گروپ سے اشتراک کرکے غیر معمولی نفع حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔جن مقاصد کیلئے وہ ٹرسٹ یا سوسائٹی قائم کی گئی ہوتی ہے اسکے تمام اغراض و مقاصد پس پشت ڈال کر حکومتی وسائل سے قائم کیا ہوا ادارہ متعلقہ بورڈ آف گورنرز یا انکی اجازت سے سوسائٹی یا ٹرسٹ کے حامی معاملات کو کنٹرول کرنیوالے صدر سیکرٹری اور خزانچی کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں۔ سب سے اہم بات ایسے اداروں کی کاروباری آمدنی پر حکومت کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے ہمارا تینوں سکیورٹی سروسز کے بڑے بڑے ادارے ٹرسٹ کی ملکیت میں چل رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد نفع اور نقصان کے بغیر کاروبار فلاحی یا سماجی سرگرمی دکھائی جاتی ہے۔ سوسائٹی یا ٹرسٹ کی بیلنس شیٹس میں آمدنی اور اخراجات برابر دکھا کر یہ ظاہرکیا جاتا ہے کہ مذکورہ سوسائٹی اور ٹرسٹ فلاحی خدمات سرانجام دے رہا ہے جبکہ اسکے ڈائریکٹرز وغیرہ لاکھوں روپے تنخواہیں لے رہے ہوتے ہیں۔
آج بھی اسلام آباد کے کئی سیکٹرز میں بڑے بڑے قیمتی پلاٹس پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے نام پر جعلی سوسائٹی اور ٹرسٹ کیلئے تعلیمی صحافتی اور دوسری سماجی سرگرمیوں کیلئے مختص پلاٹس یا توکرائے پر دے دئیے گئے ہیں یا ان پر کمرشل سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں یا کسی تیسری پارٹی کوکرائے پر دئیے گئے ہیں مثلاً بھٹو کے نام پر قائم اسلام آباد، کراچی میں تعلیمی ادارہ یا محبوب الحق کے قائم کردہ انجینئرنگ کے ادارے فضائیہ بحریہ، بحری، بری فوج کے قائم کردہ تعلیمی ادارے جو C.D.A سے حاصل کردہ ہزاروں ایکڑزمینوں پر قائم ہیں، کیا وہ قائداعظم یونیورسٹی یا اسلام آباد میں فیڈرل حکومت کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کے برابر چارجز لیتے ہیں؟۔ نہیں، جناب نہیں!۔ یہ تمام میڈیکل انجینئرنگ کالجزاور یونیورسٹیاں جن کے چارٹرز میں واضح درج ہے کہ وہ غیرمنافع بخش فلاحی سرگرمیوں کیلئے یہ ٹرسٹ بنارہے ہیں، انکے ٹرسٹ کو حکومتی ادارے اور غیرملکی کمپنیاں اور امیر افراد چندے بھجواتے ہیں کیونکہ مغرب میں یہ قانون ہے کہ اگر آپ کسی رجسٹرڈ ٹرسٹ یا سوسائٹی کو چندہ دیتے ہیں اور اسکی رسید اپنی ٹیکس ریٹرنز میں دکھاتے ہیں تو اس پر ٹیکس کی چھوٹ مل جاتی ہے۔ اسلام آباد میں پیپلز میڈیا فاؤنڈیشن ہو جس کے مقاصد میں صحافیوں کو مفت گھر بنا کر دینے تھے یا مساوات، حیدر جیسے ڈمی اخبارات ہوں جن کی چند سو کاپیوں کااجراء آج بھی ہوتا ہے اور زیرو پوائنٹ پر انکی سرکاری زمین پر پیپلز میڈیا فاؤنڈیشن کا پلازہ ہے۔ یہ عمارات کرائے پر دی گئی ہیں اور انکے کرتا دھرتا پیسہ کھا رہے ہیں حتیٰ کہ اسلام آباد میں بے نظیر اور بختاور کے نام پر قائم ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کو الاٹ پلاٹ H/8میں موجود ہیں، جہاں ابھی تک کوئی تعلیمی ادارہ نہیں بنا۔ وزارت خارجہ کی بیگمات کی این جی اوز جسکی سربراہ غالباً مشیر خارجہ کی بیگم ہیں انہیں عورتوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو پلاٹ C.D.A نے الاٹ کیا وہ بقول رؤف کلاسرا کے کروڑوں روپوں کے عوض بہت بڑے کمرشل سکول کے مالک کوکرائے پر دیا جا رہا ہے۔
میں آج اپنے کالم میں سرسید میموریل سوسائٹی کی G/5 میں قائم اس شاندارعالیشان بلڈنگ کا ذکرکر رہا ہوں جس کی مالیت اس وقت کم ازکم پانچ سو ارب روپے ہوگی۔ 25کنال پرائم لوکیشن پر بنی لاکھوں مربع فٹ پر قائم اس عمارت پر ایک انجینئرنگ کالج نے قبضہ کر لیا ہے حالانکہ سرسید کے نام پر یہاں بریگیڈئر اقبال شفیع نے سرسید میموریل سوسائٹی قائم کی۔ بریگیڈئراقبال شفیع ضیاء الحق کے بیچ میٹ اور جنرل مشرف کے والد کے دوست تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اس سوسائٹی کو پلاٹ الاٹ کیا اور محبوب الحق نے حکومتی فنڈز سے یہاں پر شاندار کمپلیکس تعمیرکیا۔ بریگیڈئر اقبال شفیع اس کو ذاتی جاگیر سمجھ کر تاحیات صدربن کر اسکے انتظام چلاتے رہے۔ آج وہ علیل ہیں مگرگورنر جنرل غلام محمد کی طرح فالج اور یادداشت کھونے کے باوجود بھی وہ سوسائٹی کے صدر ہیں۔ جنرل مشرف نے بھی اس ادارے کو دس کروڑ روپے کے فنڈز دئیے جبکہ آج تک بریگیڈئر اقبال شفیع نے یہاں پر کبھی کوئی ایسی بامقصد سرگرمی نہیں کی جس کیلئے یہ کمپلیکس بنایا گیا تھا۔ ایک دفعہ میں قائد محترم مجید نظامی صاحب کو بھی یہاں لے کر گیا تھا مگر وہ سمجھ گئے کہ یہ سب دو نمبر دھندہ ہے چنانچہ انہوں نے مجھے نظریہ پاکستان کی سرگرمیاں یہاں پر کرنے سے منع کر دیا۔ اقبال شفیع صاحب نے جس کمرشل کالج کو یہ جگہ کرائے پر دی۔ اُنکے ذمے سوسائٹی کے 260 کروڑ روپے ہیں۔ بریگیڈئر صاحب کے ہوش وحواس کھونے کے بعد انکی بیگم جو اس سوسائٹی کی نائب صدر ہیں انہوں نے انجینئرنگ کالج کے کرتا دھرتا لوگوں کو سوسائٹی میں شامل کر لیا جب انکی اکثریت قائم ہوئی تو وہ سب کروڑوں روپوں کے فنڈز اور عمارت پر قابض ہوں گے مگر وہاں پر کرنل سیف اور کرنل عنایت جیسے باہمت لوگوں نے قبضہ مافیا کیخلاف مزاحمت کی۔ مشہور مؤرخ اکبر ایس احمد بھی سپریم کورٹ گئے کہ یہ لوگ سرسید کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ C.D.A کے قوانین کے مطابق یہ عمارت کمرشل مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہو سکتی ہے لہٰذا یہاں سے انجینئرنگ کا ادارہ ختم کیا جائے مگرکرپشن اور رشوت اور پیسوں کی چمک دمک کی وجہ سے C.D.A کے کرپٹ افسران نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کیا۔ کرنل سیف اور انکے ساتھیوں کی کوشش سے سرسید میموریل سوسائٹی کو معطل کردیا گیا ہے۔ یہاں پر چیف کمشنرکا نمائندہ بیٹھا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وہاں پر سرسید میموریل سوسائٹی کے دفتر بھی قائم ہیں اور وہاں پر ناجائز طور پر کمرشل کالج بھی کا م کر رہا ہے حالانکہ C.D.A کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس پلاٹ کی 33 سالہ لیز کی دوبارہ تجدید نہ کی جائے کیونکہ یہ پلاٹ جس مقصد کیلئے وقف ہوا تھا اسکے مطابق کام نہیں کر رہا۔ جس طرح انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اربوں میں فروخت کردیا گیا اسی طرح آجکل اسلام آباد میں 500ارب روپے کی حکومتی وسائل سے قائم کردہ اس عمارت کو سپریم کورٹ کے احکامات کیمطابق قبضہ گروپ سے واگزارکرانا ہوگا اور سرسید کے نام پر لوٹ مار کرنے والے بابوں کی رنگ بازیوں کو بھی ختم کرانا ہوگا۔ ان کی اکثریت کی ٹانگیں قبروں میں ہیں مگر سرسید میموریل سوسائٹی اور علی گڑھ ایسوسی ایشن جیسی تنظیموں کے کرتا دھرتاؤں کے پاس کروڑوں کے فنڈز میں پرانے وقتوں میں پرائم لوکیشن پر اربوں مالیت کی زمینوں پر قابض ہیں اسی طرح پاکستان میں سینٹ میریز جیسے اداروں کو ایوب خان نے لالہ زار راولپنڈی میں مشن سکول قائم کرنے کیلئے 500 ایکڑ سے زائد اراضی الاٹ کی مگرآج یہ بھی ادارہ کمرشل بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ جو ادارے ٹرسٹ بناکر کمرشل وینچرز کے طور پر کام کر رہے اور حکومتی فنڈز سے قائم ہوئے ہیں انکو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ ایدھی فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو یتیم خانے قائم کرنے کیلئے دیدیں ۔ ٹیکنیکل کرپشن کو ختم کریں جو نام نہاد بڑی شخصیتوں کے نام پر ہو رہی ہے۔