ایک تاثر ہے ترک بغاوت کے پیچھے سی آئی اے ہے: جنرل (ر) غلام مصطفی

17 جولائی 2016

لاہور (وقت نیوز) وقت نیوز کے پروگرام انسائیٹ میں سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی‘ سابق سفیر جاوید حسین اور سینئر تجزیہ کار سلمان غنی نے خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کے میزبان ایڈیٹر دی نیشن سلیم بخاری اور سینئر پروڈیوسر میاں عمران عباس ہیں۔ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہا ترکی مسلم ممالک کیلئے لیڈر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ بے شمار مسلم ممالک اپنے مسائل کیلئے ترکی کو اہمیت دیتے ہیں۔ اردگان کے خلاف بغاوت کا جال کچھ عرصہ پہلے بُنا جا رہا تھا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے سی آئی اے ہے۔ یہ بغاوت کامیاب ہو جاتی تو مسائل کا شکار مسلمانوں کیلئے مزید مسائل کا سبب بنتی مگر ترکی کے عوام نے اس بڑی سازش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا جنرل (ر) مشرف کو بہت گالیاں دی جاتی ہیں‘ انکے ہر اقدام کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں دن رات جاری رہتی ہیں مگر جنرل مشرف نے عوام کو جو بلدیاتی نظام دیا موجودہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی بلدیاتی نمائندوں کو کوئی اختیار نہیں دیا‘ جو تھے وہ بھی سلب کر لئے، اس سے بڑی ذہنی آمریت کیا ہو سکتی ہے، ہمارے حکمران اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، انہیں عوام کو ذلیل کرنے کی عادت ہے۔ اردگان نے عوام کی نبض پر ہاتھ انہیں انکی عزت کرکے رکھا۔ انہیں انکے حقوق دیکر وہ مقام حاصل کیا کہ لوگ جمہوریت بچانے کیلئے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں ترکی ماڈل اس وجہ سے رائج نہیں ہو سکتا کہ یہاں بیورو کریسی نے سارے جمہوری نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔ بیورو کریسی کے غلط مشوروں نے حکمرانوں کو عوام سے دور کر رکھا ہے۔ یہاں جمہوریت کی بساط ہمیشہ تب لپیٹی جاتی ہے جب عوام اور حکومت کے درمیان خلیج گہری ہو۔ حکمران اپنی پالیسیوں کو بدل لیں تو فوج کبھی اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکتی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکمران آج بھی عوام کا سوچنے کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ جاوید حسین نے کہا کمال اتاترک کے بعد ترکی نے کسی کو عزت دی تو وہ اردگان ہے۔ مغرب کو بے شمار باتوں پر اردگان سے اختلافات تھے، فوج کے جس طبقے نے بغاوت کی‘ وہ سیکولر نظریات کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا وہ اچانک ہلہ بول کر اہم عمارتوں پر قبضہ کرکے عوام کا ذہن کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر ترکی کی عوام نے غیرآئینی کسی بھی اقدام کی حمایت سے انکار کرکے ثابت کر دیا وہ جمہوریت پسند ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی سازش کا حصہ بننے کیلئے آمادہ نہیں۔ اس بغاوت کو کسی نے بھی فیڈ کیا ہو‘ ان کیلئے نتائج خوفناک ہونگے۔ انہوں نے کہا اردگان کو سزا دی جا رہی ہے کہ تم ہم سے بھیک کیوں نہیں مانگتے، تم نے عالمی بنکوں کو گڈ بائے کیوں کہہ دیا، ترکی فلسطین کی حمایت کیوں کرتا ہے، ترکی شام کے مسئلے میں عالمی طاقتوں کا بازو کیوں نہیں بنتا، ترکی کا مضبوط ہونا امریکہ سمیت مغرب کو بھی قبول نہیں۔ مہاتیر محمد کے خلاف بھی ایک وقت میں ایسی سازشیں ہوتی تھیں‘ وہی سازشی ذہن اس ساری کارروائی کے پیچھے ہیں۔ ترکی کا مضبوط ہونا عالم اسلام کے استحکام کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا ترکی میں مستقبل میں بھی اس قسم کی بغاوتوں کا خطرہ ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک تو بین الاقوامی پلیئرز پہلے سے زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرکے میدان میں اتریں گے جبکہ دوسری وجہ فرقہ پرستی بھی ہے جو مستقبل میں ترکی کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ اس قسم کی صورتحال سے مستقبل قریب میں بچنے کیلئے ترکی کی حکومت کو عوام کو پہلے سے زیادہ ڈیلیور کرنا ہوگا۔ سلمان غنی نے کہا اس قسم کی سازشیں اور بغاوتیں جمہوریت کے خلاف تب ہی ناکام ہوتی ہیں جب جمہوری نظام اور جمہور کے درمیان قربتیں ہوں گی۔ ہماری سیاسی قیادت کو جشن منانے کے ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا ترکی میں یہ بغاوت صرف اس لئے ناکام ہوئی کہ اردگان کی پارٹی نے لوگوں کو ڈیلیور کیا۔ اپنی گورننس کو بہتر بنایا۔ انہوں نے عوام کے مسائل کو دن رات محنت کرکے حل کیا۔ ترکی کی کرنسی آج ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا۔ ہمارے حکمرانوں کو ترکی ماڈل کو اپنانے کے ساتھ ان کا طرز حکومت بھی اپنانا ہوگا۔ عوام کی قدر کرنا ہوگی جبکہ ہمارے ہاں لوگ سڑکوں پر ضرور نکلتے ہیں مگر مٹھائیاں بانٹنے کیلئے۔ انہوں نے کہا کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس پر ہماری حکومت کا ردعمل بین الاقوامی طورپر کمزور ہے۔ ہم عوام کی بات تو بعد میں کریں‘ کشمیر کے اوپر ہماری حکمران جماعتیں کوئی مشترکہ پلیٹ فارم پر ایک چاند اور مؤقف اپنانے پر ناکام ہیں۔ اس ملک کی عوام جمہوریت کی خاطر کیوں سڑکوں پر نکلیں گے جب انہیں پتہ ہوگا یہی حکمران ہمارے مسائل کو کم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔