مقبوضہ کشمیر میں مودی کرپشن کی انتہا کر رہا ہے

17 جولائی 2016
مقبوضہ کشمیر میں مودی کرپشن کی انتہا کر رہا ہے

آج میں بہت دکھی ہوں۔ گورنر ہائوس لاہور میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے چودھری نثار کے لئے سرد مہری کھل کر سامنے آ گئی۔ ایک معاصر روزنامے کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ چودھری نثار نے پانچ بار مخاطب کیا مگر وزیراعظم نے نظرانداز کیا۔ ان کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔ نجانے وہ کیا کہنے والے تھے۔ آج کل چودھری صاحب نواز شریف کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ نواز شریف کے لئے استقبالی قطار میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ کابینہ اجلاس کے بعد جب کھانا شروع ہوا تو چودھری نثار اپنی سیٹ پر بیٹھے رہے اور اکیلے ہی کھانا کھاتے رہے۔ اخبار کے مطابق کئی وزراء نے غلطیاں کیں۔ وزیر شذیر انوشہ رحمان نے آزاد کشمیر کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کہہ کر پکارا۔ اس پر پاکستانی وزیراعظم نواز شریف خفا ہوئے اور انہیں ٹوکا۔ بھارتی وزیراعظم مودی انوشہ رحمان کے لئے بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ بھارت میں آزاد کشمیر کے لئے یہی لفظ کہے جاتے ہیں۔ نواز شریف نے اپنی وفاقی کابینہ میں کیسی کیسی عورتیں وزیر شذیر بنائی ہوئی ہیں؟ کچھ وزراء نے یہ مشورہ دیا کہ بھارتی مظالم پر ہمیں جارحانہ رویہ اختیار کرنا پڑے گا مگر وزیراعظم نے کوئی توجہ نہ دی جبکہ یہ بات چودھری صاحب نے نہ کہی تھی۔ میری گزارش ہے کہ اس سلسلے میں ایک سخت بیان چودھری نثار کو دینا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم مودی اس بات کو سنجیدگی سے لیں گے اور چودھری صاحب کی کچھ بات رہ جائے گی؟
مودی کشمیر میں بھی گجرات کی طرح کے قتل و غارت اور ظلم و ستم کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے۔ گجرات میں درندگی کی وجہ سے بھارت والوں نے اسے وزیراعظم بنایا ہے۔ وہ دوسری بار بھی بھارت کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے۔ ممکن ہے اسے تیسری بار بھی وزیراعظم بنایا جائے کیونکہ وہ نواز شریف کا ذاتی دوست ہے اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں۔ پنڈت نہرو برصغیر کی آزادی کے لئے ہندوئوں کا لیڈر تھا۔ اسی نے کشمیر کا کام خراب کیا تھا۔ خدا کی قسم پنڈت نہرو اگر منصفانہ طریقے سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں معاونت کرتا تو دنیا کی تاریخ میں اس کا نام ہوتا۔ اب اس کی حیثیت بھی صرف ایک عام بھارتی وزیراعظم کی ہے اور مودی بھی کبھی اس منصب سے اوپر نہیں اٹھ سکے گا۔ ذرا غور کریں کہ آزادی کی تحریک کے حوالے سے انگریزوں کا طرز عمل کیا تھا اور ہندوئوں کا طرز حکومت کیا ہے۔ گویا انگریز ہندوئوں سے بہتر ہیں۔
نواز شریف نے بھی دوسرے پاکستانی حکمرانوں کی طرح کشمیر کے معاملے میں خاص جرات مندانہ قیادت کا ثبوت نہیں دیا۔ چودھری نثار نے بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسی دینے کے حوالے سے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو للکارا تھا تو ہم خوش ہوئے تھے۔ اب بھی وہ کشمیر کے معاملے میں اٹھ کھڑے ہوں اور پاکستانی حکومت کی ٹھنڈی ٹھار پالیسی کے برعکس کوئی بات کریں جو پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں جذب اور جرات کی سرشاری اتار دے مگر آج کل چودھری صاحب بہت اداس ہوں گے۔ قدم بڑھائو چودھری نثار ہم تمہارے ساتھ ہیں؟
سینئر صحافی اور چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد نے کتنی دردمندی سے بات کی ہے کہ کشمیر کمیٹی اور کمیٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کوئی بیان تک جاری نہیں کیا۔ وزیراعظم سے ضیاء شاہد نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حضرت مولانا کو کشمیر کمیٹی سے ہٹا دیں اور کوئی دوسرا قومی غیرت رکھنے والا لیڈر کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے لئے مقرر کریں۔ آپ خود غور کریں کہ کبھی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے۔
عجیب بات ہے کہ لیاقت علی خان کے زمانے میں قبائلی علاقے کے پاکستانی پٹھان سرینگر کے قریب پہنچ گئے تھے تو فائربندی کس نے کروائی اور آج قبائلی علاقے میں آپریشن ضرب عضب کامیابی کے نزدیک ہے ۔ پاکستانی پٹھانوں میں دہشت گردی کے جراثیم کس نے پیدا کئے۔ اس کیلئے وضاحت تو محمود اچکزئی کو کرنا چاہئے۔ پہلے ایسے لوگوں کے دل میں ہمسایہ ملک بھارت کیلئے مروڑ اٹھتے تھے اب ہمسایہ ملک افغانستان کیلئے بخار چڑھا ہوا ہے۔ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ایسی بات کسی دوسرے ملک میں کوئی سیاستدان نہیں کر سکتا۔ یہ بدقسمت ملک پاکستان ہی ہے کہ جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ اگل دیتا ہے۔ محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر بھی بنتا ہے۔ اپنے بھائی کو بلوچستان کا گورنر بھی بنوایا ہوا ہے۔ وہ نواز شریف کا بہت دوست ہے؟ چودھری سرور نے کشمیر کے حوالے سے بات نہیں کی۔ البتہ نیب کو نیب لیگ کہہ دیا ہے۔ جب وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو نیب بڑے آرام سے نیب پارٹی بن گیا تھا۔ اب چودھری سرور کی جماعت تحریک انصاف آئے گی تو نیب باقاعدہ ایک تحریک کا لبادہ اوڑھ لے گا۔ لہٰذا ہم نیب کو بند کرنے کی چودھری سرور کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ نیب کو بھارتی سیاستدانوں اور حکمرانوں کے احتساب پر لگا دیا جائے تاکہ اس کا کام بھی صرف بیان دینا ہو جائے۔ ہمارے سیاستدانوں کو نئی بات مل جائے گی کہ کرپشن صرف پاکستان میں نہیں ہے بھارت میں بھی ہے۔ اس حوالے سے بھی نیب کو اچھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اب تک نیب کو بری طرح استعمال کیا گیا ہے۔ نیب نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ اسحاق ڈار کو منی لانڈرنگ سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے جبکہ منی لانڈرنگ کیلئے ڈار صاحب خود اعتراف کر چکے ہیں۔ عمران خان وزیراعظم نواز شریف کیلئے نیب والا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ نواز شریف کی کرپشن کا ذکر اپنی ہر تقریر میں کرتا ہے۔