جمہوریہ تُرکیہ اور ’’ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان؟‘‘

17 جولائی 2016

جمہوریہ تُرکیہ میں فوجی بغاوت کی ناکامی پر پاکستان میں ’’ جمہوری حکومت ‘‘ اور ’’ جمہور‘‘ کا خوشیاں منانے کا اپنا اپنا انداز ہے ۔ کل ( 16 جولائی کو ) مَیں ’’ نوائے وقت ‘‘ کے دفتر میں اپنا کالم ’’ای میل ‘‘ کر رہا تھا تو اُس وقت تک مَیں نے مختلف نیوز چینلوں پر وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف ( جِن کے پاس وزارتِ دفاع کا اضافی چارج بھی ہے ) کا بیان کئی بار سُنا ۔ خواجہ صاحب نے ’’ جمہوریہ تُرکیہ کے چند باغی ٹینک بردار فوجیوں کے ٹینکوں پر چڑھنے اور اُن کے آگے لیٹنے پر وہاں کے عوام کو سلام پیش کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’ پاکستان میں بھی جمہوریت کے مخالفین کو اِس سے سبق حاصل کرنا چاہیے!‘‘۔ خواجہ صاحب نے اپنے بیان میں وضاحت نہیں کی کہ ’’ جمہوریت کے مخالفین ‘‘سے اُن کی مُراد کون ہیں؟‘‘۔
جمہوریہ تُرکیہ اور پاکستان کی ’’ جمہوریت ‘‘ میں بہت زیادہ فرق ہے اور صدر جمہوریہ تُرکیہ جناب رجب طیب اردگان اور وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کا سیاسی طور پر پروان چڑھنے کا انداز بھی مختلف ہے۔ جناب رجب طیب اردگان 1994ء میں استنبول کے میئر منتخب ہُوئے تھے اور میئر کی حیثیت سے اُنہوں نے استنبول کے عوام کے مسائل اِس محنت اور محبت سے حل کئے کہ وہ اُن کے محبوب لیڈر بن گئے ۔ موصوف ’’ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے بانی چیئرمین ہیں اور مارچ 2003ء سے لے کر اگست 2014ء تک وزیراعظم رہے اور پھر جمہوریہ تُرکیہ کے 12 ویں صدر منتخب ہُوئے ۔ اِس کے برعکس میاں نواز شریف کو پاکستان کی سیاست میںداخلے کے لئے گرین چِٹ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء اُلحق کے دَور میں گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی نے عطاء کی اور وزیر خزانہ پنجاب بنا دِیا اور اُس کے بعد میاں صاحب محسوس اور غیر محسوس طور پر جنرل ضیاء اُلحق کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔
صدر جنرل ضیاء اُلحق نے جناب محمد خان جونیجو کی صدارت میں جو مسلم لیگ بنوائی تھی، میاں نواز شریف اُس کے پنجاب شاخ کے صدر بنائے گئے۔ اُس کے بعد جنرل ضیاء اُلحق کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’ خُدا کرے کہ میری عُمر بھی نواز شریف کو لگ جائے ‘‘۔ حیرت ہے کہ جنرل صاحب نے یہ دُعا اپنے بیٹوں کے لئے نہیں کی تھی۔ دُعا قبول ہُوئی اور جنرل صاحب کے ہوائی حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد میاں صاحب نے بھی یہ کہا تھا کہ ’’ مَیں شہید جنرل ضیاء اُلحق کا مِشن کامیاب کروں گا ‘‘۔ اُس کے بعد میاں صاحب نے شاید خواجہ محمد آصف کو بھی نہیں بتایاکہ ’’ جنرل ضیاء اُلحق کا مِشن تھا کیا؟۔ شاید خواجہ صاحب کے والدِ (مرحوم) خواجہ محمد صفدر کو معلوم تھا جنہیں جنرل صاحب نے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے پہلے اپنی مجلسِ شوریٰ کا صدر نامزد کِیا تھا۔ خواجہ محمد آصف یہ بھی یاد رکھیں کہ مسلم لیگ ن بھی جنرل ضیاء اُلحق کی بنائی گئی مسلم لیگ کی آمریت کی ’’ باقیات‘‘ میںسے ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کو پہلی بار صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کِیا اور دوسری بار جنرل پرویز مشرف نے ۔ اگر معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت واقعی جمہوری تھی تو اُس کی بحالی کے لئے ’’ جمہور‘‘ سڑکوں پر کیوں نہیں آئے ؟۔ جنرل پرویز مشرف نے میاں صاحب کی حکومت برطرف کی تو جنابِ آصف علی زرداری جیل میں تھے ، جنہوں نے میاں صاحب کی حکومت کی برطرفی کی خوشی میں جیل میں کئی من مٹھائی تقسیم کی تھی۔ میاں نواز شریف نے سبق نہیں سِیکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی ’’ آمریت‘‘ کے خاتمے کے لئے مئی 2006ء میں لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ’’ میثاقِ جمہوریت‘‘ پر دستخط کردئیے اور جب بعد میں جناب آصف زرداری صدر پاکستان منتخب ہُوئے تو میاں صاحب اُن کی "Friendly Opposition" کرتے رہے۔
جناب رجب طیب اردگان ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ‘‘ کے بانی چیئرمین ہیں جنہوں نے جمہوریہ تُرکیہ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بہت کام کِیا ۔ اِسی وجہ سے عوام فوجی باغیوں کے ٹولے کے ٹینکوں پر چڑھ گئے اور اُن کے آگے لیٹ گئے۔ اگر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بھی مسلم لیگ ن کی طرح ، ایک ہی خاندان اور چند مخصوص دوستوں کی پارٹی ہوتی تو محض جناب رجب طیب اردگان کی موبائل پر تقریرسُن کر اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر عوام باغی فوجیوں کے سامنے سینہ تان کر سڑکوں پر کیسے آتے ؟۔ باغی فوجی ٹولے کو ناکام بنانے میں عوام کے ساتھ ساتھ پولیس، سِول انتظامیہ اور تُرکیہ کی فوج کی غالب اکثریت نے بھی اہم کردار ادا کِیا ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پاک فوج کے کسی بھی گروپ نے "Counter Coup" نہیں کِیا ۔ میاں نواز شریف خوش قِسمت ہیں کہ جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع نہ لینے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے اور اُنہوں نے اربوں روپے کے قیمتی پلاٹ بھی ’’ شُہداء فنڈ ‘‘ کو وقف کردئیے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ مفلوک اُلحال طبقے ’’ بدترین جمہوریت ‘‘ کے خاتمے کے لئے G.H.Q کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔
میرے والدِ مرحوم ( تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن ) رانا فضل محمد چوہان 1911ء میں پیدا ہُوئے تھے۔ 1919ء میں متحدہ ہندوستان میں ’’ تحریکِ خلافت ‘‘ شروع ہُوئی تو مَیں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اُنہوں نے ’’ تحریک پاکستان ‘‘ سے پہلے ’’ تحریکِ خلافت ‘‘ میں بھی حِصّہ لِیا تھا ۔ پاکستان وجود میں آیا تو مَیں 11 سال کا تھا ۔ اُن دِنوں مجھے اور میری عُمر کے مسلمان لڑکوں کو یہی سمجھایا جاتا تھا کہ قائداعظمؒ کے ساتھ ساتھ جمہوریہ تُرکیہ کے بانی ’’اتا ترک ‘‘ غازی مصطفیٰ کمال پاشا کو بھی مسلمانوں کے ہیرو ہیں ۔ مَیں 1973ء میں اپنے دو صحافی دوستوں جناب انتظار حسین اور سعادت خیالیؔ کے ساتھ اور دوسری بار 1991ء میں صدر غلام اسحاق خان کی میڈیا ٹیم کے رُکن کی حیثیت سے تُرکیہ کے دورے پر گیا۔ دونوں بار مَیں نے استنبول کے ’’ طوپ کا پی ‘‘ میوزیم میں نبی کریمؐ اور ذوالفقار علیؓ سمیت خلفائے راشدہ کے تبرکات کی زیارت کی ۔ مدینۂ منورہ میں میزبان رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار اور ’’اتا تُرک ‘‘ کے مقبرے پر حاضری دی ۔ مجھے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ خانۂ کعبہ کے اندر جانے کا شرف حاصل ہُوا ۔ مجھے یہ اعزاز قیامِ پاکستان کی بدولت مِلا۔
مَیں اپنے کالموں میں اکثر بیان کرتا رہتا ہُوں ’’ اتا تُرک ‘‘ غازی مصطفیٰ کمال اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی اپنی جائیداد قوم کے نام وقف کردی تھی لیکن ’’ عُلمائے سُو ‘‘ نے امُتِ مُسلمہ کے دونوں لیڈروں کے خلاف کُفر کے فتوے دئیے اور رُسوا بھی ہُوئے‘‘۔ مجھے اکثر علاّمہ اقبالؒ یاد آتے ہیں جِن کا قولِ فیصل ہے کہ ’’ کسی مولوی کو نہیں بلکہ مسلمانوں کی منتخب قومی اسمبلی کو ہی ’’اجتہاد‘‘ کا استحقاق حاصل ہے ۔ ’’ اجتہاد کا یہی استحقاق ‘‘ استعمال کر کے ترکیہ کی گرینڈ اسمبلی نے غازی مصطفیٰ پاشا کی صدارت میں خلافت کے ناکارہ ادارے کو ختم کردِیا تھا۔ میری خواہش ہے کہ جمہوریہ تُرکیہ کی طرح ’’اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ‘‘ میں بھی جمہوریت قائم ہو کہ اُسے بچانے کے لئے ہمارے عوام بھی ٹینکوں پر چڑھ جائیں اور اُن کے سامنے لیٹ جائیں ۔ ایسی جمہوریت کا سورج کب طلوع ہوگا مجھے نہیں معلوم!۔