ناکام بغاوت

17 جولائی 2016

یہ شائد اسی طرح کی فوجی بغاوت کی کوشش تھی جس طرح وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت میں راولپنڈی سازش‘ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں میجر جنرل تجمل حسین کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی۔ بارہ اکتوبر 1999ء کو جب جنرل مشرف نے نوازشریف حکومت کا تختہ الٹا تو شام کے وقت پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات اچانک بند ہوگئی تھیں۔ فوج کے ایک دستے نے پاکستان ٹیلی ویژن اسلام آباد پر قبضہ کرکے نشریات بند کر دی تھی کیونکہ پی ٹی وی کے خبرنامہ میں جنرل مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ہم صحافی جن میں غیرملکی نامہ نگار بھی شامل تھے پی ٹی پی کے ہیڈکوارٹر کے سامنے پہنچے تو یہ واضح نہیں ہو رہا تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک غیرملکی نامہ نگار اپنے ادارے کو موبائل فون پر یہ خبر دے رہا تھا کہ اب تک واضح نہیں ہے کہ پی ٹی وی پر جنرل مشرف کے حامیوں کا قبضہ ہے یا نوازشریف کے حامیوں کا۔ وزیراعظم نواز شریف کے اس وقت کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئر جاوید نے مداخلت کرکے پی ٹی وی کی نشریات بحال کرانے کی کوشش کی تھی لیکن چند منٹوں میں صورتحال واضح ہوگئی تھی۔ جنرل مشرف کا طیارہ جو سری لنکا سے آ رہا تھا کراچی ائرپورٹ اتر گیا اور فوجی ٹیک اوور ہوگیا تھا۔
16 جولائی کو رات کے آخری پہر میں جب ترکی میں فوجی بغاوت کی خبر آئی تو ساری دنیا چونک گئی۔ ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جو ترکی زبان میں اے کے پی AKP کہلاتی ہے گزشتہ چودہ برس سے برسراقتدار ہے۔ رجب طیب اردگان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں۔ اردگان کے اقتدار سے پہلے ترکی کو اس کے سیاسی بحرانوں اور کمزور معیشت کے باعث ’’مرد بیمار‘‘ کہا جاتا تھا۔ طیب اردگان نے ترکی کی معیشت کو سنبھالا‘ برآمدات میں اضافہ ہوا۔ یہ نہیں کہ ترکی کی فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنا نہیں آتا۔ پاکستان کی طرح ترکی کی فوج چار مرتبہ ترکی میں مارشل لاء چکی ہے۔ ترکی میں سب سے پہلے 27 مئی کو 1960 ء کو مارشل لگایا گیا‘ جب ترکی میں عدنان مندریس کی حکومت تھی۔ حکومت اور اپوزیشن میں اس وقت کشیدگی عروج پر تھی۔ عدنان مندریس نے کمال اتاترک کے رہنما اصولوں سے ہٹ کر ترکی میں مسجدوں کو نماز کی ادائیگی کے لئے کھولنا شروع کر دیا تھا اور عربی زبان میں اذان دینے کی اجازت دے دی تھی۔ اتاترک نے عربی زبان میں اذان دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ اذان صرف ترکی زبان میں دینے کی اجازت تھی۔ عدنان مندریس نے لازمی فوجی سروس کی مدت بھی کم کر دی تھی۔ عدنان مندریس نے پریس پر بھی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ عدنان مندریس کی حکومت نے خود مارشل لاء لگایا لیکن فوج نے عدنان مندریس کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا۔ عدنان مندریس کو بعد میں فوج نے پھانسی بھی دے دی۔ 1971ء میں ترکی کے معاشی حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ فوج نے معیشت کی بحالی کے لئے ایک اور مارشل لاء لگا دیا۔
1980 ء میں ترکی میں دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں میں تصادم شروع ہو گیا جس کے بعد ترکی کی فوج نے پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا‘ ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور سینکڑوں افراد کو سزائے موت دی گئی۔ 1995 ء میں ترکی میں انتخابات ہوئے تو اسلامی ویلفیئر پارٹی کو بھاری اکثریت مل گئی۔ اس پارٹی نے دوسری پارٹیوں سے مل کر مخلوط حکومت بنائی۔ اس حکومت کو فوج نے حالات کو بہتر بنانے کیلئے سفارشات پیش کیں۔ حکومت کے سربراہ نعیم الدین اربکان نے ان سفارشات کو قبول کر لیا۔ ان سفارشات میں دینی مدارس کو بند کرنے کی سفارش بھی تھی۔ فوج ان سفارشات پر عملدرآمد سے مطمئن نہیں تھی اس لئے فوج نے اربکان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور 1997 ء میں اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ فوج نے ترکی ویلفیئر پارٹی پر پابندی لگا دی۔ 1960 ء سے 2000 تک ترکی کا سیاسی نظام فوج کی چھتری کے نیچے چلتا رہا جس کے بعد 2002 ء کے انتخابات میں رجب طیب اردگان کی اے کے پی اقتدار میں آ گئی۔ بطور وزیراعظم اردگان نے ترکی کی معیشت کو بہتر کیا۔ برآمدات میں اضافہ ہوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے۔ معیشت بہتر ہونے کے فوائد عوام تک پہنچے۔ 2012 ء کے انتخابات کے بعد اردگان نے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش شروع کیں وہ وزارت عظمیٰ چھوڑ کر صدر بن گئے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے ایسے اقدامات کئے جن سے ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا۔ ان میں پریس پر پابندیاں اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے سپیس کم کرنے کے لئے ایسے اقدامات تھے۔ 16 جولائی کی فوجی بغاوت میں فوج کا ادارہ عمل طور پر شامل نہیں تھا۔ کچھ سر پھرے فوجی افسروں نے اردگان کی چھٹی کرانے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔ یہ کوشش ناکام ہونا تھی کیونکہ ترک فوج کے سربراہ بھی اس بغاوت سے لاعلم تھے۔ فوجی ٹیک اوور اس صورت میں کامیاب ہوتا ہے جب فوج کے تمام عناصر (ELEMENT) ہم آہنگ ہوں۔ 16 جولائی کی کوشش غیر مربوط تھی اور جوشیلے اور سر پھرے فوجیوں کی حرکت لگتی ہے۔ ایک کانسپرنسی تھوری یہ بھی ہے کہ یہ خود اردگان کے حامیوں کی کوشش تھی۔ تاکہ اردگان کی مقبولیت ثابت کی جا سکے۔ ترکی میں فوج کے ایک حصے کی طرف سے بغاوت کو عوامی حمایت سے کچل دیا گیا ہے لیکن اردگان حکومت کو ان وجوہ پر ضرور غور کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی۔