ترکی میں کئی بار فوجی گروپوں نے اقتدار پر قبضہ کیا

17 جولائی 2016

انقرہ (نیٹ نیوز) ترکی کی تاریخ جمہوریت پر شبخون مارنے کے کئی واقعات کی گواہ ہے وہاں کئی بار فوجی گروپوں نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے منتخب حکومت کو معزول کرنے کی کوشش کی۔ 1960 میں خونی فوجی بغاوت کے ذریعے وزیراعظم عدنان میندریس کو معزول کیا گیا۔ بغاوت کے بعد جنرل جمال گرسل صدر نامزد ہوئے اور عدنان میندرس کو پھانسی دی گئی تھی۔ 1971ء اور 1980ء میں بھی اقتدار پر جابرانہ قبضے کی کوششیں کی گئیں۔ جرنیلوں نے ایک بار پھر ملک کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ 1998ء میں وزیراعظم نجم الدین اربکان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اس وقت طیب ارگان کو استنبول کے میئر کی حیثیت سے ہٹا دیا گیا تھا۔ 16 جولائی 2016ء کو ایک مرتبہ پھر فوجیوں کے ایک گروپ نے ترکی کی منتخب جمہوری حکومت کو ہٹا کر تسلط قائم کرنے کی کوشش کی جسے ترک عوام‘ حکومت اور ترک فوج نے ناکام بنا دیا۔ اس سے قبل بھی اردگان حکومت کو ہٹانے کے لیے چار سے پانچ بار کوششیں کی گئیں مگر انہیں ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا گیا۔