زمینوں کا معاوضہ ملا نہ مستقل ملازمتیں‘ بجلی گھروں کی تعمیر سے تھر کے لوگ ناراض

17 جولائی 2016

تھرپارکر (بی بی سی) صحرائے تھر کے ٹیلوں کے درمیان کان کن 16 میٹر کی گہرائی تک پہنچ چکے ہیں اور انہیں 160 میٹر زیرزمین کوئلے تک پہنچنا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے صحرائے تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر واقع ہیں جن کو 12 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان دنوں بلاک نمبر دو میں کان کنی اور بجلی گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ سندھ اینگرو کول کمپنی کے جنرل منیجر آپریشن مرتضیٰ اظہر رضوی کا کہنا ہے 160 میٹر کی تہہ تک پہنچنے کیلئے تین سال کا عرصہ درکار ہے۔ وہ کہتے ہیں تھر میں زیرزمین پانی کی تین سطح موجود ہیں۔ سب سے زیادہ پانی تیسری سطح پر ہے۔ یہ واحد چیلنج ہے جو مختلف ہے۔ یہ پانی ہزاروں کیوسکس میں ہوگا جن کو درجن سے زائد پمپس کے ذریعے نکال کر ذخیرہ کیا جائے گا۔ بجلی گھر کی تعمیر کے بعد اس پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ اینگرو کے منصوبے سے تقریباً 28 کلومیٹر دور واقع گوڑانو گائوں اور آس پاس کے لوگ ناراض ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی اینگرو کمپنی کے ٹھیکیداروں سے جھڑپ بھی ہو چکی ہے‘ لیکن پولیس کی موجوگی میں ڈمپر اور ٹریکٹر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نوجوان بھیم راج کے مطابق اس علاقے میں دس کے قریب گائوں ہیں جبکہ 2700 ایکڑ لوگوں کی ذاتی زمین ہے۔ اینگرو یہاں زبردستی ڈیم بنانا چاہتی ہے حالانکہ یہ علاقے کول ایریا میں آتے ہیں اور نہ ہی انہیں الاٹ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے لوگوں کے گزر بسر اور آمدنی کا وسیلہ صرف یہ زمین ہے۔ ہم نے انہیں دیگر مقامات بھی تجویز کئے ہیں‘ لیکن وہ بضد ہیں اس مقام پر وہ کھارے پانی کی جھیل بنائیں گے۔ اینگرو کول کمپنی کے چیف آپریٹنگ افسر شمس الدین شیخ کا دعویٰ ہے ایک ہزار ایکڑ پر پانی کا ذخیرہ بنایا جا رہا ہے۔ دراصل لوگوں تک صحیح طریقے سے معلومات پہنچ نہیں پاتیں اس وجہ سے انہیں خدشات ہیں۔ جس طرح پہلے لوگوں کو معاوضہ دیا‘ اسی طرح یہاں کے متاثرین کیلئے بھی وہ ہی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ کوئلے منصوبے میں سڑکوں کی تعمیر اور کان کی کھدائی کیلئے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ مرتضیٰ اظہر کا کہنا ہے انہوں نے حکومت سندھ کو تحریری طورپر آگاہ کیا ہے۔ وہ ایک درخت لگائیں گے تو اس کی جگہ پانچ درخت لگائیں گے۔ سلام کوٹ شہر سے قریب ایک مقام پر اینگرو کی جانب سے گرین ہائوس قائم کیاگیا ہے جہاں وعدے کے مطابق پودے لگائے گئے ہیں‘ تاہم کئی پودے مرجھا چکے ہیں۔ کول ایریا کے علاوہ بھی آس پاس کے گائوں اور زمینیں متاثر ہو رہی ہیں۔ جہاں سڑکیں پانی کے چھوٹے بڑے تالاب اور پائپ لائن بچھائی جارہی‘ لیکن ان متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی تاحال نہیں کی گئی‘ تاہم اینگرو کمپنی کا دعویٰ ہے انہیں ادائیگی ضرور ہوگی۔ مقامی لوگوں کو شکایت ہے ملازمتوں میں انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مستقل ملازمتوں کو بجائے ٹھیکیداری نظام کے ذریعے چھوٹی ملازمتیں دی گئی ہیں۔ یہ منصوبہ اب پاکستان چین اقتصادی راہداری کا حصہ بن چکا ہے۔ تھر میں حکام لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں یہ چینی کر رہے ہیں اور یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے۔