نواز شریف کشمیر پالیسی میں تبدیلی کیلئے حریت قیادت کو آن بورڈ لیں: کشمیری رہنما

17 جولائی 2016

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم: عترت جعفری‘ سلطان سکندر ‘ محمد ریاض اختر‘ رستم اعجاز ستی) مقبوضہ اور آزادکشمیر کی سیاسی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی نئی صورتحال میں کشمیر پالیسی میں اہم تبدیلی لانے اور آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے وزیراعظم نوازشریف آر پار کی کشمیری قیادت کو ان بورڈ لیں‘ حریت قائدین کے ساتھ خصوصی میٹنگ کریں اور اس مقصد کے لئے سری نگر سے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی‘ میر واعظ عمر فاروق‘ شبیر احمد شاہ ‘ محمد یاسین ملک کو پاکستان آنے کی دعوت دیں گزشتہ تین سال سے مسئلہ کشمیر پر آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت بالخصوص حریت کانفرنس سے کوئی باضابطہ اور سنجیدہ میٹنگ نہیں ہوئی ہے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام کی صرف سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت کافی نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھائی جائے اور کرفیو اور ریاستی تشدد کا شکار متاثرہ عوام کو ریلیف اور علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور ممتاز عسکری دانشور میجر جنرل (ر) سردار محمد انور خان‘ حریت کانفرنس (علی گیلانی) آزادکشمیر و پاکستان شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی‘ حریت کانفرنس (میر واعظ) کے کنوینئر میر طاہر مسعود ‘ حریت کے کنوینئر میر طاہر مسعود ‘ حریت رہنماؤں محمود احمد ساغر‘ سید فیض نقشبندی‘ محمد عبداﷲ ملک اور ڈاکٹر ولید رسول ہفتہ کے روز یہاں ایوان وقت میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے اظہار خیال کر رہے تھے سردار محمد انور خان نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف نے پہلے بیان میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر محض تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بھارتی اپوزیشن لیڈر سونیا گاندھی نے بھارتی مظالم کی مذمت کی ہے پاکستان سے حکومتی عوامی اور این جی اوز کی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے متاثرہ عوام کو اشیاء خوراک‘ ادویہ‘ طبی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوابزادہ نصراﷲ خان چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے غیر جانبدارانہ کردارادا کرتے ہوئے کشمیر کاز کے لئے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے حامی اور جانبدار ہیں ، برہان وانی کے ایک ہاتھ بندوق اور دوسرا سوشل میڈیا پر تھا اور اس نے پورے جموں و کشمیر بالخصوصنئی نسل کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا ان کی نماز جنازہ میں نوجوانوں کی بھاری اکثریت نے شرکت کی تھی۔ ان کی شہادت نے تحریک کو نیا رخ دیا ہے، میر طاہر مسعود نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام کو خوراک‘ ادویہ کی قلت کے پیش نظر ریڈکراس یا دیگر عالمی تنظیموں کو ریلیف پہنچانے کی اجازت نہیں۔ غذائی بحران اور قحط کیوجہ سے لوگوں کے مرنے کا خدشہ ہے اس لئے پاکستان اور عالمی برادری کو وہاں کی سنگین صورت حال پر توجہ دینی چاہئے، محمود احمد ساغر نے کہاکہ کشمیری عوام پہلے بھارتی وزیراعظم نہرو کے وعدے پر عملدرآمدکرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اس لئے بھارتی مسلمانوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق میں رائے عامہ ہموار کریں۔ سید فیض نقشبندی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے استعمال سے 43 پرامن افراد شہید اور 2500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں 50 ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتالوں میں زخمیوں پر شیلنگ کی گئی ڈاکٹروں‘ ادویہ زخمیوںکے علاج کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ محمد عبداﷲ ملک نے کہا کہ پاکستان سے سپورٹ نہ ملنے سے مقبوضہ کشمیر کے عوام میںمایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔ ولید رسول نے کہاکہ کشمیریوںکی جدوجہد حصول حق خودارادیت تک جاری رہے گی۔