جو ججز سائلین کو انصاف فراہم نہیں کر سکتے، گھر چلے جائیں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

17 جولائی 2016

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ ایجنسیاں) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصو ر علی شاہ نے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود انصاف فراہم کرنے والے جوڈیشل افسروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ پیار سے اداروں میں ترقی آتی ہے جبکہ نفرت ہمیشہ زوال کا سبب بنتی ہے۔ ضلعی عدلیہ میں ٹرانسفرز اور پروموشن پالیسی میں کوئی اقرباء پروری نہیں چلے گی۔ ہر پروفیشنل جوڈیشل افسر میرا فیورٹ ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ہمیشہ پروفیشنلزم کو ترجیح دی۔ ڈسٹرکٹ جوڈیشری بہت خوبصور ت ہے اور جوڈیشل افسر قابل تحسین ہیں جو مشکل حالات کے باوجود پبلک سروس کرتے ہیں۔ میں صرف پبلک سروس کیلئے چیف جسٹس بنا ہوں اور ضلعی عدلیہ کے ایماندار، قابل اور محنتی ججز کے ساتھ مل کر صوبائی عدلیہ کو مثالی بنائیں گے جو سٹرکچر ہائیکورٹ کا ہے وہی ضلعی عدلیہ کا ہوگا، عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ کے ججز میری فیملی کا حصہ ہیں اور ضلعی عدلیہ کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیںگی۔ جوڈیشل افسروں کیلئے کریڈٹ کارڈز کی سہولت فراہم کی جائے گی، بچوں کیلئے بہترین سکولز کی انتظامیہ سے بات کر رہے ہیں۔جوڈیشل افسران کی ٹرانسفر کے ساتھ بچوں کے سکول ایڈمیشن میں مسائل نہ آئیں اور فیسوں میں بھی رعایت ملے۔ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ سمارٹ فونز اور آئی پیڈز پر صرف فلمیں نہیں دیکھنی۔ ان سے استفادہ کر نا ہے۔ ریسرچ کے میدان میں آگے جانا ہے اور لوگوں کو جلد انصاف کی فراہمی میں اس ٹیکنالوجی سے کام لینا ہے۔ تھری جی اور فور جی کی سہولت بھی ہر ضلع میں مہیا کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے اٹک میں ای کورٹس کے آغاز کو سراہا اور اپنی سطح پر آفس آٹومیشن سسٹم بنانے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوںنے کہا کہ جلد پورے صوبے کی عدلیہ ایک ہی کمیپوٹرائزڈ سسٹم کے تحت منسلک ہو جائے گی۔ تمام نظام آن لائن ہوگا، کاز لسٹوںمیں مقدمات کو محدود کیا جائے گا۔ 100 سو مقدمات کی کاز لسٹ جاری نہیں ہوگی۔ عدالت عالیہ کی طرح خصوصی بنچ بھی بنائے جائیں گے۔ ضلعی عدلیہ میں ورکنگ حالات مکمل طور تبدیل کر دیئے جائیں گے۔ انفراسٹرکچر، بلڈنگز، جوڈیشل کمپلیکسز کی تعمیر، جوڈیشل الائونس اور تنخواہوں میں اضافہ سمیت دیگر تمام معاملات حکومت کی اعلیٰ سطح کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔ ہر جوڈیشل افسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ پیشہ وارانہ روئیے کو کبھی ترک نہ کرے۔ کسی سے بھی الجھے بغیر پیشہ وارانہ انداز میں عدالتی معاملات چلائے‘ ماضی کو بھول جائیں۔ جو ہو گیا سو ہوگیا۔ آئندہ کسی بھی قسم کی غلطی برداشت نہیں کی جائے گی جو اپنے آپ کو بہتر نہیں کرسکتا وہ جوڈیشل اکیڈمی میں ٹریننگ کرے۔ جج میں انا نہیں ہوتی۔ عاجزی اپنائیں اور خود کو نکھارنے کیلئے ٹریننگ کریں اور نئی سوچ کے ساتھ عدالتوں میں بیٹھیں۔ ضلعی عدلیہ میں انٹیلی جنس سسٹم لا رہے ہیںجو جوڈیشل افسروں کی کارکردگی کی رپورٹ دے گی اور اسی رپورٹ کی روشنی میں پروموشن اور ٹرانسفرزہوں گی۔ جس کی شہرت خراب ہوگی وہ چھپ نہیں سکے گا۔ ضلعی عدلیہ کے ججز کے چیمبرز میں وکلاء کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،اب جج اپنے چیمبرز میں بیٹھ کر ریسرچ کریں فیصلے لکھیں اور قانون کی خدمت کریں، کسی جج کی شہرت پر سوال اٹھا تو وہ عدالت میں نہیں بیٹھے گا۔ ہمیں مل کر عدلیہ کے ادارے کو اپنا گھر سمجھ کے صاف کرنا ہے۔ وکلاء کی ہڑتال سے انتظامیہ اور پولیس خوش ہوتی ہے وکلاء کو ہڑتالوں کے کلچر سے جان چھڑانا ہو گی تاکہ لغت سے وکلاء گردی جیسے الفاظ کا خاتمہ ممکن ہو۔ جو جج پبلک سروس نہیں کر سکیت وہ گھر جا سکتے ہیں‘ کسی جج کیخلاف شکایت آئی تو وہ عدالت میں نہیں بیٹھے گا۔