کشمیر کاررواں 19 جولائی کو لاہور سے روانہ، 20 کو اسلام آباد میں جلسہ ہو گا: حافظ سعید

17 جولائی 2016

لاہور (سپیشل رپورٹر) امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کشمیر میں بھارتی ظلم و دہشت گردی کیخلاف 19جولائی کو لاہور سے اسلام آباد تک کشمیر کارواں کا اعلان کیاہے جو 20جولائی کو اسلام آباد پہنچے گاجہاں ڈی چوک پر ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل عام کیلئے کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ ہندوستان سے ہر قسم کے سفارتی وتجارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔ پاکستان فی الفورسلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر اس مسئلہ کو اٹھائے۔ غذائی قلت پر قابو پانے کیلئے فلاح انسانیت فائونڈیشن کشمیری عوام کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ مظلوم کشمیریوں کو راشن اورادویات پہنچانے کے علاوہ ڈاکٹرز کی ٹیمیں بھجوانے کی بھی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ بھارت کی طرح امریکہ بھی کشمیریوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی چینلز کی نشریات بند کر کے انڈیاکشمیریوں کی آواز دبانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں بھی بھارتی چینلز اور فلموں پر پابندی لگائے۔ پاکستانی قوم کشمیر کارواں میں بھرپور انداز میں شریک ہو۔ مسلم ممالک اور چین کو ساتھ ملا کر کشمیریوں کیلئے مضبوط آواز بلند کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز القادسیہ چوبرجی میں مسئلہ کشمیرکی تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک گیر تحریک پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔ اس بڑے قافلے کو منظم کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، یہ دنیا اور اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں پاکستان کے عوام، تاجروں اور سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیر کارواں میں شریک ہو کر پیغام دیں کہ پاکستان کشمیریوں کی حالت زار کو محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حریت رہنما شبیر شاہ نے ٹیلی فون پر مجھے بتایا، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے دس منٹ کی گفتگو میں سات منٹ آنسو بہائے اور بتایا مقبوضہ کشمیر میںغذائی قلت شدید ہے،دوائیاں نہیں مل رہیں، ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ لوگ ڈر رہے ہیں کہ جو ہسپتال جائے گا بھارتی فوج اسے مار ڈالے گی۔ ان حالات میں ہمیں ان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔ بھارت کو تو نواز شریف کے کشمیر سے متعلق بیان سے بھی تکلیف ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب مسئلہ بہت آگے جا چکا ہے۔ ہمیں کھری کھری بات کرنی چاہیے۔ برہان وانی کی لاش کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کا دفن کیا گیا۔ تین لاکھ لوگ جنازے میں شریک ہوئے۔ پہلے جو پاکستانی پرچم اٹھاتا تھا وہ چہرہ چھپاتا تھا اب ایسا نہیں، کشمیری قربانی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں بھی کچھ سوچنا چاہئے۔ بھارتی آرمی نے بربریت کی نئی تاریخ رقم کی، زخمیوں کو ہسپتالوں میں گھس کر گولیاں ماریں اور شہید کیا ایسا واقعہ تاریخ میں نہیں ملے گا۔ فی الفور بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں، دنیا کو مضبوط پیغام دیا جائے کہ پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے، بیانات سے کچھ نہیں ہو گا۔