کرپٹ حکمرانوں سے لوٹ مار کا حساب مانگنا جمہوریت کیخلاف سازش نہیں: طاہر القادری

17 جولائی 2016

مڈلینڈز/ لاہور (خصوصی رپورٹر) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ہر سال 20ارب ڈالر اپنے ملک بھجوانے والے محب وطن اوورسیز پاکستانی کرپٹ اور جھوٹے حکمرانوں کا محاسبہ کریں اور پوچھیں کہ ہم خون پسینے کی جو کمائی پاکستان بھجواتے ہیں وہ پانامہ کی آف شور کمپنیوں سے ہوتے ہوئے لندن اور سوئس اکائونٹس کا حصہ کیوں بن جاتی ہے؟ پاکستان کو ایماندار اور سچ بولنے والی قیادت کی ضرورت ہے، لوڈشیڈنگ کو ختم اور کشکول توڑنے کے جھوٹے دعوئوں سے شروع ہونے والا حکومتی سفر پانامہ لیکس کے جھوٹے احتساب تک آگیا۔ کرپٹ حکمرانوں سے ان کی لوٹ مار کا حساب مانگنا ہرگز ہرگز جمہوریت کے خلاف سازش نہیں ہے بلکہ اب عوامی احتساب سے ہی قانونی احتساب کا راستہ کھلے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مڈلینڈز برطانیہ میں عوامی تحریک کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سربراہ عوامی تحریک نے کہاکہ جب ملک اور قومیں مشکل میں گھرتی ہیں تو اس وقت حکمران سچ بول کر حالات کا مقابلہ اور قوم کا اعتماد حاصل کرتے اور ملک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں مگر پاکستان میں صورت حال برعکس ہے۔ حکمران جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ کا زہر قومی سیاسی جسم کی رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے۔ وزیراعظم نے دو بار قوم سے خطاب کرتے ہوئے اور ایک بار پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے خود کو اور اپنے خاندان کو پانامہ لیکس کے حوالے سے احتساب کیلئے پیش کیا مگر جب ٹی او آرز بنانے کی بات ہوئی تو وہ اپنے وعدوں اور دعوئوں سے منحرف ہو گئے۔