جنرل راحیل اور کورکمانڈرز کی مدت ملازمت میں اضافہ کیا جائے:جسٹس(ر) وجیہہ

17 جولائی 2016
جنرل راحیل اور کورکمانڈرز کی مدت ملازمت میں اضافہ کیا جائے:جسٹس(ر) وجیہہ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سینئر قانون دان جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو ایک سال کی توسیع دی جائے جبکہ دیگر کورکمانڈرز کی مدت ملازمت میں بھی ایک سال کا اضافہ کردیا جائے تاکہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے وقت انکے نام اپنی سینیارٹی کے لحاظ سے فوج کے سربراہ کیلئے زیرغور آسکیں۔ اگر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کی گئی تو پھر کسی جونیئر افسر کو مسلط کرنے کی بجائے فوج سے تین جنرلز کے نام مانگے جائیں۔ سول سوسائٹی کے ممبران ڈاکٹر فرید ملک، ڈاکٹر ایم ایس شفیق اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کچھ بھی کہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت اور فوج بیشتر پالیسیوں میں ایک پیج پر ہیں۔ چین کیساتھ اقتصادی راہداری منصوبہ، امریکی پالیسی ضرب عضب اور خطے کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں انڈرسٹینڈنگ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود حکومت کا ترکی کی حکومت سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ترکی والے حالات پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں تو عوام حکومت کیلئے کبھی بھی سڑکوں پر نہیں آئیگی کیونکہ حکومت نے عوام کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک یہ بھی آپشن ہے کہ سروسز چیف کی مدت ملازمت 4 سال کردی جائے۔ اس کیلئے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ آرمی ایکٹ کے ذریعے بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے مجوزہ ٹی او آر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فریقین اس لئے ٹی او آر نہیں بنا سکے کیونکہ آپریشن کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں منتخب اور مقبول حکومتوں کو سازشوں کے ذریعے ختم کیا گیا۔ ہماری حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ عوام میں غیر مقبول ہے۔