جنابِ زرداری کے خلاف ’’لندن پلان؟‘‘

17 فروری 2015

 14 فروری کو راولپنڈی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا ’’ہم عوام کی توقعات پر پُورا نہیں اُتر سکے۔ ہماری حکومت محض دعوئوں تک محدُود ہے۔ لیکن ہمارا ’’قِبلہ درُست ہے‘‘ اور 15 فروری کو امیرِ جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق نے لاہور میں کہا کہ ’’اگر حُکمرانوں کا قِبلہ واشنگٹن رہا تو مُلک ترقی نہیں کرے گا۔‘‘
’’گوشۂ قِبلۂ حاجات؟‘‘
 جناب سراج اُلحق کی طرف سے واشنگٹن کو حُکمرانوں کا قِبلہ قرار دینے کے فوراً بعد خبر ہے کہ ’’چودھری نثار علی خان منگل کو (آج) دو روزہ دَورے پر واشنگٹن جا رہے ہیں۔‘‘ سالہا سال سے واشنگٹن ہی ہمارا قِبلہ رہا ہے۔ سیاسی/ مذہبی جماعتیں اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر ’’ملحد‘‘ سوویت یونین کے ٹوٹنے تک ’’مُنہ طرف واشنگٹن شریف‘‘ کر کے نمازِ عِشق ادا کرتی رہی ہیں تو ’’شریف حکومت‘‘ پر اعتراض کیوں؟ وائٹ ہائوس کے مکِیں ’’قِبلہ ٔ عالم‘‘ کی اقتداء میں افغان جہاد میں ان سب نے اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) فوجیوں کے شانہ بشانہ ’’غازی اور شہید‘‘ کا تقدر عام کِیا۔ جب وائٹ ہائوس کا مکِیں ’’قِبلۂ عالم‘‘ہو اور ’’قِبلہ حاجات‘‘ ہو تو حاجت مند ’’گوشۂ قِبلۂ حاجات‘‘ کے در پر کیوں جائیں؟
’’مولانا فضل اُلرحمن دی ’’واری؟‘‘
جناب عمران خان نے وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر ٗ گِلگت و بلتستان چودھری برجیس طاہر کو گِلگت و بلتستان کا گورنر بنائے جانے کوقبل از دھاندلی قرار دِیا ہے۔ حالانکہ اِس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدگی نظر آتی ہے۔ برجیس طاہر صاحب کو گورنر بنانے کا یہ فائدہ ہُوا کہ امورِ کشمیر سے اُن کی اور وزارتِ امورِ کشمیر کی اِن سے جان چھُوٹ گئی ہے۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو بھی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شِپ سے آزاد کر کے انہیں صُوبہ خیبر پی کے کا گورنر بنا دِیا جائے گا۔ جناب عمران خان جناب وزیراعظم سے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ’’میاں صاحب! ’’ساڈی واری وی آن دیو!‘‘ لیکن میاں صاحب مان کر نہیں دے رہے۔ البتہ موصوف مولانا فضل الرحمن کو بِن مانگے سب کچھ دے دیتے ہیں۔ عبدالحمید عدم ؔ نے کہا تھا       ؎
’’اِرشاد کر کے میری عقیدت کا خُوں نہ کر!
کیا کچھ نہیں کِیا ترے اِرشاد کے بغیر‘‘
مجھے یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بعد جناب وزیرِاعظم کسی ایسی شخصیت و چیئرمین کشمیر کمیٹی مقرّر کریں گے جو نئے وفاقی وزیر امورِ کشمیر کے شانہ بشانہ جنابِ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح مقبوضہ کشمیرکے عوام کو آزادی دِلوانے کے لئے بھارت سے ایک ہزار سال تک جنگ کرنے کا (کم از کم ) اعلان ضرور کرے گا۔ جناب عمران خان ! ٗ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ گورنر خیبر پی کے کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن کی ’’واری بھی آنے دیں‘‘ لیکن اندیشہ اِس بات کا ہے کہ کہیں     ؎
’’جدوں آئی مِرزے دی واری
 تے ٹُٹّ گئی تڑّک کر کے‘‘
کا معاملہ نہ ہو جائے؟
جنابِ زرداری کے خلاف ’’لندن پلان؟‘‘
کراچی کے بلاول ہائوس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سیکرٹریٹ بند کر دِیا گیا ہے۔ سیکرٹریٹ شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری نے بند کرایا یا کسی اور نے؟ فی اِلحال راوی خاموش ہے۔ بلاول بھٹو کافی عرصہ سے لندن میں ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے یومِ تاسیس، محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی، جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ اور اپنے والدِ محترم جنابِ آصف زرداری کو قبیلے کا سردار مُنتخب کئے جانے کی تقریب سے غیر حاضر تھے۔ لیکن جب بھی اخبارات میں جناب ِزرداری اور بلاول بھٹو میں اختلافات کی خبریں منظرِ عام پر آتی ہیں تو پیپلز پارٹی کے اکابرین اُن کی تردِید کر دیتے ہیں۔
30 نومبر کو لاہور میں جناب بھٹو کے دو اڑھائی سو دوستوں اور عقیدت مندوں نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تو جنابِ بھٹو کو اُس کا چیئرمین مُنتخب کر لِیا تھا۔ چیئرمین بھٹو نے  4اپریل 1979ء کو پھانسی پانے تک پارٹی میں انتخابات نہیں کرائے تھے۔ انہوں نے نواب محمد احمد خان کے مقدمۂ قتل میں گرفتار ہونے سے پہلے اپنی اہلیہ بیگم نُصرت بھٹو کو چیئرپرسن نامزد کردِیا تھا۔ بعد ازاں بیگم صاحبہ نے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو شریک چیئرپرسن نامزد کر دِیا (حالانکہ پارٹی کے دستُور میںشریک چیئرپرسن کا عہدہ نہیں تھا)۔ وزیرِاعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے دسمبر 1993ء میں چیئرپرسن بیگم نُصرت بھٹو کی غیر موجودگی میں پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے اجلاس میں موجود کمیٹی کے 31 نامزد ارکان سے متفقہ فیصلہ کرایا اور اپنی والدۂ محترمہ کو برطرف کر کے خُود چیئرپرسن کا عہدہ سنبھال لِیا اور شریک چیئرپرسن کا عہدہ ہی ختم کر دِیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زِندگی میں اپنے شوہرِ نامدار کو کوئی عہدہ نہیں دِیا تھا۔ جنابِ زرداری نے اپنی اہلیہ کے قتل کے بعد (اُن کی مبیّنہ وصِیّت کے مطابق) خُود شریک چیئرمین کا عہدہ سنبھال لِیا اور اپنے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول زرداری کو ’’بھٹو‘‘ کا خطاب دے کر چیئرمین نامزد کر دِیا۔ (جِس کا اُس وقت قومی شناختی کارڈ بھی نہیں بنا تھا)۔ 2002 ئ، 2008ء اور 2013ء میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنیٹرینز (پی پی پی پی) جِس کے چیئرمین مخدوم امین فہیم ہیں نے حِصّہ لِیا تھا، 6 فروری 2013ء کو صدرِ زرداری کے خلاف دو عہدوں سے متعلق توہین عدالت کا کیس زیرِ سماعت تھا تو وفاق کے وکیل جناب وسیم سجاد نے یہ مؤقف اختیار کِیا تھا کہ ’’صدر زرداری جِس پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین ہیں وہ سیاسی جماعت نہیں ہے اور اِس وقت جِس پارٹی کی حکومت ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹینرینز (پی پی پی پی) ہے جِس کے چیئرمین مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل راجا پرویز اشرف ہیں۔
جناب زرداری نے ’’غیر سیاسی پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ (پی پی پی) کی چیئرمین شِپ چھوڑ دی اور 11 مئی 2013ء کے عام انتخابات میں خاموش رہے لیکن صدارت سے سبکدوش ہونے کے فوراً بعد اُنہوں نے شریک چیئرمین کا عہدہ سنبھال لِیا۔ اِس وقت صُورت یہ ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخدوم امین فہیم کی پارٹی کے مُنتخب ارکان ہیں۔ صوبہ سِندھ میں بھی مخدوم صاحب کی پی پی پی پی ہی اقتدار میں ہے لیکن پارٹی اور صوبہ سِندھ کی حکومت کے بارے میں تمام فیصلے جناب آصف زرداری کرتے ہیں اور جب چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی کے معاملات میں مداخلت شروع کی تو باپ بیٹے میں اختلافات ہو گئے جو بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ یہاں تک باپ کے حُکم سے بیٹے کا سیکرٹریٹ ہی بند کر دِیا گیا ہے؟ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جناب ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد کہا تھا کہ  ’’مجھے چاند میں پاپا نظر آتے ہیں۔‘‘ اگر نواسۂ بھٹو چیئرمین بلاول کو بھی نانا سائِیں چاند میں نظر آتے ہوں تو جنابِ بھٹو نے اُن سے یہ بھی گِلہ کِیا ہوگا کہ ’’تُم سب لوگوں نے مِل کر میری پارٹی کا کیا حشرکر دِیا ہے؟‘‘ مخدوم امین فہیم اور جناب ذوالفقار مِرزا پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو منانے کے لئے لندن گئے ہیں یا ورغلانے کے لئے؟ بیٹی (محترمہ بے نظیر بھٹو) نے ماں (بیگم نُصرت بھٹو) کو برطرف کر دِیا تھا۔ اِس بار بیٹا چیئرمین بلاول اپنے ’’بابا سائِیں‘‘ کو برطرف کرے گا؟ یا باپ اپنے بیٹے کو؟ کہیں جناب آصف زرداری کے خلاف کوئی نیا لندن پلان تو نہیں بن رہا ہے؟