کراچی میں امن کیلئے پولیس کو غیر سیاسی بنایا جائے‘ تقرر تبادلے ایپکس کمیٹی کرے: آرمی چیف

17 فروری 2015

کراچی (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ سیاسی اتفاق رائے سے کراچی کے امن کو پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ کراچی میں قیام امن کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ رینجرز کے آپریشن سے کراچی میں امن قائم ہوا تاہم قیام امن کیلئے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی کا ملکی معیشت میں بہت بڑا حصہ ہے، پورے ملک کی خوشحالی کراچی کے امن سے منسلک ہے، یہاں امن بہت ضروری ہے، امن و امان بحال کرنے کیلئے کارروائی کو بامعنی بنانا ہو گا، اس حوالے سے جو اہداف مقرر کئے گئے ہیں انہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ رینجرز ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کراچی آپریشن مذہبی، سیاسی، لسانی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر جاری رکھا جائیگا، سیاسی اتفاق رائے سے کراچی کے امن کو پائیدار بنایا جا سکتا ہے، امن کیلئے پولیس کو مکمل بااختیار اور غیر سیاسی بنایا جائے، رینجرز آپریشن سے استحکام آیا ہے، کراچی میں امن کیلئے کسی بھی حد تک بھی جائیں گے۔ کراچی میں امن کیلئے پولیس میں مداخلت بند اور تعیناتی ایپکس کمیٹی کے ذریعے کی جائے۔ سیاسی قوتوں کو کراچی میں مستقل امن کیلئے سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے، سیاسی مصلحت کے تحت جانبدارانہ فیصلے نہیں کئے جا سکتے، مذہبی، سیاسی، لسانی اور علاقائی تفریق سے بالاتر ہو کر کراچی آپریشن جاری ہے، بلا امتیاز کارروائی سے ہی مجرموں کا خاتمہ ممکن ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے آرمی چیف کو کراچی میں جاری آپریشن پر بریفنگ دی اور آرمی چیف کو آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والا اسلحہ دکھایا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کراچی آپریشن میں رینجرز کی کارکردگی کی سراہا اور امید ظاہر کی کہ رینجرز کو کراچی میں جاری آپریشن میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی، رینجرز کراچی میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیگی۔ بی بی سی کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے نتائج کو سراہا۔ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کراچی میں جاری آپریشن کے دوران رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ جنرل راحیل نے کہا کہ فوج کراچی میں امن کی بحالی کیلئے جاری آپریشن میں مدد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ کراچی میں مجرموں کیخلاف آپریشن کسی نسلی، سیاسی اور مذہبی امتیاز اور فرقے کا خیال کیے بغیر شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔ بی بی سی کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے برعکس فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کمیٹی کے اجلاس میں کھل کر خیالات کا اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ کراچی میں کسی امتیاز کے بغیر تمام مجرموں کیخلاف لسانی، سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی کرنا ہوگی۔ سیاسی قوتوں کو مستقل امن کیلئے جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے۔ پولیس کو غیر سیاسی فورس بنا کر سیاسی مداخلت بند کرنی چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی میں آپریشن سے امن کی فضا بحال ہوئی، مستقل امن کیلئے سیاسی قوتیں اپنا کردار ادا کریں انہیں سیاست سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہو گا۔ تمام سٹیک ہولڈرز کا وسیع تر اتفاق رائے کراچی کے امن کیلئے ضروری ہے۔ پولیس کی تقرریاں اور تبادلے ی کسی مداخلت کے بغیر ایپکس کمیٹی کے ذریعے کئے جائیں۔ قبل ازیں میجر جنرل بلال اکبر نے بتایا کہ کراچی آپریشن کے دوران جدید ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ کراچی میں امن کی مکمل بحالی کے لئے تعاون جاری رہے گا اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ آرمی چیف نے کراچی میں امن کی بحالی کے لیے کام کرنے والے تمام اداروں کی تعریف کی۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ کراچی میں امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔کراچی آپریشن سے امن اور استحکام کی فضا بحال ہوئی ہے۔ ملزموں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے۔  ادھرآرمی چیف جنرل راحیل شریف سے امریکی معاون وزیر دفاع مائیکل وکرزنے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ امور کے علاوہ دفاعی معاملات بھی زیربحث آئے۔ ملاقات میں خطے اور افغانستان  کی صورتحال کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی معاون وزیردفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی مسلح افواج کا کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی ہرممکن حمایت جاری رکھے گا۔